اللہ تعالیٰ
نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کے لیے زمین و آسمان کی تمام مخلوقات کو
مسخر کیا، جن میں جانور بھی شامل ہیں۔ جانور انسان کی ضروریات کی تکمیل، خوراک،
سواری، لباس، اور دیگر فوائد کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہیں۔ اسلام ایک مکمل
ضابطہ حیات ہے، جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانات کے حقوق اور ان کے ساتھ حسن سلوک
کے احکامات بھی بیان کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور آپ کی عملی زندگی ہر
جاندار کے لیے رحمت کا عملی نمونہ پیش کرتی ہیں۔ یہ مضمون جانوروں کے احکامات، ان
کے شرعی حقوق، اور موجودہ دور میں ان کے حقوق کی ادائیگی کے طریقوں پر روشنی ڈالتا
ہے۔
وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَاۚ-لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا
تَاْكُلُوْنَ۪(۵) وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪(۶)
وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا
بِشِقِّ الْاَنْفُسِؕ-اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ(۷) وَّ الْخَیْلَ وَ
الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةًؕ-وَ یَخْلُقُ مَا لَا
تَعْلَمُوْنَ(۸)ترجمہ کنزالایمان: اور چوپائے پیدا کیے ان میں
تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں اور ان میں سے کھاتے ہو اور تمہارا ان میں
تَجَمُّل ہے جب انہیں شام کو واپس لاتے ہو اور جب چرنے کو چھوڑتے ہو اور وہ تمہارے
بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں ایسے شہر کی طرف کہ تم اس تک نہ پہونچتے مگر ادھ مرے
ہوکربےشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے اور وہ پیدا
کرے گا جس کی تمہیں خبر نہیں۔ (النحل: 5تا 8)
ان آیات سے
معلوم ہوتا ہے کہ جانور انسانوں کے لیے فائدہ، زینت، اور خدمت کے لیے پیدا کیے گئے
ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے
جانوروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی واضح تعلیمات دیں۔
جن میں سے چند
اہم احادیث درج ذیل:
حسن سلوک اور ایذا نہ دینے کا حکم: حضرت سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا: اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ
فَارْكَبُوهَا وَكُلُوهَا صَالِحَةً (ابو
داؤد: 2548) یعنی ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان پر اچھی طرح
سوار ہوا کرو اور انہیں اچھی طرح کھلایا کرو ۔
یہ حدیث
جانوروں کے ساتھ نرمی، ان کی مناسب خوراک، اور ان پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالنے کی
تعلیم دیتی ہے۔
جانوروں
کی خدمت کا ثواب: حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے ایک کتے کو پانی
پلایا جو پیاس سے ہانپ رہا تھا اور گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔ اللہ نے اس کی نیکی کی
قدر کی اور اسے جنت عطا کی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول ﷲ ﷺ کیا جانوروں کی خدمت میں
بھی اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر ذی حیات کو نفع پہنچانے میں اجر ہے۔ (بخاری: 2363)
یہ حدیث
جانوروں کے ساتھ رحم دلی اور ان کی خدمت کے ثواب کو بیان کرتی ہے۔
جانوروں
کو ایذا دینے کی سزا: حضرت جابر بن
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ایک عورت کو ایک بلی کی
وجہ سے عذاب دیا گیا کہ اس نے اسے باندھ کر رکھا، نہ کھانا دیا، نہ پانی، اور نہ ہی
آزاد کیا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی۔ (صحیح مسلم: 2100)
یہ حدیث
جانوروں کو ایذا دینے کی شدید ممانعت اور اس کی سزا کو واضح کرتی ہے۔
جانوروں
کے لیے مناسب خوراک اور پانی کا انتظام کرنا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم سبزہ والی زمین سے گزرو تو
جانوروں کو چرنے کا موقع دو۔ (صحیح مسلم: 4959)
جانوروں
کے ساتھ حسن سلوک کرو: پالتو
جانوروں (مثلاً بلی، کتا) کو مناسب خوراک، پانی، اور رہائش فراہم کریں۔ کھیتی باڑی یا بار برداری کے جانوروں پر ان کی
طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں، جانوروں کو غیر ضروری تکلیف دینے سے اجتناب کریں،
جیساکہ انہیں مارنا یا سخت محنت کروانا۔ جانوروں کو لڑانے یا ان سے ریس کروانے سے گریز
کریں، کیونکہ اس سے انہیں ایذا پہنچتی ہے اور قمار بازی( جوا، سٹہ بازی) کا عنصر
شامل ہو سکتا ہے جوکہ حرام ہے لہذا ایسے کاموں سے بچنا چاہیے۔
اسلام جانوروں
کے ساتھ رحمدلی، حسن سلوک، اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا درس دیتا ہے۔ قرآن کریم ،
احادیث، علما، اور صحابہ کرام کے اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ جانور اللہ کی عظیم
نعمت ہیں، جن سے انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے، لیکن ان کے ساتھ ظلم یا ایذا رسانی
حرام ہے، جانوروں کی مناسب دیکھ بھال، اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات اہم ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں جانوروں کے ساتھ رحم دلی اور ان
کے حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
Dawateislami