انسانی معاشرہ اس وقت خوبصورت اور پُرامن بنتا ہے جب ہر فرد دوسرے کا حق پہچان کر ادا کرے۔ اگر کوئی اپنے فرائض کو بھول جائے اور دوسروں کے حقوق ادا نہ کرے تو معاشرے میں ظلم، فساد، ناانصافی اور نفرت جنم لیتی ہے۔ اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے اصول وضع کیے ہیں۔ قرآن و سنت میں ہر شخص کے حقوق بیان کر دیے گئے ہیں۔ ان کی ادائیگی کو ایمان اور دینداری کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے برخلاف حقوق غصب کرنا، وعدہ توڑنا، ظلم کرنا اور کسی کے ساتھ ناانصافی کرنا حق تلفی ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔

قرآن مجید میں حق تلفی کی مذمت: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کی جائے اور ہر ایک کا حق پورا دیا جائے۔

1۔ ناپ تول میں کمی کرنے والے ہلاک ہیں: وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ(۵) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۶) (پ 30، المطففین: 1 تا 6 ) ترجمہ: کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں۔اور جب انہیں ماپ یا تول کردیں کم کردیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کے لیے جس دن سب لوگ رَبُّ الْعَالَمِیْن کے حضور کھڑے ہوں گے۔

یتیموں کے مال میں خیانت:

اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْكُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰى  ظُلْمًا  اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-وَ  سَیَصْلَوْنَ  سَعِیْرًا۠(۱۰) (پ 4، النساء: 10) ترجمہ: جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔

عہد و وعدہ پورا کرنے کا حکم: وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) (پ 15، بنی اسرائیل: 34) ترجمہ: اور وعدہ پورا کرو، بے شک وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

یہ آیات بتاتی ہیں کہ کسی بھی صورت میں دوسرے کے حقوق مارنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔

احادیث مبارکہ میں حق تلفی کی مذمت: رسول اللہ ﷺ نے انسانوں کے حقوق کی پاسداری پر زور دیا اور حق تلفی سے سختی سے روکا ہے۔

1۔ مزدور کا حق: ترجمہ: مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ (ابن ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)

2۔ خیانت اور دھوکہ حرام ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)

3۔ ظلم سے بچنے کی تاکید: آپ ﷺ نے فرمایا: ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 2447)

4۔ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی ایمان کا حصہ: آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حدیث:10)

حق تلفی کی صورتیں: حق تلفی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے، جیسے:

خاندانی حق تلفی: والدین کی نافرمانی، بہن بھائیوں کے حقوق مارنا، وراثت میں کمی کرنا۔

معاشرتی حق تلفی: ہمسایوں کے حقوق نہ دینا، کاروبار میں دھوکہ دینا۔

معاشی حق تلفی: مزدور کی اجرت نہ دینا، ملازمین کے ساتھ زیادتی کرنا۔

سیاسی و اجتماعی حق تلفی: عوام کے حقوق غصب کرنا، کرپشن اور ناانصافی کرنا۔

حق تلفی کے نقصانات:

1۔ دنیاوی نقصانات: معاشرے میں انتشار، جھگڑے، حسد، بےاعتمادی اور نفرتیں پھیلتی ہیں۔

2۔ اخروی نقصانات: آخرت میں سخت پکڑ اور عذاب۔ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے حقوق العباد کا حساب ہوگا۔

3۔ روحانی نقصان: دل کی سختی، برکت کا اٹھ جانا اور زندگی میں بے سکونی۔

موجودہ معاشرے میں حق تلفی:

آج کا دور حق تلفی سے بھرا ہوا ہے۔ وراثت میں بہنوں کو حق نہیں دیا جاتا، ملازمین کی تنخواہیں روکی جاتی ہیں، کاروبار میں دھوکہ عام ہے، عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا۔ یہ سب قرآن و سنت کی کھلی نافرمانی اور حق تلفی کی بدترین مثالیں ہیں۔

اسلام ہمیں عدل و انصاف، رحم دلی اور حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔ ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے والدین، بیوی، بچوں، بہن بھائیوں، پڑوسیوں، مزدوروں اور ملازمین کے حقوق ادا کرے۔ اگر ہم یہ ذمہ داری پوری کریں تو ہمارا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔

حق تلفی ظلم ہے اور ظلم تاریکی ہے۔ قرآن و سنت میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔ جو لوگ دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتے وہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارے میں ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے قول و فعل میں ایمانداری اور دیانت داری اختیار کریں، ہر ایک کو اس کا حق دیں تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت کے مستحق بن سکیں۔