اللہ تعالیٰ
نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل و شعور عطا کیا تاکہ وہ عدل، انصاف
اور حسنِ سلوک کے ساتھ زندگی گزارے۔ لیکن جب انسان ان اصولوں کو چھوڑ کر دوسروں کے
حقوق کو پامال کرتا ہے تو وہ حق تلفی کا مرتکب ہوتا ہے۔
حق
تلفی کی تعریف: حق
تلفی کا مطلب ہے کسی کے جائز حق کو دبانا، غصب کرنا، یا ادا نہ کرنا۔ چاہے وہ مالی
ہو، اخلاقی ہو، یا سماجی، ہر قسم کی حق تلفی شریعت میں ناجائز اور حرام قرار دی
گئی ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو ہر انسان کے حقوق کو محفوظ بناتا ہے، خواہ وہ
مسلمان ہو یا غیر مسلم۔
قرآن
مجید میں حق تلفی کی مذمت: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ
عدل و انصاف کا حکم دیا ہے اور ظلم و زیادتی سے منع فرمایا ہے، جو کہ حق تلفی کی
اعلیٰ ترین شکل ہے۔
فَاَوْفُوا
الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور
تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔
یہ آیت ان
لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو دوسروں کو ان کا حق کم دیتے تھے، اور یہ عمل اللہ
کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔
احادیثِ
مبارکہ میں حق تلفی کی مذمت: رسول اللہ ﷺ نے بھی حق تلفی کو ایک بہت
بڑا گناہ قرار دیا ہے: جس نے کسی کی زمین کا ایک بالشت بھی ظلم سے لے لیا، قیامت
کے دن وہ سات زمینوں تک اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالی جائے گی۔ (بخاری، 2/129، حدیث:
2453)
ایک اور مقام
پر فرمایا: مزدور کو اس کی مزدوری دو، قبل اس کے کہ اس کا پسینہ خشک ہو۔ (ابن
ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)
یہ حدیث
مزدوروں اور ملازمین کے حقوق کو فوراً ادا کرنے کی تلقین کرتی ہے، اور تاخیر یا حق
تلفی سے منع کرتی ہے۔
حق
تلفی کے نقصانات: حق
تلفی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب کا باعث ہے۔ مظلوم کی بددعا سے اللہ پردہ
نہیں ڈالتا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ مظلوم کی دعا مستجاب ہوتی ہے۔ جب حقوق تلف ہوں
تو معاشرہ ظلم، نفرت، اور فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت
کے دن ضرور حقوق ان کے اہل تک پہنچا دیے جائیں گے۔ (مسلم، ص 1070، حدیث: 6580)
حق
تلفی سے بچنے کے طریقے:
1۔
تقویٰ اختیار کرنا: اللہ کا خوف دل میں ہو تو انسان کسی کا حق نہیں
مارتا۔
2۔
حق پہچاننا اور ادا کرنا: ہر انسان کو چاہیے کہ دوسروں کے حقوق
پہچانے اور انہیں ادا کرے۔
3۔
معاملات میں شفافیت: مالی، ذاتی یا سماجی معاملات میں وضاحت اور سچائی
ہونی چاہیے۔
4۔
مظلوم سے معافی مانگنا: اگر کسی کا حق دب گیا ہے تو دنیا میں ہی اس سے
معافی مانگ لینی چاہیے۔
5۔
نبی ﷺ کی سنت کو اپنانا: نبی کریم ﷺ نے ہر ایک کو اس کا حق دیا،
خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ ہمیں بھی اسی طرزِ عمل کو اپنانا چاہیے۔
حق تلفی نہ
صرف ایک شرعی جرم ہے بلکہ ایک اخلاقی پستی بھی ہے جو معاشرے کو تباہی کی طرف لے
جاتی ہے۔ ایک مؤمن کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہر حال میں دوسروں کا حق ادا کرے،
عدل و انصاف پر قائم رہے، اور اپنے نفس کو ظلم سے پاک رکھے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان
ہے: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔ (بخاری، 2/127،
حدیث: 2447)
Dawateislami