فساد فی الارض ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان زمین پر ظلم، ناانصافی اور
بگاڑ پھیلاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس عمل کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے ایک بڑا
گناہ قرار دیا گیا ہے۔
فساد فی الارض کی تعریف:فساد فی
الارض کا مطلب ہے زمین پر بگاڑ اور ظلم پھیلانا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان
اپنی خود غرضی اور ناانصافی کی وجہ سے زمین کے نظام کو خراب کرتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (البقرۃ:
11،12)
فساد فی الارض کی اقسام:فساد فی
الارض کی مختلف اقسام ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
(1) ظلم و
ناانصافی: زمین پر ظلم و ناانصافی کرنا فساد فی الارض ہے۔
(2) قتل و
خونریزی: بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا یا زخمی کرنا فساد فی الارض ہے۔
(3) مال و
دولت کی چوری: لوگوں کا مال و دولت چوری کرنا یا ان کے حقوق ماری کرنا فساد فی
الارض ہے۔
(4) زمین
کی خرابی: زمین کو خراب کرنا یا اس کے وسائل کو ضائع کرنا فساد فی الارض ہے۔
فساد فی الارض کی سزا:قرآن مجید
میں فساد فی الارض کی سخت سزا بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں
یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور
کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔ (المائدۃ:
33)
فساد فی الارض سے بچنے کا طریقہ:فساد فی
الارض سے بچنے کے لیے ہمیں چند باتوں پر عمل کرنا ہوگا:
(1) عدل و
انصاف: ہمیں اپنے معاملات میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
(2) تقویٰ:
ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اس کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔
(3) صلح و
صفائی: ہمیں لوگوں کے ساتھ صلح و صفائی سے پیش آنا چاہیے۔
(4) زمین
کی حفاظت: ہمیں زمین کی حفاظت کرنی چاہیے اور اس کے وسائل کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
فساد فی
الارض ایک بڑا گناہ ہے جس کی سخت مذمت قرآن مجید میں کی گئی ہے۔ ہمیں اس سے بچنے
کے لیے عدل و انصاف، تقویٰ، صلح و صفائی اور زمین کی حفاظت کرنی چاہیے۔
Dawateislami