محمد
جمشید(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
انسانی
معاشرہ امن، عدل اور بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، لیکن جب اس میں ظلم،
ناانصافی اور بدامنی پھیل جائے تو اسے قرآنِ مجید کی زبان میں "فساد فی
الارض" کہا جاتا ہے۔ اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو زمین میں امن و
سکون کو قائم رکھنے اور ہر قسم کے فساد سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ پاک میں
بار بار فساد پھیلانے والوں کی مذمت کی گئی ہے اور انہیں سخت عذاب کی وعید سنائی
گئی ہے۔
فساد فی
الارض صرف لڑائی جھگڑے یا قتل و غارت تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جو معاشرے کے
امن کو خراب کرے، دوسروں کے حقوق سلب کرے یا اخلاقی بگاڑ پیدا کرے، اس میں شامل
ہے۔ آج کے دور میں بھی مختلف شکلوں میں فساد ہمارے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے، جس
سے بچنے کے لیے قرآن کی تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔
مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ
فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمۂ کنزالایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے
بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔(سورۃ
المائدۃ،آیت 32)
(1)ظلم کی ممانعت: اتَّقُوا الظُّلْمَ،
فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:ظلم
سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔(صحیح مسلم، کتاب البر
والصلۃ، حدیث نمبر 2579)
(2) مسلمان کی پہچان (دوسروں کو
نقصان نہ دینا):المُسْلِمُ
مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
ترجمہ:
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح البخاری، کتاب
الإيمان، حدیث نمبر 10)
صحابہ اور سلف و صالحین کا انصاف
(1) حضرت عمراور انصاف:حضرت عمر
بن خطاب کے دور میں ایک شخص نے دوسرے پر ظلم کیا۔ مقدمہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے
فوراً انصاف کیا اور فرمایا کہ ظلم معاشرے میں فساد کو جنم دیتا ہے۔(ابن کثیر،
البدایہ والنہایہ، جلد 7)
(2) صلح کروانے کی فضیلت:رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان صلح کروانا بہت بڑا نیک کام ہے۔ ایک روایت میں آتا
ہے کہ دو لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا فساد کو ختم کرتا ہے۔(سنن ابی داؤد،
کتاب الادب، حدیث نمبر 4919)
اسلام ایک
ایسا مکمل نظامِ حیات ہے جو زمین میں امن، عدل اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے اور
ہر قسم کے فساد سے سختی سے منع کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں فساد فی الارض کی شدید
مذمت کی گئی ہے اور انسانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زمین میں اصلاح کے بعد بگاڑ
پیدا نہ کریں۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں ظلم، چغل خوری، دھوکہ دہی اور دوسروں کو
نقصان پہنچانے جیسے اعمال کو فساد قرار دے کر ان سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔حکایات
اور اسلامی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انصاف، سچائی، صلح جوئی اور امانت
داری معاشرے میں امن قائم کرتی ہیں، جبکہ ظلم اور برے اعمال فساد کو جنم دیتے ہیں۔
لہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ خود بھی فساد سے بچے اور دوسروں کو بھی اس سے
روکے تاکہ ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ قائم ہو سکے۔
Dawateislami