محمد
مبین عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی ،پاکستان)
دین اسلام
کامل ہے اور اس کے کامل ہونے کی ایک نشانی یہ ہے کہ بندے کو کیا کام کرنا ہے اور کیا
نہیں کرنا، اسلام ہر لمحے اس بات کی رہنمائی کرتا ہے۔ اور وہ چیزیں جن سے اسلام نے
منع کیا ہے، ان میں سے ایک فساد فی الارض ہے، یعنی زمین میں فساد کرنا ہے۔ قرآن و
حدیث میں اس کی مذمت اور ممانعت آئی ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاً کفر کرنا،
اسلام کے وہ نظریات جو مسلم ہیں اور ان کا تعلق ضروریات مذہب اہل سنت سے ہے، ان کا
انکار اور اس کی ترویج و اشاعت، ڈاکہ زنی، شراب نوشی، فحاشی عریانی اور اس کی ترویج
کے لیے نت نئے حیلے بہانے اور ایسی ویبسائٹ کا قیام، اور دیگر فسق و فجور کے اعمال
و افعال۔
اللہ
عزوجل قرآن عظیم میں ارشاد فرماتا ہے:
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا
لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ
الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے
ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔ (سورۃ
القصص، آیت نمبر 83)
ارشاد
فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے،
اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے
ہیں اور نہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے
ہیں اور آخرت کا اچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔(روح البیان، القصص، تحت الآیۃ:
83، 6/438، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: 83، 7/240، الجزء الثالث عشر)
مزید اس
کے بعد مفتی اہل سنت مفتی قاسم صاحب (اطال اللہ عمرہ) فرماتے ہیں:اس آیت سے معلوم
ہوا کہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا اتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی
عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و
سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت
و شان والی نعمت پا سکتا ہے۔اللہ ہمیں فساد فی الارض جیسے ممنوع و مذموم فعل کے
ارتکاب سے محفوظ فرمائے اور ایسے وقت میں کہ جب فساد فی الارض عام ہے ایک مسلمان
کو چاہیے کہ دینی احکام پر عمل پیرا رہے اور حضور خاتم النبیین ﷺ کی سنت کو مضبوطی
سے تھامے رہے۔
حضور ﷺ کا
فرمان عالی شان ہے:عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَمَسَّکَ
بِسُنَّتِیْ عِنْدَ فَسَادِ أُمّتِیْ فَلَہُ أَجْرُ مائَۃِ شَھِیْدٍترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے میری امت
کے بگڑتے وقت میری سنت کو مضبوط تھاما تو اسے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔(مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 1، حدیث نمبر 176)
Dawateislami