حق تلفی کا مطلب ہے کسی کے حقوق کو غلط طریقے سے لینا یا ان کا استحصال کرنا۔

یا پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حق تلفی کا مطلب ہے کسی کے ساتھ ظلم کرنا یا ان کے حقوق کو پامال کرنا۔

حق تلفی کی اقسام: جائیدادی حقوق کی پامالی، ذاتی حقوق کی پامالی، سیاسی حقوق کی پامالی،

سماجی حقوق کی پامالی وغیرہ۔

حق تلفی پر احادیث مبارکہ:

جو شخص کسی کے ساتھ ظلم کرتا ہے، تو وہ قیامت کے دن اس ظلم کا بدلہ دے گا۔ ارشاد فرمایا: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 2447)

ظلم کرنے والا شخص قیامت کے دن اللہ کی ناراضگی کا سامنا کرے گا۔ حق تلفی کرنا کبیرہ گناہ ہے۔

اور ظلم نہ کرو، کیونکہ ظلم کرنے والے قیامت کے دن عذاب کا سامنا کریں گے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠(۲۲۷) (پ 19، الشعراء:227) ترجمہ: ظلم کرنے والوں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس طرح پھرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْاۙ- (پ 24، الزمر: 51)ترجمہ: جو لوگ ظلم کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن اپنے ظلم کا بدلہ دیں گے۔

حق تلفی کے مظاہر: کسی کی جائیداد پر قبضہ کرنا، کسی کی مرضی کے خلاف کام کرنا، کسی کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچانا، جبر و ظلم، استحصال، حقوق کی پامالی وغیرہ۔

اللہ پاک ہمیں حق تلفی جیسے مرض سے محفوظ رکھے۔ آمین