محمد
ہارون عطاری(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
فساد فی
الارض انتہائی مذموم چیز ہے ،جس کی وجہ سے انسان دنیا میں بھی خسارہ اٹھاتا ہے اور
آخرت میں بھی خسارہ اٹھاتا ہے ، اللہ پاک نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر فساد فی
الارض کی مذمت بیان فرمائی ، اور انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ
نے جن مقاصد کیلئے دنیا میں مبعوث فرمایا ان میں سے ایک مقصد فساد فی الارض کو ختم
کرنا بھی تھا ، چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم میں اس سے منع کرتے ہوئے
ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَا
تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ
طَمَعًاؕاِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس
سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے۔(سورۃ
الاعراف:56)
صراط
الجنان:یعنی اے لوگو! انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے تشریف لانے ، حق کی
دعوت فرمانے، احکام بیان فرمانے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک،
گناہ،اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔اس تفسیر سے معلوم ہوا کہ فساد
فی الارض کا ایک فرد ظلم کرنا بھی ہے لہذٰا ظلم کے متعلق اس کی تعریف ایک آیۃ کریمہ
اور احادیث مبارکہ پیش کی جاتی ہیں۔
ظلم کی
تعریف:حضرت امام شریف جرجانی علیہ الرحمہ ظلم کا معنی بیان کرتے ہیں کہ کسی چیز کو
اس کی جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھنا ظلم کہلاتا ہے ۔(التعریفات ، باب الظاء، ص 102)
البتہ شریعت
میں ظلم سے مراد ہے کسی کا حق مارنا ، کسی چیز کو غیر محل میں خرچ کرنا ، کسی کو
بغیر قصور کے سزا دینا وغیرہ ظلم کہلاتا ہے ۔(مرآۃ المناجیح، ج 6، ص 669)
ظلم کی مذمت قرآن مجید سے:
وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا
یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ
الْاَبْصَارُۙ
کنزالایمان:اور
ہرگز اللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے
دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔(پارہ 13، سورۂ ابراہیم، آیۃ
42)
اس آیت
کریمہ میں گویا کہ ہر مظلوم کو تسلی اور ہر ظالم کو وعید سنائی گئی ہے، گویا اس
مقولے کی طرف اشارہ بھی ہے کہ خدا کے ہاں دیر تو ہے اندھیر نہیں ۔
ایک طرح
سے دیکھا جائے تو اس آیت کے قارئین کو سمجھایا جارہا ہے کہ !تم یہ نہ سمجھنا کہ
اللّٰہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو سزا نہیں دے گا، اور نہ ہی ان سے عذاب مؤخر ہونے
کی وجہ سے غمزدہ ہونا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں بغیر عذاب کے صرف ایک ایسے دن کیلئے
ڈھیل دے رہا ہے جس میں دہشت کے مارے آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
ظلم کی
مذمت احادیث کریمہ سے:حضرت سیِّدُناابُوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ
سےروایت ہے نبیِ کریم،رؤفٌ رَّحیم ﷺ نے فرمایا:بےشک اللہ پاک ظالم کو مُہلَت دیتا
ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھر اس کونہیں چھوڑتا ۔( بخاری، ۳/۲۴۷، الحدیث: ۴۶۸۶)
نبی کریم،رؤفٌ
رَّحیم ﷺ نے فرمایا:ظلم اور قطع رحمی(یعنی رِشتے داری ختم کرنا) کے علاوہ کوئی
گناہ ایسا نہیں، جس کے مُرْتَکِب (یعنی کرنے والے) کو اللہ پاک آخرت میں سزا دینے
کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرتا ہو۔(سنن الترمذی ، ۴/۲۲۹، الحدیث:۲۵۱۹)
لہذا اس
مضمون کے ہر قاری و سامع لازم ہے کہ خود بھی فساد فی الارض خصوصاً ظلم کرنے سے بچے
اور اس کیلئے سد باب کی سعی کامل کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فساد فی الارض سے بچنے اور
عدل و انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔
Dawateislami