محمد صدام حسین عطاری (تخصص فی
الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
ایک شکاری ہرنی
کا شکار کر کے لے جا رہا تھا کہ اس کا گزر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے
ہوا ۔ جس رب العالمین نے ہر چیز کو بولنے کی صلاحیت بخشی ہے ہر نی کو بھی بولنے کی
طاقت عطا فر ما دی ۔اس نے کہا: یا رسول میرے بچے ہیں میں ان کو دودھ پلاتی ہوں ابھی
بھوکے ہیں اس کو حکم ارشاد فرما ئیے مجھے چھوڑ دے تاکہ میں جا کر بچوں کو دودھ پلا
سکوں اور میں واپس آ جاؤں گی ۔نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔تو اگر لوٹ
کر نہ آئی تو ۔۔عرض کی: اگر لوٹ کر نہ آؤ ں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی ایسے لعنت ہو
جیسے اس پر ہو تی ہے جس کے سامنے آ پ کا ذکر ہو اور وہ درود نہ پڑھے یا میں اس شخص
کی طرح ہو جاؤں جو نماز پڑھے لیکن دعا نہ مانگے ۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے شکاری سے فرمایا: اس کو چھوڑ دے میں اس کا ضامن ہوں۔پھر ہرنی چلی گئی(دودھ پلا
کے) پھر واپس آ گئی۔ (القول البدیع ، الباب الثالث فی التحذیر من ترک الصلاۃ علیہ
عند ما یذکر صلی اللہ علیہ وسلم ۔ص 313 ،محمد بن عبد الرحمن سخاوی ۔دارالکتب)
اس واقعے سے
ہمیں جانوروں کے ساتھ ہمدردی ، بھلائی اور ان کے تحفظ حقوق کا بہترین سبق ملتا ہے
۔ اسلام کی کئی خوبیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کے حقوق واضح کیے ۔
اور ان کو پورا کرنے پر اجر عظیم کی بشارتیں سنائیں ۔
(1) جانور بھی
مخلوق خدا ہیں ان کے حقوق سے آ گاہ کرنے کے ساتھ ساتھ پورا کرنے کا حکم بھی دیا
۔اور پورا کرنے والے کے لیے اجر بھی بیان فرمایا ۔جانورں کے کئی طرح کے حقوق ہیں
مثلاً :ان کی بھوک پیاس کا خیال رکھا جائے ۔احادیث میں اس کی ترغیب موجود ہے، حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ایک آ دمی نے پیاسے کتے کو اپنے موزے سے پانی پلایا ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی بخشش
کردی۔صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کی ۔کیا ہمیں چوپایوں پر بھی اجر ملے گا؟
فرمایا: ہر جاندار میں ثواب ہے ۔ (بخاری، جلد 3 ،صفحہ ،230۔حدیث نمبر 2374)
(2) ان کے لئے
گرمیوں میں چھاؤں کا اور سردیوں میں دھوپ کا بہترین انتظام کیا جائے ۔ اور جانوروں
کا خیال نہ رکھنے اور ان کو بھوکا پیاسا رکھنے والوں کےلئے وعید سنائی ۔جیسے
عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت
کو عذاب بلی کی وجہ سے ہوا جس کو اس نے کافی دیر باندھے رکھا اور اس کو کھا نا نہ
دیا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ زمین سے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔(بخاری ۔جلد 3،ص
237، حدیث نمبر : 3715 )
(3)
جانوروں پر زیادہ بوجھ نہ لاداجائے : بلا
وجہ تنگ نہ کیا جائے اور نہ بلا وجہ مارا جائے ۔خاص طور کتے کو کیونکہ حدیث پاک میں
اس کو بلا وجہ مارنے سےخصوصاً منع کیا گیا ۔حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ نہ ہوتا کہ کتے بھی مخلوق میں سے
مخلوق ہیں تو میں ان سب کے قتل کا حکم دیتا ۔(مرآ ۃ المناجیح ،جلد ،5، ص642، حدیث :3923)
اس کے تحت مفتی
احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں : بلا ضرر (نقصان نہ دینے کی صورت میں)اس کا مارنا
ممنوع ۔ (مرآ ۃ المناجیح ،جلد ،5، ص642، حدیث :3923)
جانوروں کے
ساتھ ایسی کوئی حرکت نہ کی جائے جس سے وہ ڈر جائیں مثلاً ان کے پاس شور نہ کیا
جائے ۔ گاڑی یا بائیک ان کے پاس لا کر ایک دم ہارن نہ بجا یا جائے ۔ تماشہ دیکھنے
کےلئے جانوروں کو آ پس میں نہ لڑایا جا ئے ۔ کیونکہ اس سےجا نور شدید زخمی ہو جا
تےہیں بلکہ بعض دفعہ مر بھی جاتے ہیں۔
حضرت ابن عباس
رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور لڑوانے سے منع
فرمایا ۔ ( مرآ ۃ المناجیح جلد 5 ۔مفتی احمد یا خان نعیمی۔حدیث نمبر ،3924 ۔صفحہ
،643 )
مفتی احمد یار
خان نعیمی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : اللہ رحم فرمائے ۔آج مسلمانوں میں مرغ
لڑانا ،کتے لڑانا اور اونٹ بیل لڑانے کا بہت شوق ہے ۔یہ حرام سخت حرام ہے اس میں
بلا وجہ جانور کو ایذا رسانی ہے ۔اپنا وقت ضائع کرنا ہے ۔ بعض جگہ ما ل کی شرط پر
جا نور لڑائے جاتے ہیں یہ جوا بھی ہے ۔حرام در حرام ہے۔ ( مرآ ۃ المناجیح جلد 5
۔مفتی احمد یا خان نعیمی۔حدیث نمبر ،3924 ۔صفحہ ،643 )
فریشمینٹ
کے لیے جانوروں کا شکار نہ کیا جائے : نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس پر لعنت کی جس نے ذی روح کو
نشانہ بنایا۔ ( صحیح مسلم ،جلد2،دارالطباعۃ، العامرہ،باب النھی عن صبرالبھائم
،الحدیث: 1957، ص 73 )
رسول اﷲ
صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:’’جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل کیا
اس سے اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن سوال کرے گا، عرض کیا گیا : یارسول اﷲ ! ( صلَّی
اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) اس کا حق کیا ہے فرمایا کہ’’ اس کا حق یہ ہے کہ
ذبح کرے اور کھائے یہ نہیں کہ سر کاٹے اور پھینک دے۔(مسند احمد، جلد 11، ص 448۔ حدیث
6862 )
دین اسلام ایسا
مذہب ہے جسکی تعلیم میں انسانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کا بھی بہت
خیال رکھا گیا ہے جس طرح کسی انسان پر ظلم و زیادتی حرام ہے اسی طرح جانوروں پر بھی
ظلم و زیادتی حرام ہے بلکہ جانوروں پر ظلم کرنا انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ بڑا
گناہ ہے ، انسان تو اپنا دکھ درد کسی سے کہہ سکتا ہے مگربے زبان جانور کس سے فریاد
کرے ؟ جانور بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کو انسان کے کاموں میں مددگار بنایا
، الله عزوجل قرآن پاک میں سورۂ النحل کی آیت نمبر 8 میں ارشاد فرماتا : وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا
وَ زِیْنَةًؕ-وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۸) ترجمۂ کنزالعرفان: اور (اس نے)
گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے) تا کہ تم ان پر سوار ہو اور یہ تمہارے لئے زینت
ہے ۔ (پ14، النحل: 08)
یعنی اللہ
تعالیٰ نے گھوڑے،خچر اور گدھے بھی تمہارے نفع کے لئے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ی
کرو اور ان میں تمہارے لئے سواری اور دیگر جو فوائد ہیں ان کے ساتھ ساتھ یہ تمہارے
لئے زینت ہیں۔( تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۸، ۷ / ۵۶۲)
یہ آیت ہمیں یہ
بھی سکھاتی ہے کہ چونکہ جانور ہمارے لیے اللہ کی نعمت ہیں اور ہمارے لیے محنت کرتے
ہیں، اس لیے ان پر ظلم نہیں کرنا چاہیے، نہ ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالنا چاہیے۔
حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کی اس دنیا میں تشریف آوری کے بعد حضور ﷺ نے ہمیں جانوروں کے حقوق بتائے
جن سے جانوروں کے حقوق اور انکی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ۔
(1)
جانوروں کو تکلیف نہ پہنچانا : اسی
طرح جانوروں کو ظلم سے بچانا اسلام کا ایک واضح اور اہم حکم ہے، اور نبی کریم ﷺ نے
اس بارے میں نہایت مؤثر اور عبرت آموز احادیث ارشاد فرمائیں ہیں۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضى الله
عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي
هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خِشَاشِ
الأَرْضِ (صحیح البخاری/کتاب بدء
الخلق/باب خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ/ج3 ،ص501،
حدیث:3318 دارالسلام)
ترجمہ : نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ، ایک عورت ایک بلی کے سبب سے دوزخ میں گئی ،
اس نے بلی کو باندھ کر رکھا ، نہ تو اسے کھانا دیا اور نہ ہی چھوڑا کہ وہ کیڑے
مکوڑے کھا کر اپنی جان بچا لیتی ۔
تو اس حدیث سے
واضح ہوتا ہے کہ جانوروں پر ظلم صرف دنیاوی جرم نہیں بلکہ آخرت میں اسکی سزا ملے گی
جیسا کہ اس عورت کو بلی پر ظلم کرنے کی وجہ سے ملی ، نبی کریم ﷺ نے جانوروں کے
ساتھ ظلم پر جہنم کی وعید دی ہے، نیز نبی پاک کے اس فرمان سے یہ بھی واضح ہو رہا
ہے کہ جانوروں کو بغیر مقصد قید کرنا بھی جانوروں پر ظلم کرنا ہے ۔
(2)
کام میں اعتدال کا حق: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ
ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ، فَقَالَ : اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ
الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ فَارْكَبُوهَا وَكُلُوهَا صَالِحَةً (سنن ابی داؤد/کتاب الجہاد/باب ما یؤمر به من لقیام علی
الدواب والبهائم/ج3 ،ص91،حدیث:
2548 دارالسلام ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس
کا پیٹ اس کی پشت سے مل گیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان بے
زبان چوپایوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو ، ان پر سواری بھلے طریقے سے کرو اور ان کو
بھلے طریقے سے کھاؤ ۔
(3)
ذبیحہ پر رحم کرنا اور حسن سلوک کرنا: فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم: إِنَّ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ
عَلَى كُلِّ شَيْءٍ،فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ،وَإِذَا
ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَ،وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ،وَلْيُرِحْ
ذَبِيحَتَهُ بیشک اللہ عزوجل نے ہر
چیز میں احسان (رحم اور انصاف) کو فرض قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح
قتل کرو (تاکہ مخلوق کو تکلیف نہ ہو) اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور چاہیئے
کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے، اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔ (سنن
ابن ماجہ ، كتاب الذبائح، باب اذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، ج4، ص429،حدیث: 3170دار السلام)
ہم نے جانا کہ
اسلام صرف انسانوں کے لئے نہیں بلکہ جانوروں پر بھی عدل و رحم کا حکم دیتا ہے ہمیں
چاہیے کہ جانورں کے ساتھ عدل و رحم کریں جیسا کہ قرآن پاک اور احادیث نبوی سے واضح
ہوا۔ اللہ عزوجل ہمیں جانوروں پر رحم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ان کی حق تلفی
سے بچائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
برہان عمر (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ
المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
انسان اشرف
المخلوقات ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت، عبادت اور اطاعت کے لیے پیدا فرمایا
اور دنیا کی تمام نعمتیں، مخلوقات اور وسائل انسان کی خدمت کے لیے مسخر کیے۔ جیسا
کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی
الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ ترجمہ
کنزالایمان: وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔(پ1،البقرہ: 29)
انسان کو عطا
کردہ انہی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت جانور بھی ہیں، جو انسان کی ضروریات، سہولت
اور معیشت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جانوروں کے ذریعے انسان خوراک، لباس، سواری،
باربرداری، اور حتیٰ کہ تحفظ تک کے فوائد حاصل کرتا ہے۔ الله پاک نے اس نعمت کا
ذکر قرآن پاک میں ایک مقام پر یوں فرمایا: وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَاۚ-لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ
مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪(۵) ترجمہ کنزالایمان: اور چوپائے پیدا کیے ان میں
تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں اور ان میں سے کھاتے ہو ۔(پ14،النحل:
5)
اسلام نے جہاں
انسان کو ان جانوروں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی وہیں اسے اس بات کا پابند بھی
بنایا ہے کہ وہ ان جانوروں سے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی نفع حاصل کرے۔ شریعت
مطہرہ نے جانداروں، بالخصوص جانوروں کے حقوق کی ادائیگی کی جابجا مقامات پر تاکید
فرمائی ہے۔آئیے! ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جانوروں کے چند اہم حقوق کا جائزہ
لیتے ہیں تاکہ ان باتوں پر عمل کرکے ہمارا رویہ ان کے ساتھ ایسا ہوجائے جیسا شریعت
ہم سے چاہتی ہے اور ہم الله و رسول عزوجلّ وصلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کی رضا کے
مستحق بن جائیں۔
(1)
جانوروں کا حقِ خوراک: جانوروں کا
سب سے پہلا حق یہ ہے کہ ان کی خوراک ، چارے، دانے، غذا اور پانی کا خیال رکھیں۔ ہر
جانور کو اس کی فطرت اور ضرورت کے مطابق چارہ یا دانہ دیا جائے، جیسا وہ عام طور
پر کھاتا ہے۔ ان کو بھوکا رکھ کر ان پر ظلم نہ کیا جائے۔ ایک حدیث مبارکہ میں ہے
کہ ایک عورت کو عذاب ایک بلی کی وجہ سے ہوا جسے اس نے اتنی دیر تک باندھے رکھا کہ
وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی اور وہ عورت اسی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوئی۔ (بخاری،کتاب
المساقاۃ، باب فضل سقي الماء۔ص660،حدیث:2365)
(2)
جانوروں پر رحم اور ان سے اچھا سلوک کرنا : جانوروں کا ایک حق یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا
جائے اور ان پر رحم کیا جائے۔ ایک حدیث مبارکہ میں جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے
والے کے لیے جنت کی بشارت بھی موجود ہے چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت
ہے فرماتے ہیں کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس فاحشہ عورت کی
مغفرت ہو گئی جو ایک کتے پر گزری جو ایک کنوئیں کے کنارے ہانپ رہا تھا قریب تھا کہ
پیاس کی شدت اسے ہلاک کردیتی اس عورت نے اپنا موزہ اتارا اسے اپنے دوپٹے سے باندھا
اور اس طرح پانی نکالا اسی وجہ سے وہ بخش دی گئی ، نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کی
بارگاہ میں عرض کیا گیا کہ کیا حیوانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے بھی ہمارے لیے
اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر جان دار چیز کے ساتھ اچھا
سلوک کرنے میں اجر ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الزکوۃ، صدقہ کی
فضیلت، جلد:3 ، حدیث نمبر:1902 )
(3)
ذبح کرتے وقت احتیاطی تدابیر: نبی
کریم ﷺ نے جانوروں کے ذبح کے وقت بھی جانوروں کے ساتھ نرمی اور ان کو تکلیف سے
بچانے کی سخت تاکید فرمائی ہے چنانچہ حضرت ابنِ عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص بکری کو لٹاکر اس کے سامنے چھری تیز کرنے لگا، تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا:کیا تم اسے دو موت مارنا چاہتے ہو۔ تم نے اپنی چھری اسے لِٹانے سے قبل تیز
کیوں نہیں کرلی؟ ایک مقام پر ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان
کو لازم قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب ذبح کرو
تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کر لے
اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے۔(سنن نسائي، كتاب الضحايا،باب الأمر بإحداد
الشفرة، حدیث نمبر: 4410)۔
محمد مبشر عبدالرزاق (درجہ سادسہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
جانور اللہ
پاک کی پیاری و نرالی مخلوق ہے ، قدرت کا انمول تحفہ، اور ماحول کا حسن ہے جو نہ صرف
انسیت کا ذریعہ ہے بلکہ بہت سے معاشی فوائد کا بھی سبب ہے جانور دودھ، گوشت ، ہڈیاں
، اون کے حصول کا ذریعہ ہیں، ان کے حقوق کی ادائیگی اور حسن سلوک اللہ پاک کی رضا
اور آخرت میں کامیابی اور ثواب کا ذریعہ ہے ان کے حقوق کی عدم ادائیگی اور ان پر
ظلم اللہ پاک کی نافرمانی، گناہ اور دخول جہنم کا سبب بن سکتا ہے دین اسلام کی ایک
خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے جانور کے حقوق کو بھی اجاگر فرمایا آئیے ہم بھی ان میں سے
چند حقوق پڑھتے ہیں اور عمل کی نیت کرتے ہیں:
(1) وقت پر
کھانا دینا: جانور کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اس کو وقت پر کھانا وغیرہ دیا جائے اور
بھوکا پیاسا نہ رکھا جائے ایک عبرت ناک حدیث پاک میں ہے
کہ رَحمت ِ عالَم ،نورِ مُجَسَّم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جہنَّم
میں ایک عورت کو اس حال میں دیکھا کہ وہ لٹکی ہوئی ہے اور ایک بلّی اُس کے چہرے اور
سینے کو نوچ رہی ہے اور اسے ویسے ہی عذاب دے رہی ہے جیسے اس(عورت) نے دنیا میں قید
کر کے اور بھوکا رکھ کراسے تکلیف دی تھی۔ اس روایت کا حکم تمام جانوروں کے حق میں
عام ہے۔(صحیح البخاری،کتاب المساقاۃ،باب فضل سقی الماء،ص 218 ، ج2 ،الحدیث:2363
مفہوماً )
(2) رحم کرنا:
جانوروں پر رحم اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا اللہ پاک کی خوشنودی اور اجر و ثواب
کا سبب ہے جیسا کہ ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بکری ذبح کرنے پر رحم آتا ہے فرمایا: اگر اس پر
رحم کرو گے اللہ بھی تم پر رحم فرمائے گا، (مسند احمد بن حنبل ج5 ص 304 حدیث
15592)
(3) بقدرِ
طاقت کام لینا: جانور سے اس کی طاقت کے مطابق کام لیا جائے اور اس پر زیادہ بوجھ
سوار نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کو مارا جائے جیسا کہ امام احمد بن حجر مکی شافعی
علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: انسان نے ناحق کسی چوپائے کو مارا یا اسے بھوکا
پیاسا رکھا یا اس سے طاقت سے زیادہ کام لیا تو قِیامت کے دن اس سے اسی کی مثل بدلہ
لیا جائے گا جو اس نے جانور پر ظلم کیایا اسے بھوکا رکھا( الزواجر عن اقتراف
الکبائر، ج2، صحیح 174)
(4) ظلم نہ
کرنا: جانور پر ظلم کرنا اور اسے تکلیف دینا حرام اور ناجائز ہے جیسا کہ بہار شریعت
میں ہے: جانور پر ظلم کرنا ذمی کافر پر ظلم کرنے سے زیادہ برا ہے اور ذمی پر ظلم
کرنا مسلم پر ظلم کرنے سے بھی برا ہے کیوں کہ جانور کا کوئی معین و مددگار اللہ کے
سوا نہیں اس غریب کو اس ظلم سے کون بچائے ۔ (در مختار و رد المختار ج9 ص 662)
(5) بلا وجہ
نہ مارنا : جانور کو بلا وجہ مارنا و قتل کرنا اور اس کو تفریح کے طور پر شکار
کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے جیسے کہ امیرِ اہلِ سنّت علّامہ محمد
الیاس قادری صاحب فرماتے ہیں :ہمارے یہاں گلیوں مىں پھرنے والے کتوں کو عُموماً
بچّے مارتے ہىں اور جب وہ بھونکتے ہیں تو مزے لىتے ہىں ، بِلاوجہ ان کتوں کو مارنا
ظلم ہے۔ یاد رکھئے!جانور کى بَددُعا بھى مقبول ہے۔ اپنا یہ ذہن بنا لیجئے کہ نہ
کتے کو مارنا ہے اور نہ ہی بلى اور چیونٹى کو ، اس لئے کہ چیونٹى کو بھى بِلاوجہ
مارنا ناجائز و گناہ ہے۔ بچّے اس بے چاری کو مارتے رہتے ہیں تو بچّوں کو ایسا کرنے
سے روکنا چاہئے۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِسنّت(قسط24) ، کتے کے متعلق شرعی احکام ،
ص27ملخصاً)
پیارے اسلامی بھائیو!دینِ
اسلام کی خوبی ہے کہ اس نے انسانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کا بھی خیال
رکھا ہے ۔جس طرح کسی انسان پر ظلم و زیادتی حرام ہے، اسی طرح جانوروں کو بُھوکا پیاسا
رکھنا ،مارپیٹ کرنا تکلیف پہنچانا بھی حرام ہے بلکہ جانوروں پر ظلم کرنا انسان پر
ظلم کرنے سے زیادہ بڑا گناہ ہے کہ انسان تو اپنا دکھ درد کسی سےکہہ سکتا ہے ،قدرت
رکھتا ہو تو بدلہ بھی لے سکتا ہے مگربے زبان جانورکس سےفریاد کرے؟ افسوس صدافسوس !
فی زمانہ جانوروں پر جیسا ظلم کیا جاتا ہے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، کبھی تو ان بے
زبانوں کو وقت پر پانی اور چارہ نہیں دیاجاتا،تو کبھی گرمیوں کی سخت دھوپ میں یا
سردیوں کی سخت ٹھنڈی راتوں میں یونہی کھلےآسمان کےنیچے باندھ دیا جاتا ہے ،کبھی ان
پر طاقت سےزیادہ سامان لاد کر لمبے فاصلے تک زبردستی لے جایا جاتاہے ، منڈی سے
لانے کیلئے گاڑی پر چڑھانے اور اُتارنےکا مناسب انتظام نہیں کیا جاتا اور گاڑی میں
ریت یا بُھوسہ وغیرہ نہیں ڈالا جاتا ، جس سے کئی جانور زخمی ہوجاتےہیں ایسا کرنا
حرام و ناجائز اور اللہ پاک کی ناراضگی کا سبب ہے۔
محمد عمر رضا (دورہ حدیث مرکزی
جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ،پاکستان)
اسلام ہمیں نہ
صرف انسانوں بلکہ تمام مخلوقات کے ساتھ حسنِ سلوک، رحم اور عدل کا درس دیتا ہے۔ ہم
ہر روز انسانوں کے حقوق پر گفتگو کرتے ہیں، مگر کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جانوروں کے
بھی کچھ حقوق ہیں؟
وہ بےزبان مخلوق جو ہماری خدمت میں
لگی ہوئی ہے، جنہیں اللہ پاک نے انسان کے لیے مسخر فرمایا، ان پر ظلم نہ صرف گناہ
بلکہ غضبِ الٰہی کو دعوت دینا ہے۔ آپ بھی
جانور کے چند حقوق ملاحظہ کیجیے اور نیت کریں کہ اس پر عمل بھی کریں گیں ۔
جانوروں
کے حقوق ، قرآن و سنت کی روشنی میں
(1) خوراک و پانی کا حق:عَنْ اَبیْ ھُرَیْرَۃَ
عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ رَجُلًا رَاٰی کَلْبًا
یَأْکُلُ الثَّریٰ مِنَ العَطَشِ فَاَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّہٗ فَجَعَلَ یَغْرِفُ
لَہٗ بِہٖ حَتّٰی اَرْوَاہُ فَشَکَرَ اللہ لَہٗ فَاَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت
ہے کہ حضور نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ ایک
آدمی نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاس کی و جہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا تو اس شخص نے اپنا
موزہ لیا اور اس میں چلو سے پانی بھر کر اس کتے کو پلایا یہاں تک کہ وہ سیراب ہوگیا
تو اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ کام پسند آیا اور اس کو جنت میں داخل کردیا۔ (صحیح
بخاری، حدیث نمبر:173، 83/1
)
(2) ظلم سے تحفظ کا حق :عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ
صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:دَخَلَتْ اِمْرَأَۃٌ النَّارَ فِیْ ھِرَّۃٍ رَبَطَتْہَا
فَلَمْ تُطْعِمْھَا وَلَمْ تَدَعْھَا تَأْکُلُ مِنْ خُشَاشِ الْاَرْضِ یعنی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت
کرتے ہیں کہ حضور نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک عورت ایک بلی کے معاملہ میں جہنم میں داخل
ہوئی۔ اُس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا نہ تو اس کو کچھ کھلایا نہ اس کو چھوڑا کہ
وہ حشرات الارض کو کھاتی (صحیح بخاری، جلد 2، ص 408، حدیث نمبر 3318)
۔(یہاں تک کہ وہ بھوکی مرگئی)
پیارے اسلامی بھائیو ! دور حاضر میں بھی ہم
دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ جانوروں کو صرف تفریح کا ذریعہ سمجھ کر ان پر ظلم کرتے ہیں۔
قربانی کے جانوروں کو بھی اکثر بے دردی سے مارا جاتا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات کے
سراسر منافی ہے۔اسلام تو ہمیں جانوروں پر رحم کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ اگر ہم ان
احادیث کو مدنظر رکھیں اور جانوروں کے حقوق پورے کریں جیسا پورا کرنے کا حق ہے تو
ہمیں دنیا و آخرت دونوں جگہ فائدہ ہوگا ۔ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے ۔ امین
ہمارا پیارا دین
اسلام ہر مسلمان کی جان و مال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ
ہمیں جانوروں کے ساتھ بھی اچھے انداز میں پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے اور وہیں ہمارا
اسلام جانوروں کے ساتھ ظلم نہ کرنے اور ان کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے اور جو
ظلم کرتا ہے اس کا انجام بھیانک ہوتا ہے، چنانچہ حضرت سیدنا شیخ محمد اسماعیل بخاری
علیہ رحمۃ الله الباری صحیح بخاری میں نقل کرتے ہیں: حضرت سیدنا ابو موسی اشعری رضی
الله تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار مدینہ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: بے
شک الله ظالم کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھر اس
کو نہیں چھوڑتا یہ فرما کر سرکار نامدار صلی الله علیہ وسلم نے پارہ 21 سورہ ہود آیت
نمبر 102 تلاوت فرمائی : (ترجمہ کنز الایمان :اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب
بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بےشک اس کی پکڑ دردناک کرّی(سخت) ہے )۔ (صحیح
البخاری ج3 ص247 حدیث 4686)
جس طرح ہم پر
انسانوں کی حقوق ہوتے ہیں اسی طرح جانوروں کے بھی ہم پر حقوق ہیں لہذا جانوروں کو
بلا وجہ شرعی تکلیف پہنچانا جائز نہیں، حضرت احمد بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ
فرماتے ہیں: ہم وفد کی صورت میں ایک بار بارگاہ فاروقی میں عظیم فتح کی خوشخبری لے
کر حاضر ہوئے، آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے استفسار فرمایا: تم لوگ کہاں ٹھہرے ہو? میں
نے جگہ کے بارے میں بتایا تو آپ رضی الله تعالی عنہ ہمارے ساتھ اس جگہ تک آئے اور
ہر سواری کو غور سے دیکھتے رہے پھر فرمایا تم لوگ ان سواریوں کے معاملے میں الله
عزوجل سے نہیں ڈرتے؟ تم نہیں جانتے کہ ان جانوروں کا بھی تم پر حق ہے۔(تاریخ دمشق،
33/ 291 ملتقطاً)
سرکارابدقرار
شفیع روز شمار صلی الله علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: ان جانوروں پر اچھی طرح
سواری کرو اور (جب ضرورت نہ ہو تو) ان سے اتر جاؤ راستوں اور بازاروں میں گفتگو
کرنے کے لیے انہیں کرسی نہ بنا لو کیونکہ کئی سواریوں کے جانور اپنے سوار سے بہتر
اور اس سے زیادہ الله عزوجل کا ذکر کرنے والے ہوتے ہیں۔ (جامع الاحادیث۔1/404.حدیث
2865)
حضرت سیدنا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ ہم سرکار مدینہ قرار قلب و سینہ
صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو
ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے دو بچے تھے ہم نے انہیں پکڑ لیا چڑیا ائی اور پھڑ
پھڑانے لگی سرکاری نامدار مدینے کے تاجدار صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو دریافت
فرمایا کس نے اس کے بچوں کے معاملے میں تکلیف پہنچائی ہے؟ اس کے بچے اسے لوٹا دو۔
(ابوداؤد 3/85 حدیث: 2685)
سرکار مدینہ
قرار قلب و سینہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی چڑیا کو بلا
ضرورت قتل کریگا وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ عزوجل کے بارگاہ میں فریاد کرتے ہوئے
عرض کرے گی : اے میرے رب مجھے بلا ضرورت قتل کیا تھا کسی نفع کے لیے قتل نہیں کیا۔
(نسائی،3/83 حدیث:4535)
محمد خضر حیات (درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان ابو عطار ماڈل کالونی کراچی ،پاکستان)
جانور اللہ
تعالیٰ کی مخلوق ہیں، جنہیں انسانوں کی خدمت، فائدے اور مختلف کاموں کے لیے پیدا کیا
گیا ہے۔ اسلام ایک مکمل طرز زندگی فراہم کرتا ہے جو لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ
ساتھ جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تلقین کرتا ہے۔ جانوروں کے حقوق کے بارے میں
اسلام کی تعلیمات بہت واضح ہیں، جو ہمدردی، رحم دلی اور ذمہ داری پر زور دیتے ہیں۔
قرآن اور احادیث میں جانوروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کے لیے کئی ہدایات موجود ہیں۔
اس مضمون میں ہم جانوروں کے حقوق کے حوالے سے اسلامی نقطہ نظر کو ایک آیت اور تین
احادیث کی روشنی میں بیان کریں گے۔ قرآن مجید میں جانوروں کے حقوق اللہ تعالیٰ نے
قرآن میں جانوروں کی اہمیت کو کئی بار بیان کیا ہے۔ سورہ النحل میں ارشاد ہے: وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَاۚ-لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ
مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪(۵) ترجمہ کنزالایمان:
اور چوپائے پیدا کیے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں اور ان میں سے
کھاتے ہو ۔(پ14،النحل: 5)
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت کو بار بار بیان کیا۔ یہاں تین
احادیث پیش کی جا رہی ہیں جن میں جانوروں کے حقوق کا ذکر ہے، ان کے عربی متن اور
ترجمے کے ساتھ۔ یہ احادیث کئی معتبر کتب میں موجود ہیں۔
جانوروں
کے ساتھ ظلم سے بچنے کی ہدایت :حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانوروں
کے چہروں پر مارنے اور ان پر داغ لگانے کی ممانعت ہے۔(صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ،
حدیث نمبر: 2117؛ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 2562)
یہ حدیث
جانوروں کے ساتھ ظالمانہ سلوک، جیسے کہ ان کے چہروں پر مارنا یا داغ لگانا، کی سختی
سے ممانعت کرتی ہے۔
جانوروں کو
کھانا اور پانی دینا، ان کے ساتھ ظلم سے بچنا، ان کی طاقت کے مطابق کام لینا اور
ذبح کے عمل کو شریعت کے مطابق انجام دینا ضروری ہیں۔ مثال کے طور پر، پالتو
جانوروں کی خوراک، صفائی اور مناسب ماحول کی فراہمی لازمی ہوتی ہے۔ مویشی پالنے
والے بھی ان کی صحت اور آرام کا خیال رکھیں۔معاشرتی تناظر میں جانوروں کے حقوق آج
کے دور میں صنعتی ترقی نے جانوروں کے استحصال کو بڑھاوا دیا ہے۔ فیکٹری فارمنگ اور
غیر شرعی ذبح جیسے مسائل کے خلاف اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آگاہی پھیلانا ضروری
ہے۔ ہمیں ایسی مصنوعات کو منتخب کرنا چاہیے جو ظلم سے پاک ہوں اور جانوروں کے حقوق
کا خیال رکھیں۔نتیجہ اسلام جانوروں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتا ہے اور ہمیں ان کے
ساتھ رحم دلی اور ذمہ داری سے پیش آنے کی تلقین کرتا ہے۔ مذکورہ آیت اور احادیث سے
واضح ہوتا ہے کہ جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک ایک اخلاقی فریضہ ہے اور اس کا بڑا
ثواب ہے۔ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں ان تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے اور معاشرے میں
جانوروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے آگاہی بڑھانی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اویس محمد علی (درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
یاد رہے کہ
جانور زمین پر اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کا اندازہ کچھ یوں لگا
سکتے ہیں۔ کہ اگر یہ نہ ہوں تو انسان رزق کے وافر حصے حصے سے محروم ہو جائے گا اور
جانوروں کا گوشت کھانے اور دودھ پینے کو ترس جائے گا لہذا ہمیں چاہیے کہ ہمیں
جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے ان کے حقوق ادا کرنے چاہیے ۔ آئیے جانوروں کے
چند حقوق پڑھیئے:
(1)
ظلم کرنا: جانور پر ظلم کرنا ذمی
کافر پر( اب دنیا میں سب کافر حربی ہیں) ظلم کرنے سے زیادہ برا ہے اور ذمی پر ظلم
کرنا ، مسلم پر ظلم کرنے سے بھی بُرا ہے کیوں کہ جانور کا کوئی معین و مدد گار
اللہ عزوجل کے سوا نہیں اس غریب کو اس ظلم سے کون بچائے! (در مختار و رَدُّ
المُحتار، ج 9 ص 772 )
(2)
ذبیحہ کو تکلیف پہنچانا: صحیح مسلم
میں شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی رسول الله صلى الله تعالى علیہ وسلّم
نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالی نے ہر چیز میں خوبی کرنا لکھ دیا ہے، لہذا قتل
کرو تو اس میں بھی خوبی کا لحاظ رکھو (یعنی بے سبب اس کو ایذا مت پہنچاؤ )اور ذبح
کرو تو ذبح میں خوبی کرو اور اپنی چھری کو تیز کر لے اور ذبیحہ کو تکلیف نہ
پہنچائے ۔(صحيح مسلم، كتاب الصيد.... إلخ، باب الأمر بإحسان الذبح والقتل ... إلخ،
الحديث: 57 - (1955) ، ص 1080)-
(3)
بطور تفریح نشانہ بنانا : نبی کریم
صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس پر لعنت کی جس نے ذی روح کو نشانہ بنایا ۔ (صحيح
مسلم، كتاب الصيد... إلخ ، باب النهى عن صبر البهائم، الحدیث: 59- (1958) ، ص
1081)
(4)
بلا وجہ تکلیف پہنچانا: ہر وہ فعل
جس سے جانور کو بلا فائدہ تکلیف پہنچے مکروہ ہے مثلاً جانور میں ابھی حیات باقی ہو
ٹھنڈا ہونےسے پہلے اس کی کھال اتارنا اس کے اعضاء کاٹنا یا ذبح سے پہلے اس کے سرکو
کھینچنا کہ رگیں ظاہر ہو جائیں یا گردن کو توڑنا، یو ہیں جانور کو گردن کی طرف سے
ذبح کرنا مکروہ ہے بلکہ اس کی بعض صورتوں میں جانور حرام ہو جائے گا۔ ( المرجع
السابق)
(5)
کسی جانور کو ناحق قتل کرنا:احمد
ونسائی و دارمی عبد الله بن عُمْرُو رضى الله تعالى عنهما سے راوی کہ رسول الله
صلى الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل کیا، اُس
سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سوال کرے گا ، عرض کیا گیا : یا رسول الله صلی الله
تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کاحق کیا ہے؟ فرمایا کہ اس کا حق یہ ہے کہ ذبح کرے اور
کھائے یہ نہیں کہ سر کاٹے اور پھینک دے۔ (المسند للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد
الله بن عمرو، الحديث: 7572، ج 2 ، ص 577)
اللہ تعالٰی
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں جانوروں پر رحم اور ان کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے
۔آمین یا رب العالمین
محمد مبین علی (درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
اللہ عزوجل نے
انسان کو اشرف المخلوقات پیدا فرمایا اور اس کو عقل کے ذریعے تمام مخلوقات پر برتری
عطا فرمائی اور اس پر بہت سی چیزوں کے حقوق کو ضروری قرار دیا جیسے کہ ماں
باپ،رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ۔اسی طرح جانوروں کے حقوق بھی لازم کیے ۔
آئیے ان حقوق میں سے چند کو ملاحظہ کرتے ہیں:
(1)ناحق
قتل نہ کرنا: روایت ہے حضرت عبد
اللہ عمرو بن عاص سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوکوئی چڑیا یا
اس سے اوپر کے کسی جانور کو ناحق مارڈالے تو اس کے قتل کے متعلق اللہ اس سے پوچھے
گا ، عرض کیا گیا : یارسول اللہ ! اس کا حق کیاہے ؟ فرمایا کہ اسے ذبح کرکے کھائے یہ
نہ کرے کہ اس کا سرکاٹے پھر اسے پھینک دے۔ (مشکاۃ المصابیح،جلد 2،کتاب الصید
والذبائح،الفصل الثانی،ص 489،ح 4093)
(2)نرمی
سے ذبح کرنا: حضرت سیِّدُنا ابویعلی
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
نے ارشاد فرمایا: بےشک اللہ پاک نے ہر چیز کے ساتھ بھلائی کرنا فرض کیا ہے، لہٰذا
جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح
کرو، تم اپنی چھری کو تیز کرو اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔ (صحیح
مسلم،کتاب الصید والذبائح ومال یؤکل من الحیوان،باب الامر باحسان الذبح والقتل،ص
161،ح 5055)
(3)جانور
نہ لڑوانا: حضرت ابن عباس رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جانور لڑوانے سے منع فرمایا۔ (مشکاۃ
المصابیح،جلد 2،باب ذکر الکلب،الفصل الثانی،ص 490،حدیث: 4104)
اللہ عزوجل ہمیں
جانوروں کے حقوق کو پامال کرنے سے بچائے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
شاہ زیب عطاری (درجہ سادسہ جامعہ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
دین اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں نہ صرف انسانوں کے بلکہ جانوروں کے حقوق کو بھی ملحوظ
خاطر رکھا گیا ہے جانوروں کے حقوق کے حوالے سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
کے فرامین اور صحابہ کرام اور تابعین کی اقوال و افعال بھی ہیں جن میں ان کے حقوق
کی تعلیم دی گئی ہے آئیے ہم بھی چند حقوق پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:
(1)
زیادہ بوجھ نہ ڈالنا: سہل بن حنظلیہ
سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : نبی ﷺ نے ایک جانور کو دیکھا جس کی پیٹھ پر بہت زیادہ
بوجھ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: جانوروں پر اس قدر بوجھ نہ ڈالو جو وہ اٹھا نہ سکیں اور
ان کو کھانے پینے سے محروم نہ رکھو۔( سنن ابی داود،باب في الرّحمة بالبهائم،صفحہ نمبر: 368،حدیث نمبر: 2548)
(2)
کھانے پینے سے محروم نہ کرنا : حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عورت
جہنم میں داخل ہوئی، اس وجہ سے کہ اُس نے ایک بلی کو باندھ کر رکھا، نہ اسے کھانے
کو دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ (صحیح بخاری،باب فضل
الإحسان إلى البہائم،صفحہ نمبر: 416،حدیث نمبر: 2365)
(3)
پیاسے کو پانی پلانا: حضرت ابو ہریرہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص چلتے ہوئے پیاسا ہوا، اس نے کنویں
سے پانی نکال کر پیا، وہاں ایک پیاسا کتا دیکھا، اُس نے کہا: یہ بھی میری طرح پیاسا
ہے۔ اُس نے اپنا موزہ اتار کر پانی بھرا اور کتے کو پلایا، اللہ نے اس کے عمل کو
پسند فرمایا اور اسے بخش دیا ۔( صحیح بخاری،باب فضل سقی الماء،جلد 1،صفحہ 416،حدیث
نمبر 2363)
جانوروں کے
حقوق کے متعلق چند مزید مفید معلومات و احکام:
۱۔جانوروں پر
ظلم زیادتی یا کھیل تماشے کے طور پر تکلیف دینا حرام ہے۔
۲۔ پالتو
جانوروں کی ذمہ داری لینا ان کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ مشروط ہے۔
۳۔ جانوروں کو
کھانا پانی اور سایہ فراہم کرنا اجر عظیم کا باعث ہے ۔
۴۔ جانور ذبح
کرتے وقت نرمی اور رحم سے پیش آنا چاہیے۔
اللہ عزوجل ہمیں
ان تمام احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے
کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ
النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
محمد عبدالرحمٰن عطاری (درجہ اولیٰ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے بلکہ
جانوروں جیسے بے زبان مخلوقات کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔ قرآن مجید ،
احادیثِ مبارکہ اور اقوالِ بزرگانِ دین اس بات پر گواہ ہیں کہ جانوروں کے ساتھ
شفقت اور عدل اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتا ہے:
وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا
السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ- ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر
چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ راہیں تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں گی ۔ (پ8، الانعام: 153)
اس آیت کی تفسیر کے مطابق صراطِ مستقیم میں
مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف شامل ہے، اور اس میں جانور بھی داخل ہیں۔(صراط الجنان، جلد 3، صفحہ 434)
(1)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص کسی جانور پر رحم
کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرماتا ہے۔ (بخاری، ج3،
ص429، حدیث 6003)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ مخلوقِ خدا پر رحم
کرنا، اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
(2)
جانوروں پر ظلم کی ممانعت:اسلام میں جانور کو بلا وجہ تکلیف دینا حرام ہے۔
ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ہے:ایک عورت جہنم میں داخل کی گئی اس وجہ سے کہ اس نے ایک
بلی کو باندھ کر رکھا، نہ اسے کھانے کو دیا نہ آزاد کیا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے
کھا لیتی۔(بخاری، ج1، ص245، حدیث 205)
یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جانور پر چھوٹا
سا ظلم بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔
اسلام کے مطابق جانور بے زبان ضرور ہیں، مگر ان
کے احساسات ہوتے ہیں۔ ان پر رحم، شفقت اور عدل واجب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی بھوک،
پیاس، آرام، اور علاج کا خیال رکھیں۔ یہی طرزِ عمل ایک سچے مسلمان کی نشانی ہے اور
یہی ہمارے دین کا پیغام ہے۔
Dawateislami