قرآن کریم
ایک ایسی کتاب ہے جو معاشرے میں امن، امان اور عدل و انصاف کے قیام پر زور دیتی ہے
اور ہر اس عمل کی سختی سے ممانعت کرتی ہے جو انسانی زندگی کے توازن کو بگاڑے۔
"فساد فی الارض" سے مراد زمین پر بدامنی پھیلانا، قتل و غارت، ظلم و
ستم، اور اللہ کی حدود کو پامال کرنا ہے۔
(1) فساد کی ممانعت اور اصلاح کا حکم:اللہ تعالیٰ
نے انسانوں کو زمین پر اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے اور
واضح فرمایا ہے کہ اصلاح کے بعد بگاڑ پیدا نہ کیا جائے۔
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ
الاعراف، آیت: 56)
وضاحت: اس
آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا اصل نظام "اصلاح" یعنی بہتری پر مبنی
ہے۔ جو شخص بھی گناہوں، ظلم یا نافرمانی کے ذریعے اس توازن کو بگاڑتا ہے، وہ درحقیقت
اللہ کی بنائی ہوئی خوبصورت دنیا میں فساد پھیلا رہا ہے۔
(2) مفسدین (فسادیوں) سے اللہ کی بیزاری:قرآن مجید
میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ وہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں
کرتا:وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (سورۃالمائدۃ،
آیت: 64)
وضاحت: جب
خالقِ کائنات کسی گروہ سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دے، تو یہ ان کی دنیاوی اور
اخروی ناکامی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ فساد اخلاقی ہو یا معاشی (جیسے ناپ تول میں کمی)،
اللہ کے نزدیک مردود ہے۔
(3) منافقین کا طرزِ عمل:قرآن کریم
نے ان لوگوں کی بھی نشاندہی کی ہے جو بظاہر اصلاح کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں
وہ فسادی ہوتے ہیں۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ
البقرۃ، آیت: 11،12)
وضاحت: یہ آیات منافقانہ رویے کو بے نقاب کرتی ہیں۔
آج کے دور میں بھی بہت سے فتنے "امن" اور "اصلاح" کا لبادہ
اوڑھ کر انسانیت کو نقصان پہنچاتے ہیں، قرآن نے صدیوں پہلے ان کے اس دھوکے کو چاک
کر دیا تھا۔
(4) فساد فی الارض کی دنیاوی سزا:اسلامی
قانون (شریعت) میں زمین پر بدامنی پھیلانے، دہشت گردی کرنے اور انسانی جان و مال
سے کھیلنے والوں کے لیے سخت ترین سزائیں مقرر کی گئی ہیں تاکہ معاشرہ محفوظ رہے۔
ارشاد
فرمایا:اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں ۔(سورۃ
المائدۃ، آیت: 33)
قرآنِ حکیم
کی روشنی میں فساد فی الارض ایک سنگین جرم ہے جو انسانیت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر
دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو امن کا گہوارہ بنانے کا حکم دیا ہے اور فساد پھیلانے
والوں کو دنیا میں ذلت اور آخرت میں دردناک عذاب کی نوید سنائی ہے۔ ایک سچے مسلمان
کا شیوہ یہ ہے کہ وہ معاشرے میں "مصلح" (اصلاح کرنے والا) بن کر رہے نہ
کہ "مفسد"۔
Dawateislami