محمد عظیم الرحمٰن جلالی نقشبندی
(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے انسان کو اپنا نائب بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا تو دیگر تمام مخلوقات جیسے
حیوانات و نباتات وغیرھم کو اس کے تابع کردیا تاکہ انسان ان سے فائدہ حاصل کرسکے،
مگر اس کے ساتھ ساتھ دین اسلام کی روشنی میں ان کے حقوق سے بھی آگاہ کیا تاکہ
انسان ان پر رحم اور حسن سلوک والا معاملہ کرے اور حکمت و دانائی کے ساتھ اس نعمت
کا شکر بجا لائے ۔ اس سلسلے میں آج جانوروں کے حقوق کے بارے میں چند باتیں قارئین
کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔
(1)
رحمدلی اور شفقت سے پیش آنا: جانوروں
کا سب سے اولین حق انسان پر یہ ہے کہ ان کے ساتھ رحمدلی اور حسن سلوک سے پیش آئیں
اگر انہیں کسی چیز کی طلب ہوتو پوری کریں، شریعتِ مطہرہ نے جانوروں پر رحم کرنے کا
حکم دیا ہے اور ان کو تکلیف دینے سے سختی سے منع فرمایا ہے، جانورں میں ہمارے رحم
کے سب سے زیادہ طلبگار گھریلو جانور ہوتے ہیں جنہیں ہم عموماً گھر میں پالتے ہیں
اور اس کے علاؤہ بھی جو جانور ہماری قدرت میں ہوں۔ جیسے کہ احادیث نبویہ سے ہمیں
اس سلسلے میں رہنمائی ملتی ہے چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عُذِّبَتِ ٱمْرَأَةٌ فِى
هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ
ایک عورت کو ایک
بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا، اس نے اسے باندھ کر رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی، اس کی
سزا میں وہ عورت جہنم میں داخل ہوئی۔ (صحیح بخاری، جلد اوّل، باب فضل سقی الماء،
حدیث نمبر 2365)
(2)
طاقت سے زیادہ وزن نہ لادنا: کچھ
جانور ایسے ہوتے ہیں جیسے اونٹ، گھوڑا،خچر وغیرہ جنہیں انسان مختلف اشیاء اور سازو
سامان لادنے کیلئے استعمال کرتا ہے، ہمیں ان سے ان کی طاقت اور بساط سے زیادہ وزن
نہیں ڈالنا چاہیے،کیونکہ مصطفیٰ کریم ﷺ نے ان پر ان کی طاقت سے زیادہ وزن لاد کر
ظلم کرنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ حدیث پاک میں :
حضرت یعلی بن
مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم (ایک سفر میں) حضور نبی اکرم ﷺ کے
ساتھ چل رہے تھے تو میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے تین اُمور (معجزات) دیکھے۔ ہمارا
گزر ایک اونٹ کے پاس سے ہوا جس پر پانی رکھا جا رہا تھا۔ اس اونٹ نے جب حضور نبی
اکرم ﷺ کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اپنی گردن (از راهِ تعظیم) آپ ﷺ کے سامنے
جھکا دی۔ حضور نبی اکرم ﷺ اس کے پاس کھڑے ہو گئے اور فرمایا : اس اونٹ کا مالک
کہاں ہے؟ اس کا مالک حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا : یہ اونٹ مجھے بیچتے ہو؟
اس نے عرض کیا : نہیں، حضور، بلکہ یہ آپ کے لیے تحفہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں،
بلکہ اسے مجھے بیچ دو۔ اس نے دوبارہ عرض کیا : نہیں، بلکہ یہ آپ کے لیے تحفہ ہے،
اور بے شک یہ ایسے گھرانے کی ملکیت ہے کہ جن کا ذریعہ معاش اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا : اب تمہارے ذہن میں یہ بات آئی ہے کہ اس اونٹ نے ایسا کیوں کیا
ہے۔ اس نے شکایت کی ہے کہ تم اس سے کام زیادہ لیتے ہو اور چارہ کم ڈالتے ہو۔ اس کے
ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ (مسند امام احمد، رقم الحدیث 17565، جلد 29 صفحہ نمبر 106،
مؤسسۃ الرسالہ)
(3)
سواری کرتے وقت حسن سلوک سے پیش آنا: جانوروں
کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ جن جانوروں پر سواری کی جاتی ہے تو سواری کرتے وقت
رحمدلی کا دامن نہ چھوٹے، آقائے دوجہاںﷺ نے اسی کے بارے ارشاد فرمایا:عن سَهْلِ بْنِ
الْحَنظَلِيَّةِ، قَالَ:مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ
بِبَطْنِهِ، فَقَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ الْمَعْجَمَةِ، فَارْكَبُوهَا
صَالِحَةً، وَكُلُوهَا صَالِحَةً
ترجمہ: حضرت
سہل بن حَنْظَلِیَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، تاجدارِ رسالت ﷺ ایک
ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی پیٹھ پیٹ سے مل گئی تھی تو ارشاد فرمایا: ان بے
زبان جانوروں کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو، ان پر اچھی طرح سوار ہوا کرو
اور انہیں اچھی طرح کھلایا کرو۔(ابوداؤد، جلد اوّل، کتاب الجھاد، باب ما یؤمر به من القیام علی
الدواب والبھائم، حدیث نمبر 2548)
(4)
جانوروں کو خوراک کی فراہمی: جس
طرح ہم انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح جانور
بھی اپنی بقاء کےلئے خوراک کے محتاج ہوتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ جو جانور ہماری قدرت
میں ہوں یا ہم نے پالے ہوں تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان کی خوراک کا اچھا انتظام کریں
اور انہیں اچھا صاف ستھرا ماحول فراہم کریں۔
(5)
جانوروں کے بارے معلومات کی فراہمی کے لیے ہر علاقے میں مراکز کا قیام: اس دور میں ہمارے معاشرے میں حکومتی سطح پر
جانوروں خاص کر وہ جانور جن سے عام طور پر عوام کا کم ہی واسطہ پڑتا ہے یا جنہیں
لوگ عموماً جان لیوا سمجھتے ہیں جیسے جنگلی حیات ،سانپوں اور ان جیسے دوسرے زمینی
اور آبی جانوروں کی اقسام کے بارے معلومات فراہم کرنے کےلئے ایسے مراکز بنانے چاہئیں
جہاں سے لوگوں کو ان بےضرر جانوروں کے بارے تعلیم دی جاسکے اور وہ جانور جو انسان
کے لیے خطرناک نہیں ہیں بلکہ ماحول دوست ہیں ان کو ناپید ہونے سے بچایا جا سکے اور
قدرت کی طرح طرح کی مخلوق سے انسان فائدہ اٹھا سکے۔
الله تعالیٰ
ہمیں دین اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنے اور انہیں
محفوظ ماحول فراہم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!
Dawateislami