محمد مبین علی (درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
اللہ عزوجل نے
انسان کو اشرف المخلوقات پیدا فرمایا اور اس کو عقل کے ذریعے تمام مخلوقات پر برتری
عطا فرمائی اور اس پر بہت سی چیزوں کے حقوق کو ضروری قرار دیا جیسے کہ ماں
باپ،رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ۔اسی طرح جانوروں کے حقوق بھی لازم کیے ۔
آئیے ان حقوق میں سے چند کو ملاحظہ کرتے ہیں:
(1)ناحق
قتل نہ کرنا: روایت ہے حضرت عبد
اللہ عمرو بن عاص سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوکوئی چڑیا یا
اس سے اوپر کے کسی جانور کو ناحق مارڈالے تو اس کے قتل کے متعلق اللہ اس سے پوچھے
گا ، عرض کیا گیا : یارسول اللہ ! اس کا حق کیاہے ؟ فرمایا کہ اسے ذبح کرکے کھائے یہ
نہ کرے کہ اس کا سرکاٹے پھر اسے پھینک دے۔ (مشکاۃ المصابیح،جلد 2،کتاب الصید
والذبائح،الفصل الثانی،ص 489،ح 4093)
(2)نرمی
سے ذبح کرنا: حضرت سیِّدُنا ابویعلی
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
نے ارشاد فرمایا: بےشک اللہ پاک نے ہر چیز کے ساتھ بھلائی کرنا فرض کیا ہے، لہٰذا
جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح
کرو، تم اپنی چھری کو تیز کرو اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔ (صحیح
مسلم،کتاب الصید والذبائح ومال یؤکل من الحیوان،باب الامر باحسان الذبح والقتل،ص
161،ح 5055)
(3)جانور
نہ لڑوانا: حضرت ابن عباس رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جانور لڑوانے سے منع فرمایا۔ (مشکاۃ
المصابیح،جلد 2،باب ذکر الکلب،الفصل الثانی،ص 490،حدیث: 4104)
اللہ عزوجل ہمیں
جانوروں کے حقوق کو پامال کرنے سے بچائے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
Dawateislami