احمدرضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
ہمارے پیارے دین
اسلام نے ہمیں مسلمانوں کی خیر خواہی حسن سلوک اور غریبوں کی مدد کرنے کا درس دیتا
ہے ۔ اسی طرح جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بھی تلقین کرتا ہے۔ جانور جو کہ
جدا جدا شکل وصورت والے ، الگ الگ اوصاف اور مزاج رکھنے والے ہیں۔ ان کی جنسیں بھی
مختلف ہیں۔ آج کے دور میں ان کو بلاوجہ ایذا دی جاتی ہے ۔ جانور پر ظلم انسان پر
ظلم کرنے سے زیادہ بڑا ہے ۔ کہ انسان تو اپنا درد کسی سے کہہ سکتا ہے ۔لیکن بے
زبان جانور کسی سے فریاد نہیں کر سکتا ۔ ہمیں جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
آئیے جانوروں کے حقوق کے متعلق کچھ احادیث ملاحظہ کرتے ہیں۔
(1
) جانور نہ لڑوانا : آج کے معاشرے
میں مرغ ، اونٹ ، بیل لڑانے کا بہت شوق ہے۔ یہ سخت حرام ہے بلاوجہ جانور کو ایذا رسانی
دی جاتی ہے۔ روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے جانور لڑوانے سے منع فرمایا ۔(مشکوۃ المصابیح ، کتاب الصيد والذبائح ،
صفحہ نمبر : 372 ، حدیث : 3922)
(
2 ) وقت پر کھانا دینا : ہمیں
جانوروں کے دانہ پانی کا خیال رکھناچاہیے۔ انہیں وقت پر کھانا دینا چاہیے۔ چنانچہ
حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا : ایک عورت جہنم میں گئی ایک بلی کے سبب کہ اسےباندھے رکھا تھا۔
نہ خود کھانا دیا۔ نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یا جو جانور اس کو ملتا کھاتی۔(
جامع الاحادیث ، باب : ، جلد : 4 ، صفحہ نمبر : 199 ، حدیث نمبر : 2380 ،مکتبہ
اکبر بک سیلرز لاہور )
(
3 ) جانور کا خیال رکھنا :روایت
میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر پیٹ سے
ملی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان بے زبانوں چوپایوں کے
معاملے میں اللہ سے ڈرو، اُن پر اس وقت سوار ہو جب یہ صحیح حالت میں ہوں اور انہیں
اس وقت کھاؤ جب یہ ٹھیک ہوں۔( ابو داود شریف ،کتاب الجھاد ، باب ما يؤمر به من القيام على
الدواب والبهائم ، 3 / 32 ، حدیث
نمبر : 2548 )
(
4 ) ناحق قتل کرنا : کسی جانور کو
بغیر کسی عذر بلاوجہ نہ قتل کیا جائے ۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عمر و ابن عاص سے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی چڑیا یا اس سے اوپر
کے کسی جانور کو ناحق مار ڈالے ۔ تو اس کے قتل کے متعلق اللہ اس سے پوچھے گا، عرض
کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا کہ اسے ذبح کر
کے کھائے یہ نہ کرے کہ اس کا سر کاٹے پھر اسے پھینک دے۔ ( مشکوۃ المصابيح ، كتاب
الصيد والذبائح ، صفحہ نمبر : 371 ، حدیث 3912 )
(
5 ) جانوروں سے نرمی برتنا : جانوروں
کے ساتھ نرمی کرنے ان کا خیال رکھنے میں ہماری ہی بھلائی ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
: جب تم سرسبز زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو زمین سے ان کا حصہ دو اور جب بنجر زمین
میں سفر کرو تو اُنہیں تیز چلاؤ اور ان کے تھکنے سے پہلے وہاں سے گزر جاؤ اور جب
تم رات میں قیام کرو تو راستے میں اترنے سے بچو کیونکہ وہ جانوروں کا راستہ ہے اور
وہ جگہ رات کے وقت کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانا ہے۔ (مسلم شریف ، کتاب الامارة و باب مراعاة مصلحة الدواب
في السير۔۔۔۔ الخ، صفحہ نمبر : 818
، حدیث نمبر : 4959 ، 4960 ملتقطا )
(
6 ) بلاوجہ برا نہ کہنا : جانوروں
کو برا مت سمجھا جائے ۔ اُن میں سے ایک مرغ بھی ہے یعنی مرغ کو نہ برا کہو نہ برا
سمجھو ۔ چنانچہ روایت ہے حضرت خالد ابن زید سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا ۔( مشکوۃ المصابيح ، كتاب الصيد
والذبائح ، صفحہ نمبر : 374 ، حدیث نمبر : 3953 )
(7)
جانور کو مثلہ نہ کرو : ہمیں جانوروں
کا مثلہ نہیں کرنا چاہیئے یعنی جانور کے اعضاء کو کاٹنا نہیں چاہیے جیسے : کان ، سینگ
، پاؤں وغیرہ ۔ چنانچہ حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی جاندار
کو مثلہ کرے۔( جامع الاحادیث ، باب : ، جلد: 4 ، صفحہ نمبر : 201 ، حدیث نمبر :
2384،مکتبہ : اکبر بک سیلرز لاہور )
Dawateislami