حق تلفی سے مراد ہے کسی شخص کے جائز اور قانونی حق کو سلب کر لینا یا اس سے محروم کر دینا چاہے یہ محرومی جان بوجھ کر ہو یا لاپرواہی سے۔ یعنی جب کسی فرد کا وہ حق جو اسے قانون، شریعت یا معاہدے کے مطابق حاصل ہے کسی دوسرے کے عمل یا رویے کی وجہ سے پورا نہ ہو یا چھین لیا جائے تو اسے حق تلفی کہا جاتا ہے۔

حق تلفی کی مذمت پر احادیث: حق تلفی کے بارے میں کئی احادیث مبارکہ ملتی ہیں جو کسی کا حق ناحق روکنے یا چھیننے سے سختی سے منع کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور حدیث یہ ہے:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ناحق لے لی تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (بخاری، 2/129، حدیث: 2453)

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ کسی کا حق چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہو ناحق لینا یا روکنا بہت بڑا گناہ ہے۔

مزدور کی حق تلفی: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ (ابن ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)مزدور کا حق فوراً ادا کرنا لازم ہے، تاخیر یا روکنا حق تلفی ہے۔

کسی کا مال ناحق لینا: جو شخص کسی مسلمان کا مال ظلم سے لے گا، وہ اللہ کے غضب میں ہو گا۔

کمزور کا حق نہ دینا: آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ظلم کی تاریکیاں ہوں گی۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 2447)

حق تلفی بھی ظلم کی ایک شکل ہے جو آخرت میں سخت انجام کا باعث بنے گی۔

زمین کا حق چھیننا: جو شخص ناحق ایک بالشت زمین بھی لے گا قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (بخاری، 2/129، حدیث: 2453)

امانت میں خیانت: جس نے خیانت کی قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے گا جس میں خیانت کی تھی۔

آیات مبارکہ:

حق تلفی اور ظلم کی ممانعت: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق نا کھاؤ۔

ناپ تول میں کمی (معاشی حق تلفی): وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ(۵) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۶) (پ 30، المطففین: 1 تا 6 ) ترجمہ: کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں۔اور جب انہیں ماپ یا تول کردیں کم کردیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کے لیے جس دن سب لوگ رَبُّ الْعَالَمِیْن کے حضور کھڑے ہوں گے۔

وراثت میں حق نہ دینا:

اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْكُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰى  ظُلْمًا  اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-وَ  سَیَصْلَوْنَ  سَعِیْرًا۠(۱۰) (پ 4، النساء: 10) ترجمہ: جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔

دوسروں کا مال ناجائز طریقے سے لینا: فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔

حق تلفی صرف مال تک محدود نہیں بلکہ عزت، وقت مزدوری،وراثت وعده اور امانت میں کوتاہی بھی اس میں شامل ہے۔ یہ دنیا میں فساد اور آخرت میں عذاب کا سبب بنتی ہے، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ دوسروں کے حقوق پوری دیانت سے ادا کرے۔