اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو امن، عدل اور بھلائی کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں بارہا زمین میں فساد پھیلانے کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور معاشرتی بگاڑ کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ فساد فی الارض سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو انسانی زندگی، معاشرے اور اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچائیں، جیسے ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، دھوکہ دہی اور بدامنی پھیلانا۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو ۔(سورۃ الاعراف: 56)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایک متوازن اور پرامن نظام کے ساتھ پیدا فرمایا، اور انسان کو اس کا نگہبان بنایا۔ لیکن جب انسان اپنی خواہشات کے پیچھے چل کر اس توازن کو بگاڑتا ہے تو وہ فساد کا مرتکب ہوتا ہے۔ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 11)

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنے برے اعمال کو اچھائی کا نام دے کر دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ درحقیقت معاشرے کے لیے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ وہ فساد کو اصلاح کے پردے میں چھپاتے ہیں۔

قرآنِ مجید میں فساد پھیلانے والوں کے انجام کے بارے میں بھی سخت وعید آئی ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز العرفان: بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ القصص: 77)

یہ اعلان اس بات کی دلیل ہے کہ فساد اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے اور ایسے لوگ دنیا و آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات ہمیں امن، بھائی چارے اور انصاف کا درس دیتی ہیں۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف خود فساد سے بچے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکے۔ معاشرے میں امن قائم کرنے، حق و انصاف کو فروغ دینے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے سے ہی ہم ایک مثالی اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ فساد فی الارض نہ صرف ایک گناہ ہے بلکہ یہ انسانی بقا کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہمیں قرآنِ مجید کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں اور معاشروں کو فساد سے پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور دنیا میں امن و سکون قائم ہو۔