قرآن پاک وہ جامع کتاب ہے جس میں اگلو اور پچھلوں سب کی ہدایت کا سامان ہیں قرآن کریم میں فساد سے بچنے کے کئی پہلو موجود ہیں معاشرے میں روز نت نئے فساد رونما ہوتے ہیں ان میں سے ایک زمین میں فساد کرنا بھی ہے اور ساتھ ہی اسکو اصلاح کا نام دے دیتے ہیں ، قرآنِ پاک میں اسکی مذمت اس طرح کی:

(1) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ، آیت 12،11)

بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔بعض لوگ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ صرف دنیا میں فساد قتل و غارت اور چوری ڈکیتی سے ہی ہو سکتا ہے بلکہ ایسا نہیں ہے ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں اسکی مثال قرآن پاک میں اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے کردار سے دی۔

(2)وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃالبقرۃ، آیت 205،204)

یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 204، 1 / 144،145)

اسی طرح یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا بعض لوگ اشیاء کو کم تول کر بھی زمین پر فساد پھیلاتے ہیں اور ان کی مذمت کے لیے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:

(3)وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے میری قوم !انصاف کے ساتھ ناپ اور تول پوراکرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ اللہ کا دیا ہوا جو بچ جائے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔ (سورۃھود آیت 85)

مذکورہ آیات سے یہ معلوم ہو گیا کہ بعض لوگ فساد کو اصلاح کا نام دے کر یا میٹھی باتیں کر کے یا ناپ تول میں کمی کر کے فساد پھیلاتے ہیں لیکن بعض لوگ تو ایسے جری ہوتے ہیں کہ وہ صراحتا فساد کرتے ہیں اُن میں نہ خوف خدا نہ شرم نبی ہے بے جھجک ظلم و ستم کر کے زمین میں فساد کرتے ہیں اس کی مذمت قرآن پاک میں اس طرح ہوئی:

(4)اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۴۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورۃ الشوریٰ، آیت 42)

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ: گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ یعنی گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جو ابتداء ً لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور تکبُّر اور گناہوں کا اِرتکاب کرکے اور فساد برپا کر کے زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ،ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔(مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: 42، ص1091، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: 42، 4 / 99، ملتقطاً)

جس طرح قرآنِ پاک میں فساد فی الارض کی مذمت آئی ہے اسی طرح اس فساد سے بچنے والوں کے لیے آخرت کے گھر کی خوشخبری عطا کی اور ساتھ ہی ان کو پرہیزگاروں کا نام عطا کیا اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔ (سورۃ قصص، آیت 83)

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر۔ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ : 83 ، 6 / 438 ، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: 83، 7 / 240، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)

فساد فی الارض کا معاملہ صرف یہیں پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس کی اور بھی بہت سی صورتیں دنیا میں موجود ہیں

اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں اس قبیح گناہ یعنی فساد فی الارض سے محفوظ فرمائے آمین۔