انسان کو اللہ
تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے عقل، شعور اور ضمیر عطا فرمایا تاکہ وہ
عدل و انصاف کے راستے پر چلے۔ ہر شخص کے کچھ حقوق ہوتے ہیں، جنہیں ادا کرنا دوسروں
پر لازم ہے۔ جب یہ حقوق چھین لیے جاتے ہیں یا ادا نہیں کیے جاتے تو اس ظلم کو حق
تلفی کہا جاتا ہے۔ حق تلفی ایک ایسی لعنت ہے جو معاشرے کے سکون کو تباہ کر دیتی
ہے۔ یہ دلوں میں نفرت، بداعتمادی اور دشمنی کو جنم دیتی ہے اور انسانیت کی بنیادوں
کو ہلا دیتی ہے۔
حق
تلفی کی عام مثالیں: حق تلفی کئی صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے:
کسی مزدور سے
پورا کام لے کر اس کی اجرت کم دینا یا روک لینا۔ یتیم بچوں کی وراثت ہڑپ کرنا۔ بہنوں
یا کمزور رشتہ داروں کو جائیداد میں حصہ نہ دینا۔ جھوٹ اور دھوکے سے دوسروں کا مال
یا حق لینا۔ کسی طالب علم کی محنت کو پہچان نہ دینا یا اس کی کامیابی کا حق مارنا۔
یہ سب وہ گناہ ہیں جن پر دنیا میں بھی بددعا اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔
اسلام
کی نظر میں حق تلفی: اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو عدل و انصاف کو
سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر دوسروں
کے حقوق ادا کرنے اور ظلم سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا
اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال
ناحق نا کھاؤ۔
اسی طرح ایک
اور جگہ فرمایا: فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا
تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان
کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔
نبی کریم ﷺ نے
بھی فرمایا: جس نے کسی کا حق مارا، وہ قیامت کے دن ظلم کی تاریکیوں میں ہوگا۔ (بخاری،
2/127، حدیث: 2447)
ایک اور حدیث
میں فرمایا گیا: مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ (ابن ماجہ، 3/162،
حدیث: 2443)
یہ احادیث اور
آیات ہمیں واضح پیغام دیتی ہیں کہ حق تلفی سے بچنا ایمان کا حصہ ہے اور دوسروں کا
حق ادا کرنا نیکی کا کام ہے۔
حق
تلفی کے نتائج: حق
تلفی کے اثرات نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ دنیا میں یہ
معاشرتی بگاڑ، دشمنی اور ظلم کو بڑھاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کھو بیٹھتے
ہیں۔ معاشرہ انصاف سے خالی ہو جاتا ہے۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ حق تلفی کرنے والے کو
سخت عذاب دے گا اور مظلوم کو اس کا حق ضرور واپس ملے گا۔
ہمیں چاہیے کہ
دوسروں کے حقوق کی حفاظت کریں۔ کبھی کسی کا حق نہ ماریں، چاہے وہ معمولی سی چیز
کیوں نہ ہو۔ امانت داری اور انصاف کو اپنی زندگی کا اصول بنائیں۔ کمزوروں، یتیموں
اور مستحقین کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ یاد رکھیں! کسی کا حق مارنا اللہ تعالیٰ کے
نزدیک بڑا گناہ ہے۔
آئیے عہد کریں
کہ ہم ہمیشہ عدل و انصاف پر چلیں گے، دوسروں کا حق ادا کریں گے، کسی پر ظلم نہیں
کریں گے اور حق تلفی سے ہمیشہ دور رہیں گے۔ یہی ایمان، تقویٰ اور انسانیت کا حقیقی
معیار ہے۔
حق تلفی سے
بچنا ہی کامیابی کا راستہ ہے، کیونکہ دنیا فانی ہے مگر اللہ کا انصاف ابدی اور
لازوال ہے۔
آخر میں اللہ
پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں دوسروں کی حق تلفی کرنے سے محفوظ رکھے۔ آمین
Dawateislami