اسلام ایک
ایسا دین ہے جو عدل، انصاف اور حقوق کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ قرآن مجید میں بار
بار تاکید کی گئی ہے کہ کسی کا حق نہ کھاؤ اور نہ ہی ظلم کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے: وَ
لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ
مُفْسِدِیْنَ(۸۵) (پ 13،ہود: 85) ترجمہ کنز العرفان: لوگوں کو ان کی چیزیں
گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔
حق تلفی کا
مطلب ہے کسی کے حق کو جان بوجھ کر کم کرنا یا چھین لینا، چاہے وہ مالی حق ہو، عزت
کا حق ہو یا محبت و توجہ کا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک
کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے
پسند کرتا ہے۔ (مسلم، ص 42، حدیث: 45)
اسلام میں حق
تلفی صرف دنیا میں گناہ نہیں بلکہ آخرت میں بھی سخت پکڑ کا سبب ہے۔ قیامت کے دن
مظلوم کا حق ظالم سے لے کر اسے دیا جائے گا، چاہے بدلے میں نیکیاں ہی کیوں نہ دینی
پڑیں۔
ہمیں چاہیے کہ
دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، اور ہر معاملے میں انصاف
کو ترجیح دیں۔ اگر ہم نے کسی کا حق مارا ہے تو دنیا میں ہی اس کی تلافی کر لیں،
ورنہ آخرت میں نیکیاں دے کر یا گناہ لے کر حساب برابر کرنا پڑے گا۔
جیساکہ فرمانِ
مصطفےٰ ﷺ ہے:جس کے ذِمّے اپنے بھائی کی عزّت یا کسی اور شے کے معاملے میں ظُلم
ہو،اُ سے لازِم ہے کہ( قیامت کا دن آنے سے پہلے) یہیں دنیا میں اس سے معافی مانگ
لے،کیونکہ وہاں (یعنی روزِ محشر اس کے پاس ) نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم، اگر
اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے،اِس سے لے کر اُسے دی جائیں
گی، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اُس(مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم)پررکھے جائیں
گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث:2449)
آئیے حق تلفی
سے بچنے میں امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کا فعل مبارک دیکھتے ہیں: شیخ
طریقت، امیر اہلسنت، بانیِ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس
عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے 1400 ہجری میں
حرمین طیبین کی زیارت کا ارادہ کیا اور اپنا پاسپورٹ ویزا لگوانے کے لئے جمع کروا
دیا۔ ویزا لگ جانے پر جب آپ اپنا پاسپورٹ لینے کے لئے متعلقہ ایمبیسی پہنچے تو
ویزا لینے والوں کی ایک طویل قطار لگی ہوئی تھی۔ آپ بھی قطار ہی میں کھڑے ہوگئے۔
کسی جاننے والے ٹریول ایجنٹ (TRAVEL AGENT) کی نظر آپ پر پڑی کہ اتنے اعلیٰ مرتبے کے
حامل ہونے کے باوُجود قطار میں کھڑے ہوئے ہیں تو اس نے بعد ِ سلام عرض کی: حضور!
قطار بہت طویل ہے، آپ کو کئی گھنٹوں تک دھوپ میں انتظار کرنا پڑے گا،آئیے میں آپ
کو (اپنے تعلقات کی بنا پر)کھڑکی کے قریب پہنچا دیتا ہوں۔ مگر آپ نے بڑی نرمی سے
منع فرمادیا،جس کی وجہ یہ تھی کہ اگر آپ اس کی پیش کش قبول فرماکر آگے تشریف لے
جاتے تو پہلے سے قطار میں کھڑے ہونے والوں کی حق تلفی ہوجاتی۔
حق
تلفی کے اسباب:
1۔
خوف خدا کی کمی کی وجہ سے: جب خوفِ خدا نہ ہو تو انسان مختلف
گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
2۔
حقوق العباد کا لحاظ نہ رکھنا: جب حقوق العباد کا علم نہ ہو، ان کا
لحاظ نہ ہو تو پھر حق تلفی، دھوکہ، غیبت، وعدہ خلافی جیسے گناہ عام ہو جاتے ہیں۔
3۔
لالچ: دنیا
کا فائدہ پانے کے لیے آخرت کا نقصان مول لینا۔
4۔
حسد:
دوسروں کی کامیابی برداشت نہ کرنا۔
بچنے
کے طریقے:
اپنے اندر خوف
خدا پیدا کریں اور یہ خیال اپنے ذہن میں پیدا کریں کہ اللہ دیکھ رہا ہے، حقوق
العباد کا علم حاصل کریں اور بندوں کے حقوق ادا نہ کرنے کی وعیدات کا مطالعہ کریں،
حق تلفی کے نقصانات، وعیدات کا مطالعہ کریں تاکہ حق تلفی سے بچنے کا ذہن پیدا ہو۔
Dawateislami