الحمدلله الله
کریم کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت ہمیں رشتوں کی شکل میں عطا ہوئی ہے اور ان
رشتوں میں محبت،حسن سلوک اور خوبصورتی کو برقرار رکھنے کےلئے حقوق کی ادائیگی کو
ہم پر لازم فرمایا واضح رہے کہ انسانی حقوق سے مراد وہ حقوق ہیں جو انسانوں کے آپس
میں ایک دوسرے پر ہیں،جیسےمیاں بیوی،والدین اور اولاد،استاد،شاگرد،ایک پڑوسی کے
دوسرے پڑوسی پر،ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر،ایک طالب علم پر دوسرے طالب علم کے
آپس میں حقوق وغیرہ ان حقوق کی ادائیگی سے باہم محبت اور حسن اتفاق پیدا ہوتا مگر
اس دور نازک میں ان سب حقوق کو کئی حد تک فراموش کردیا گیا ہے ان رشتوں کے حقوق کی
ادائیگی کرنا تو دور کی بات الٹا حق تلفیوں پہ اتر آئے ہیں اور حالات اتنی نازک
ہوچکے ہیں کہ ہم کب چھوٹی چھوٹی بات پہ حق تلفی کرجاتے ہیں ہمیں اندازہ ہی نہیں
ہوتا اور جسکی حق تلفی ہوتی ہے وہ بیچارہ مایوسی کا شکار ہوجاتا۔آئیے پیاری اسلامی
بہنوں حق تلفی جیسے سنگین جرم کے بارے میں ملاحظہ فرماتی ہیں اور غورو فکر کرنے کی
کوشش کرتی ہیں کہ ہم کس کس طرح سے حق تلفی کرجاتی ہیں اور انکے نقصانات بھی ملاحظہ
فرمائیے:
حق
تلفی کی تعریف: حق
تلفی کا مطلب ہے کسی کا جائز حق چھین لینا یا اسے اس کے حق سے محروم کرنا۔ یہ ایک
ایسا عمل ہے جس میں کسی شخص کو اس کا وہ حق نہیں دیا جاتا جو اسے ملنا چاہیے، خواہ
وہ حق کسی بھی شکل میں ہو، جیسے کہ مالی حق، سماجی حق، یا کوئی اور جائز حق۔
حق تلفی ایک
اخلاقی اور قانونی مسئلہ ہے۔ اس میں کسی بھی شخص کو اس کے جائز حق سے محروم کرنا
شامل ہے، جس کی وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو معاشرے
میں ناانصافی اور عدم مساوات کا باعث بنتا ہے۔
مثالیں:
1:کسی کی زمین
پر قبضہ کرنا۔
2:کسی کی
تنخواہ یا اجرت روک لینا۔
3:کسی کے ساتھ
امتیازی سلوک کرنا۔
4:کسی کو اس
کے حقوق سے آگاہ نہ کرنا۔
5:کسی کی عزت
نفس کو مجروح کرنا۔
نتائج:
حق
تلفی کے بہت سے منفی نتائج ہو سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں: معاشرتی عدم استحکام، نا
انصافی اور عدم مساوات، متاثرہ شخص کو ذہنی اور جسمانی تکلیف، قانونی مسائل اور
تنازعات۔
لہذا حق تلفی
ایک ایسا عمل ہے جس سے بچنا چاہیے اور ہر شخص کو اس کے جائز حقوق ملنے چاہئیں۔
حق
تلفی سے متاثر ہونے والے اہم رشتے: پیاری اسلامی بہنو! ہمارے کچھ عزیز
رشتے ایسے بھی ہیں جن سے زندگی بھر واسطہ پڑتا ہی رہتا یہاں تک کہ قبر میں اترنے
تک ہمیں ان کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم ان کی بھی حق تلفی کسی نہ کسی صورت میں کر
جاتے ہیں جیسے:
والدین کی حق
تلفی ان کی حق تلفی سے مراد وہ رویہ ہے جس میں اولاد اپنے والدین کے حقوق کی
پاسداری نہیں کرتی۔ یہ ایک سنگین اخلاقی اور مذہبی گناہ ہے، اور اس سے والدین کی
دل آزاری ہوتی ہے۔ اسلام میں والدین کے حقوق کی بہت تاکید کی گئی ہے اور ان کی
نافرمانی کو بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔
مثالیں:
والدین
کی بات نہ سننا، ان کی نصیحتوں کو نظر انداز کرنا ان کی رائے کو اہمیت نہ دینا حق
تلفی ہے، ان کی خدمت نہ کرنا، ان کی توہین کرنا، ان کی ضروریات کو پورا نہ کرنا، ان
کے ساتھ بدسلوکی کرنا، والدین کی ناراضگی مول لینا، ان کی دعائیں نہ لینا بھی حق
تلفی ہے۔
اساتذہ
کی حق تلفی: اس
سے مراد اساتذہ کے حقوق کی پامالی ہے، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔
مثالیں:
اس
میں اساتذہ کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنا،ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا، ان کی عزت
نفس کو مجروح کرنا، طلبہ اور والدین کا اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی کرنا۔ استاد کی حق
تلفی سےتعلیمی معیار پر منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں مثلاجب اساتذہ اپنے حقوق سے
محروم ہوتے ہیں، تو ان کی کارکردگی متاثر ہوتی اور ملازمت چھوڑنے کی شرح میں اضافہ
ہوتاہے
اساتذہ کی حق
تلفی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اساتذہ کے
حقوق کا تحفظ ضروری ہے تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر طریقے سے انجام دے سکیں اور ایک
خوشحال معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
ہمسایوں
کی حق تلفی: ہمسایوں
کی حق تلفی کا مطلب ہے اپنے پڑوسیوں کے حقوق کی پامالی کرنا یا ان کے ساتھ ناروا
سلوک کرنا۔ اسلام میں ہمسایوں کے حقوق بہت اہمیت رکھتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی
ایک سنگین گناہ ہے۔ ہمسایوں کے حقوق میں ان کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرنا، ان
کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، ان کی مدد کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا شامل ہے۔
بہن
بھائیوں کی حق تلفی: بہن بھائیوں کی حق تلفی کا مطلب ہے کہ کسی بھائی یا
بہن کو اس کے جائز حق سے محروم کرنا۔ یہ مسئلہ کئی طرح سے سامنے آ سکتا ہے، جیسے
وراثت میں حصہ نہ دینا، توجہ اور محبت میں فرق کرنا، یا کسی خاص بھائی یا بہن کو
زیادہ اہمیت دینا۔ اس طرح کی ناانصافی خاندان میں ناخوشی اور ناراضگی کا باعث بن
سکتی ہے۔
قرآن وحدیث کی
روشنی میں حق تلفی کی وعید:
الله فرماتا
ہے: قُلْ یٰقَوْمِ
اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌۚ-فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ
تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۳۵) (پ 8،
الانعام:135) آپ یہ فرما دیجئے اے میری قوم! تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی
عمل کر رہا ہوں سو اب جلد ہی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ اس عالم کا انجام کار کس
کے لئے نافع ہوگا یہ یقینی بات ہے کہ حق تلفی کرنے والوں کو کبھی فلاح نہ ہوگی۔
مسلمان
کی حق تلفی کی سزا: رسول الله ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنی قسم کے ذریعے
کسی مسلمان کا حق مارا اللہ نے اس کے لیےآگ واجب کر دی اور اس پر جنت حرام
ٹھہرائی، ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہﷺ اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو آپ نے فرمایا:
چاہے وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہو۔ مسلم،
ص 701، حدیث:353
ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عزت یا کسی
اور شے میں حق تلفی کر رکھی ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ آج ہی اس سے بری الذمہ ہو
جائے، اس سے پہلے کہ (وہ دن آئے) جب نہ دینار ہوں اور نہ درہم۔ اگر اس کی کچھ
نیکیاں ہوں گی تو جتنی اس نے حق تلفی کی ہو گی، اس قدر اس کی نیکیاں لے لی جائیں
گی اور اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی، تو اس کے بھائی کی برائیوں کو لے کر اس کے
کھاتے میں ڈال دیا جائےگا۔ (بخاری، 2/128، حدیث:2449)
حاصل کلام یہ
ہے کہ زندگی میں جس جس کی بھی حق تلفی کی خواہ ہاتھ،زبان مال الغرض جیسے بھی کی ہے
فورا اسکی معافی طلب کیجئے اور الله سے ڈرتے ہوئے حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھئے
کہ اس میں دارین کی فلاح ونجات ہے۔
اعلیٰ حضرت
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حقوق العباد معاف ہونے کی دوصورتیں ہیں:(1) جوقابلِ
اداہے اداکرنا ورنہ ان سے معافی چاہنا (2)دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صاحبِ حق بلامعاوضہ
معاف کردے۔ (فتاوی رضویہ،24/373، 374)
اللہ ہمیں
حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ادا کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور
حق تلفی جیسے سگین جرم کے ارتکاب سے محفوظ فرمائے۔ آمین
Dawateislami