محمد تیمور عطاری (درجہ سابعہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
دین اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے دین اسلام صرف عبادات اور معاملات پر منحصر نہیں بلکہ دین
اسلام نے جس طرح انسان کی عظمت کو بیان کیا اسی طرح اسلام کے خوبی یہ بھی ہے کہ اس
نے ہر ذی روح کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم بھی دیا جس طرح انسان کے حقوق بیان
فرمائے اسی طرح جانوروں وغیرہ کے حقوق کو بھی اجاکر فرمایا ، چنانچہ آپ بھی
جانوروں کے حقوق ملاحظہ کیجیے :
(
1 ) اپنے جانوروں کو راحت پہنچاؤ : حضرت
سَیِّدُنا ابو یعلیٰ شداد بن اَوس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہےکہ
حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صحیح ﷺنے ارشادفرمایا: ”بے شک! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے
ہرچیز میں احسان کو لازم فرمایا ہے، پس جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل
کرو ،جب کسی جانور کوذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو اور اپنی چھری کو خوب تیز
کرلواور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچاؤ۔“( مسلم کتاب الصید و الذبائح و ما یوکل من
الحیوان ،باب الامر باحسان الذبح و القتل ، ص 832 ، حدیث ، 5055 )
( 2 ) جانوروں کے دانہ پانی کا خیال رکھو : حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک عورت جہنم میں گئی ایک بلی کے سبب کہ اس سے باندھے
رکھا تھا نہ خود کھانا دیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑایا جو جانور اس کو ملتا
کھاتی اس وجہ سے اس عورت کے لیے جہنم واجب ہو گئی ۔ ( جامع الاحادیث ، جلد 4 ،صفحہ
200 ، حدیث ،2381 ، مکتبہ اکبر بک سیلرز لاہور )
(
3 ) جانوروں کے بارے میں اللہ پاک سے ڈرو : روایت ہے حضرت سہیل ابن حنظلیہ سے، فرماتے ہیں رسول اﷲ
صلی اللہ علیہ و سلم ایک اونٹ پر گزرے،جس کی پیٹھ پیٹ سے مل گئی تھی تو فرمایا : ان
بے زبان جانوروں میں اﷲ سے ڈرو ان پر سوار ہو جب وہ لائق سواری ہوں اور انہیں چھوڑ
دو لائق سواری کی حالت میں ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح ، جلد ، 5 ، ص ، 198 ، حدیث ، 3223
)
(
4 ) جانوروں کو آپس میں نہ لڑانا : روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ و سلم نے جانور لڑوانے سے منع فرمایا۔( مشکوٰۃ المصابیح ، جلد:5 ، حدیث نمبر:
4103 )
شرح حدیث :اللہ تعالٰی رحم فرمائے،آج مسلمانوں میں
مرغ لڑانا،کتے لڑانا،اونٹ،بیل لڑانے کا بہت شوق ہے یہ حرام سخت حرام ہے کہ اس میں
بلا وجہ جانوروں کو ایذاء رسانی ہے،اپنا وقت ضائع کرنا۔بعض جگہ مال کی شرط پر
جانور لڑائے جاتے ہیں یہ جوا بھی ہے حرام درحرام ہے۔جب جانوروں کو لڑانا حرام ہے
تو انسان کو لڑانا سخت حرام ہے۔خیال رہے کہ اسلامی فوج کو کفار سے لڑانا جہاد ہے،یونہی
مشن کے لیے تیاری اور جہاد کے لیے کشتی لڑنا اور لڑانا جہاد کی تیاری ہے یہ دونوں
کام عبادت ہیں،مسلمانوں کی آپس میں جنگ کرانا یہ حرام ہے،لڑانا اور چیز ہے،کشتی اور
جہاد اور چیز۔( مشکوٰۃ المصابیح ، جلد:5 ، حدیث نمبر: 4103 )
(
5 ) چہرے پر مارنا منع ہے : روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے چہرے میں مارنے چہرے میں داغ لگانے سے منع فرمایا ۔( مشکوٰۃ المصابیح جلد
، 5 ص ، 673 ، شکار اور ذبیحوں کا بیان)
شرح حدیث :انسان یا جانور کے چہرے پر مارنا سخت
منع ہے منہ پر نہ تمانچہ مارے نہ کوڑا وغیرہ کیونکہ چہرے میں نازک اعضاء ہیں جیسے
آنکھ ، ناک ، کان ، جس پر چوٹ لگنے سے موت یا اندھے ہو جانے یا چہرا بگڑ جانے کا
خطرہ ہے اور چہرے میں داغ لگانا تو بہت ہی برا ہے کہ اس میں تکلیف بھی بہت ہے اور
منہ کا بگاڑ دینا ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح جلد ، 5 ص ، 673 ، شکار اور ذبیحوں کا بیان)
( 6 ) جانوروں
کو مارنا منع ہے : روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار
جانوروں کے قتل سے منع فرمایا چیونٹی،شہد کی مکھی،ہدہد اورممولا ہ (ایک عجیب
الخلقت پرندہ)۔ ( کتاب: مشکوٰۃ المصابیح ، جلد:5 ، حدیث ، 4145 )
ہمیں بھی چاہیے
کہ ہم جانور کو اچھے طریقے سے ذبح کریں مثلا جانور کو ذبح سے پہلے خوب کھلا پلا لیا
جائے ایک کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کیا جائے اس کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے ، ماں
کے سامنے بچے کو اور بچے کے سامنے ماں کو ذبح نہ کیا جائے یعنی ذبح کرنے کی جگہ کی
طرف گھسیٹ کر نہ لے جایا جائے اور جان نکل جانے سے پہلے اس کی کھال نہ اتاری جائے
کہ یہ تمام باتیں ظلم اور زیادتی ہیں ذبیحہ کو آرام پہنچاؤ ، تیز چھری سے ذبح کر دینے
میں راحت ہے گھنڑی چھری سے ذبح کرنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے اس سے بچنا چاہیے پوری
گردن نہ کاٹ دیں صرف حلقوم اور رگیں کاٹیں ۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر کسی کے ساتھ اس کے منصب کے مطابق بھلائی اور سلوک کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
Dawateislami