فساد فی الارض ایک نہایت اہم اور حساس موضوع ہے جس کا تعلق براہِ راست انسانی معاشرے کے امن و سکون سے ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے دور ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، جو رفتہ رفتہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ یہی بگاڑ "فساد فی الارض"کہلاتا ہے، جو ظلم، ناانصافی، بددیانتی اور بدامنی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بارہا فساد پھیلانے والوں کی مذمت فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمۂ کنز الایمان: اور زمین میں فساد کےلیے دوڑتے پھرتے ہیں اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا ۔(المائدۃ آیت ٦٤)

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور بناؤ نہیں کرتے۔ (الشعراء آیت ١٥٢)

یعنی حد سے بڑھنے والے وہ ہیں جو کفر، ظلم اور گناہوں کے ساتھ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اورایمان لا کر، عدل قائم کرکے اور اللہ تعالٰی کے فرمانبردار ہو کر اصلاح نہیں کرتے۔ اس کامعنی یہ ہے کہ بعض فساد پھیلانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں اوران میں کچھ نیکی بھی ہوتی ہے،لیکن یہ ایسے نہیں بلکہ ان کا فساد مضبوط ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ تک نہیں ۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۳ / ۳۹۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۲،ص۸۲۷، ملتقطاً)

فساد کی کئی صورتیں ہیں چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:آیت 11)

اس کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے :اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

منافقین کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔(صراط الجنان جلد 1 البقرۃ الآیۃ 11ـ12)

حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کاختم ہو جانا ایک مسلمان کے ظلماً قتل سے زیاد سہل ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الدیات، باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلماً، ۳ / ۲۶۱، الحدیث: ۲۶۱۹)

فساد فی الارض معاشرے کی تباہی کا سبب ہے، جبکہ اصلاح، عدل اور نیکی اس کا علاج ہیں۔ ہر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ برائی سے بچے اور بھلائی کو فوقیت دے، تاکہ زمین پر امن و سکون قائم ہو سکے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر قسم کے فساد سے بچائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم۔