محترم قارئینِ کرام! ہم سے دو طرح کے حقوق متعلق ہیں:1۔ حقوق اللہ 2۔ حقوق العباد۔

یہاں حق تلفی کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ آئیے اولاً ہم اس کے معنیٰ و مفہوم کو سمجھتے ہیں کہ حق تلفی کہتے کسے ہیں؟ پھر آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ کے ذریعے اس کے نقصان کو سمجھیں گے اور اس کے مختصر اسباب و علاج بھی جانیں گے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ

حق تلفی کا مطلب: اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا حق چھین لینا یا اسے اس کے جائز حق سے محروم کر دینا۔

مثال کے طور پہ کسی کو اس کی جائز تنخواہ نہ دی جائے تو یہ حق تلفی ہے اسی طرح کسی کی زمین اس سے زبردستی چھین لی تو یہ بھی حق تلفی ہے مزید یہ کہ ناپ تول میں کمی کرکے لوگوں کے مال کھا جانا، لوگوں کو دھوکہ دینا، مال غصب کر لینا اور کسی کی کوئی چیز چوری کر لینا کسی کی جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھ جانا، کلاس روم میں اس کے مالک سے پوچھے بغیر ہی اس کی چیز میں تصرف کر دینا، کسی پر راستہ تنگ کر دینا، کسی کے گھر کے آگے کوڑا کرکٹ پھینک دینا، گاڑھی وغیرہ کھڑی کر دینا یہ سب حق تلفی کی صورتیں ہیں اور اس کی مثالوں میں شامل ہیں۔

آئیے جانتے ہیں کہ ہمارا رب اس وصفِ قبیح کے متعلق کیا فرماتا ہے:

حق تلفی کی مذمت میں آیات مبارکہ:

اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق نا کھاؤ۔

اس آیت میں باطل ( یعنی ناحق) طریقے سے مراد (ہر) وہ طریقہ ہے جس سے مال حاصل کرنا شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔

اسی طرح ایک اور جگہ اللہ پاک حق تلفی کی مذمت میں ارشاد فرماتا ہے: وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ(۵) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۶) (پ 30، المطففین: 1 تا 6 ) ترجمہ: کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں۔اور جب انہیں ماپ یا تول کردیں کم کردیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کے لیے جس دن سب لوگ رَبُّ الْعَالَمِیْن کے حضور کھڑے ہوں گے۔

حق تلفی کی مذمت میں احادیث مبارکہ:

حضور پُرنور ﷺ کا فرمانِ عبرت نشان ہے: جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اللہ پاک سے کوڑھی ( یعنی برص کا مریض) ہو کر ملے گا۔ (معجم کبیر، 1/179، حدیث: 636)

مزید ارشاد فرمایا: یتیم کا مال ناحق کھانے والا قیامت کے روز اس طرح اٹھے گا کہ اس کے منہ، کان، ناک اور آنکھوں سے آگ کا شعلہ نکلتا ہوگا جو اسے دیکھے گا پہچان لے گا کہ یہ یتیم کا مال ناحق کھانے والا ہے۔ ( تفسیرِ طبری، 3/615، حدیث: 8724)

حق تلفی کے اسباب و علاج:

1۔ علمِ دین سے دوری۔ 2۔ مال کی حرص 3۔ بری صحبت 4۔ دوسروں کو تکلیف پہنچا کر خوش ہونا 5۔ اچھی تربیت نہ ہونا وغیرہ۔

اس کے علاج کیلئے علمِ دین حاصل کیجیے بری صحبت سے خود بھی بچیں اور اپنے بچوں کو بھی بچائیں، اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں اور حق تلفی سے متعلق آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ میں جو مذمت بیان ہوئی ہے اسے پڑھنے اور اپنے بارے میں غور وفکر کرنے سے بھی بہت فائدہ حاصل ہوگا۔ ان شاءاللہ

اللہ رب العالمین ہمیں اس مذموم فعل سمیت تمام ظاہری و باطنی گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین