شاہد
رضا عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو امن، عدل اور خیر خواہی پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس "فساد
فی الارض" یعنی زمین میں بگاڑ، ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، بددیانتی اور
اخلاقی تباہی کو قرآنِ کریم نے نہایت سخت الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ یہ مضمون قرآنِ
مجید کی آیات، صحیح احادیثِ نبویہ ﷺ اور بزرگانِ دین کے اقوال کی روشنی میں فساد فی
الارض کی مذمت پر تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے۔
فساد فی الارض کا مفہوم:"فساد" کے لغوی
معنی بگاڑ، خرابی اور نظام کا درہم برہم ہونا ہے۔ شرعی اصطلاح میں اس سے مراد ہر
وہ عمل ہے جو انسانی معاشرے کے امن، عدل اور اخلاقی اقدار کو تباہ کرے، جیسے: ظلم
و زیادتی، قتل و غارت، دھوکہ دہی اور کرپشن، فتنہ انگیزی، حقوق العباد کی پامالی۔
فساد کرنے والوں سے اللہ کی ناراضی :قرآنِ مجید
میں فساد کی مذمت پر ارشاد ہوا :
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (البقرۃ ۱۱ـ۱۲)
یہ آیت ان
لوگوں کی نشاندہی کرتی ہے جو اپنے غلط اعمال کو نیکی کا نام دیتے ہیں۔
ایک اور
مقام پر ارشاد فرمایا فساد اللہ کو ناپسند ہے:
وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ
فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد
ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (البقرۃ:۲۰۵)
یہاں واضح
کیا گیا کہ فساد صرف انسانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری سوسائٹی اور ماحول کو نقصان
پہنچاتا ہے۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے :اَنَّهٗ
مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا
قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمۂ کنز العرفان:
جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل
کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا ۔(المائدۃ:۳۲)
یہ آیت
انسانی جان کی عظمت اور فساد کی سنگینی کو بیان کرتی ہے۔
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ
فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد
برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں
سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا
(ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں
رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (المائدۃ:۳۳)
یہ آیت اس
بات کو ظاہر کرتی ہے کہ فساد ایک سنگین جرم ہے جس کی سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ ترجمۂ
کنزُالعِرفان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے
ہاتھوں نے کمائیں۔ (الروم:۴۱)
یہ آیت ہمیں
بتاتی ہے کہ دنیا میں بگاڑ کی اصل وجہ انسان کے اپنے اعمال ہیں۔
احادیثِ
نبویہ ﷺ میں بھی جا بجا فساد کی مذمت بیان ہوئیں چنانچہ احادیث درج ذیل ہے
مسلمان وہ ہے جس سے لوگ محفوظ رہیں:نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح
بخاری، حدیث: 10)
یہ حدیث
واضح کرتی ہے کہ فساد سے بچنا ایمان کا حصہ ہے۔
ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہے:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔(صحیح
مسلم، حدیث: 2578)
یہ حدیث
معاشرتی فساد اور انتشار سے بچنے کی تاکید کرتی ہے۔
بزرگانِ دین کے اقوال سے فساد کی
مذمت :
فساد کے اسباب:دین سے
دوری، ظلم اور ناانصافی، لالچ اور حرص، جہالت، اقتدار کا غلط استعمال۔
قرآن و حدیث
کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ فساد فی الارض ایک سنگین جرم اور اللہ تعالیٰ
کے غضب کا سبب ہے۔ اسلام ایک پرامن، عادل اور فلاحی معاشرہ قائم کرنے کی تعلیم دیتا
ہے، جہاں ہر فرد دوسرے کے حقوق کا احترام کرے۔ اگر ہم ان تعلیمات پر عمل کریں تو
نہ صرف فساد کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ بھی قائم ہو سکتا ہے۔
Dawateislami