شہزاد
رسول عطاری(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی ،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پر بھیجا اپنا نائب مقرر فرمایا اور اسے
حکم دیا کہ وہ زمین میں امن و سکون سلامتی قائم کرے، عدل و انصاف کو اپنائے اور ہر
قسم کے فساد سے بچے لیکن جب انسان اللہ تعالیٰ کے احکام سے منہ موڑتا ہے تو وہ زمین
میں فساد پھیلانے لگتا ہے، جس کی قرآنِ مجید میں سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔فساد فی
الارض سے مراد ہر وہ عمل ہے جو زمین میں بگاڑ، ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، دھوکہ
بازی اور گناہوں کو عام کرنا ہے اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگ ہرگز پسند نہیں۔
چنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:
(1) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(پارہ 8،
سورۃ الاعراف، آیت 56)
اس آیت
مبارکہ میں واضح طور پر انسان کو بتایا گیا ہے کہ وہ زمین میں ہر گز فساد پیدا نہ
کرے بلکہ اس کی اصلاح میں حصہ لے۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(2) وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (پارہ 6،
سورۃ المائدۃ، آیت 64)
یہ آیت ہمیں
بتاتی ہے کہ فساد کرنے والے اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں جو کہ ایک
بہت بڑی محرومی ہے۔اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
(3) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ
ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان
برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں۔(پارہ 21، سورۃ الروم، آیت 41)
اس آیت میں
بتایا گیا ہے کہ دنیا میں جو فساد پھیل رہا ہے وہ دراصل انسان کے اپنے کیے ہوئے
اعمال کا نتیجہ ہے۔
آج کے دور
میں فساد کی کئی صورتیں ہمارے سامنے ہیں، جیسے جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، رشوت
لینا، دوسروں کے حقوق غصب کرنا، ظلم کرنا اور معاشرے میں بدامنی پھیلانا، برے
اعمال کرنا وغیرہ یہ سب اعمال اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں اور معاشرے کی تباہی و
بربادی کا سبب بنتے ہیں۔قرآنِ کریم ہمیں بار بار اصلاح کا درس دیتا ہے۔ ہمیں بتاتا
ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کردار کو درست کریں، سچائی اور دیانت داری کو اپنائیں
اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ اگر ہر فرد اپنی اصلاح کر لے تو پورا معاشرہ
امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔اور ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ فساد فی الارض ایک بہت بڑا
جرم اور بڑا گناہ ہے۔ ہمیں ہر حال میں اس سے بچنا چاہیے اور نیکی، بھلائی اور
اصلاح کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دینا چاہیے ۔اللہ
تعالیٰ ہمیں فساد سے بچنے اور زمین میں امن و سلامتی پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
Dawateislami