قرآن کریم اللہ تبارک و تعالی کی وہ مقدس کتاب ہے کہ جسے نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر نازل فرمایا گیا اس کتاب میں ابتداء دنیا سے لے کر انتہاء دنیا تک کے سارے مسائل کو ذکر کیا گیا ہے خاص طور پر انسانی زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی موجود ہے ۔ایک مسلمان پر لازم ہے اور اس کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کی رضا والے کام کرے اور ان کاموں سے بچتا رہے کہ جنہیں اللہ تبارک و تعالی اور اس کے نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ منع فرمانے والے کاموں میں سے ایک کام فساد فی الارض بھی ہے جس کی اللہ تبارک و تعالی نے مذمت فرمائی ہے۔اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:آیت 11،12)

یہ آیت اللہ تبارک و تعالی نے ان لوگوں کے بارے میں نازل فرمائی کہ جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور جب مومنین انہیں یہ کہتے ہیں کہ تم زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ اتراتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ ہم تو فساد نہیں پھیلاتے بلکہ ہم تو لوگوں کی اصلاح کر رہے ہیں۔منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔( تفسیر صراط الجنان)

اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے :وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔(سورۃالبقرۃ:204،205)

یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۱ / ۱۴۴،۱۴۵)

یہاں مجموعی طور پر جو خرابیاں بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں :

(1)ظاہری طور پر بڑی اچھی باتیں کرنا، (2)اپنی غلط باتوں پر اللہ کو گواہ بنانا، (3)جھگڑالو ہونا، (4)فساد پھیلانا، (5)لوگوں کے اموال برباد کرنا، (6)نصیحت کی بات سن کر قبول کرنے کی بجائے تکبر کرنا ۔

یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔( تفسیر صراط الجنان)

اسلام امن اور بھلائی والا دین ہے اور یہ عدل اور انصاف کی تلقین کرتا ہے دنیا کے اندر فساد پھیلانا اللہ تبارک و تعالی کی نافرمانی اور جرم ہے ایک مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کی فرمانبرداری کریں اور زمین میں فساد نہ پھیلائے ۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے اور دوسروں سے بھی محبت کا تعلق قائم رکھیں اور جھگڑا اور فساد نہ کریں۔