اسلام ایک
ایسا دین ہے جو عدل، انصاف اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کا درس دیتا ہے۔ کسی کا
حق مارنا یا اسے اس کے جائز حق سے محروم کرنا حق تلفی کہلاتا ہے۔ یہ ایسا گناہ ہے
جس کی سزا نہ صرف دنیا میں ملتی ہے بلکہ آخرت میں بھی سخت عذاب کا سبب بنتی ہے۔
قرآن مجید میں
ارشاد ہے: فَاَوْفُوا الْكَیْلَ
وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف:
85) ترجمہ: اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ
دو۔
اس سے واضح
ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو دوسرے کے حقوق پورے کرنے کا حکم دیا ہے۔
حق تلفی کی
کئی صورتیں ہیں: والدین کے حق مارنا، ان کی نافرمانی اور خدمت میں کوتاہی کرنا بھی
حق تلفی ہے۔ اسی طرح بچوں کو تعلیم، اچھی تربیت اور ضروریات زندگی فراہم نہ کرنا
یا اولاد میں ناانصافی کرنا بھی حق تلفی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان اگر شوہر بیوی کو
نان و نفقہ نہ دے یا بیوی شوہر کی عزت اور اطاعت نہ کرے تو یہ بھی ایک طرح کی حق
تلفی ہے۔
وراثت میں حق
تلفی سب سے عام اور بڑا ظلم ہے۔ جب بہنوں یا بیٹیوں کو ان کا حصہ نہ دیا جائے یا
جائیداد پر ناجائز قبضہ کر لیا جائے تو یہ قرآن و سنت کی صریح نافرمانی ہے۔ اسی
طرح ملازمین اور مزدوروں سے کام لے کر ان کی مزدوری روک لینا یا تنخواہ وقت پر نہ
دینا بھی سخت گناہ ہے۔
کاروبار اور
تجارت میں بھی حق تلفی عام ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنا، مال کی حقیقت چھپا کر بیچنا
اور جھوٹی قسمیں کھا کر دھوکہ دینا وہ اعمال ہیں جو آخرت میں نقصان کا باعث ہیں۔
اس کے علاوہ عام معاشرتی حقوق جیسے راستہ نہ روکنا، وعدہ پورا کرنا اور دوسروں کو
تکلیف نہ دینا بھی لازم ہیں۔
حق تلفی کے
نتائج دنیا اور آخرت دونوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ دنیا میں بے سکونی، دشمنی اور رزق
میں بے برکتی جبکہ آخرت میں سخت حساب اور عذاب۔
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: جس نے کسی کا ایک بالشت زمین بھی ناحق لے لیا تو قیامت کے دن وہ زمین
سات زمینوں تک اس کے گلے میں طوق بنا دی جائے گی۔ (بخاری، 2/129، حدیث: 2453)
مزدوروں کے
حقوق میں حق تلفی کام لینے کے بعد مزدوری نہ دینا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مزدور
کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو۔ (ابن ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)
کاروبار
میں حق تلفی: ناپ
تول میں کمی کرنا، مال کی حقیقت چھپا کر بیچنا یا جھوٹی قسمیں کھانا۔
عام
معاشرتی حقوق میں حق تلفی: راستہ روکنا، وعدہ خلافی کرنا اور
دوسروں کو تکلیف دینا۔
حق
تلفی کے نتائج: رزق
میں بے برکتی، دل کی بے سکونی، معاشرتی جھگڑے اور فساد، سخت حساب، جہنم کا عذاب۔
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں
ہوتا۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2448)
حق
تلفی سے بچنے کے طریقے: اللہ کا خوف دل میں رکھنا۔ والدین کی خدمت کرنا۔ بچوں
اور بیوی کے حقوق پورے کرنا۔ وراثت شریعت کے مطابق تقسیم کرنا۔ ملازمین کے ساتھ
انصاف کرنا۔ تجارت میں ایمانداری کرنا۔ عام لوگوں کو تکلیف نہ دینا۔
اسلام میں حق
تلفی کو ظلم قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایسا گناہ ہے جو دنیا میں فساد اور آخرت میں عذاب
کا سبب بنتا ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو دوسروں کے حقوق پورے کرے تاکہ دنیا میں
سکون اور آخرت میں نجات حاصل کرے۔
Dawateislami