جانور اللہ پاک کی پیاری و نرالی مخلوق ہے ، قدرت کا انمول تحفہ، اور ماحول کا حسن ہے جو نہ صرف انسیت کا ذریعہ ہے بلکہ بہت سے معاشی فوائد کا بھی سبب ہے جانور دودھ، گوشت ، ہڈیاں ، اون کے حصول کا ذریعہ ہیں، ان کے حقوق کی ادائیگی اور حسن سلوک اللہ پاک کی رضا اور آخرت میں کامیابی اور ثواب کا ذریعہ ہے ان کے حقوق کی عدم ادائیگی اور ان پر ظلم اللہ پاک کی نافرمانی، گناہ اور دخول جہنم کا سبب بن سکتا ہے دین اسلام کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے جانور کے حقوق کو بھی اجاگر فرمایا آئیے ہم بھی ان میں سے چند حقوق پڑھتے ہیں اور عمل کی نیت کرتے ہیں:

(1) وقت پر کھانا دینا: جانور کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اس کو وقت پر کھانا وغیرہ دیا جائے اور بھوکا پیاسا نہ رکھا جائے ایک عبرت ناک حدیث پاک میں ہے کہ رَحمت ِ عالَم ،نورِ مُجَسَّم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جہنَّم میں ایک عورت کو اس حال میں دیکھا کہ وہ لٹکی ہوئی ہے اور ایک بلّی اُس کے چہرے اور سینے کو نوچ رہی ہے اور اسے ویسے ہی عذاب دے رہی ہے جیسے اس(عورت) نے دنیا میں قید کر کے اور بھوکا رکھ کراسے تکلیف دی تھی۔ اس روایت کا حکم تمام جانوروں کے حق میں عام ہے۔(صحیح البخاری،کتاب المساقاۃ،باب فضل سقی الماء،ص 218 ، ج2 ،الحدیث:2363 مفہوماً )

(2) رحم کرنا: جانوروں پر رحم اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا اللہ پاک کی خوشنودی اور اجر و ثواب کا سبب ہے جیسا کہ ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بکری ذبح کرنے پر رحم آتا ہے فرمایا: اگر اس پر رحم کرو گے اللہ بھی تم پر رحم فرمائے گا، (مسند احمد بن حنبل ج5 ص 304 حدیث 15592)

(3) بقدرِ طاقت کام لینا: جانور سے اس کی طاقت کے مطابق کام لیا جائے اور اس پر زیادہ بوجھ سوار نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کو مارا جائے جیسا کہ امام احمد بن حجر مکی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: انسان نے ناحق کسی چوپائے کو مارا یا اسے بھوکا پیاسا رکھا یا اس سے طاقت سے زیادہ کام لیا تو قِیامت کے دن اس سے اسی کی مثل بدلہ لیا جائے گا جو اس نے جانور پر ظلم کیایا اسے بھوکا رکھا( الزواجر عن اقتراف الکبائر، ج2، صحیح 174)

(4) ظلم نہ کرنا: جانور پر ظلم کرنا اور اسے تکلیف دینا حرام اور ناجائز ہے جیسا کہ بہار شریعت میں ہے: جانور پر ظلم کرنا ذمی کافر پر ظلم کرنے سے زیادہ برا ہے اور ذمی پر ظلم کرنا مسلم پر ظلم کرنے سے بھی برا ہے کیوں کہ جانور کا کوئی معین و مددگار اللہ کے سوا نہیں اس غریب کو اس ظلم سے کون بچائے ۔ (در مختار و رد المختار ج9 ص 662)

(5) بلا وجہ نہ مارنا : جانور کو بلا وجہ مارنا و قتل کرنا اور اس کو تفریح کے طور پر شکار کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے جیسے کہ امیرِ اہلِ سنّت علّامہ محمد الیاس قادری صاحب فرماتے ہیں :ہمارے یہاں گلیوں مىں پھرنے والے کتوں کو عُموماً بچّے مارتے ہىں اور جب وہ بھونکتے ہیں تو مزے لىتے ہىں ، بِلاوجہ ان کتوں کو مارنا ظلم ہے۔ یاد رکھئے!جانور کى بَددُعا بھى مقبول ہے۔ اپنا یہ ذہن بنا لیجئے کہ نہ کتے کو مارنا ہے اور نہ ہی بلى اور چیونٹى کو ، اس لئے کہ چیونٹى کو بھى بِلاوجہ مارنا ناجائز و گناہ ہے۔ بچّے اس بے چاری کو مارتے رہتے ہیں تو بچّوں کو ایسا کرنے سے روکنا چاہئے۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِسنّت(قسط24) ، کتے کے متعلق شرعی احکام ، ص27ملخصاً)

پیارے اسلامی بھائیو!دینِ اسلام کی خوبی ہے کہ اس نے انسانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا ہے ۔جس طرح کسی انسان پر ظلم و زیادتی حرام ہے، اسی طرح جانوروں کو بُھوکا پیاسا رکھنا ،مارپیٹ کرنا تکلیف پہنچانا بھی حرام ہے بلکہ جانوروں پر ظلم کرنا انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ بڑا گناہ ہے کہ انسان تو اپنا دکھ درد کسی سےکہہ سکتا ہے ،قدرت رکھتا ہو تو بدلہ بھی لے سکتا ہے مگربے زبان جانورکس سےفریاد کرے؟ افسوس صدافسوس ! فی زمانہ جانوروں پر جیسا ظلم کیا جاتا ہے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، کبھی تو ان بے زبانوں کو وقت پر پانی اور چارہ نہیں دیاجاتا،تو کبھی گرمیوں کی سخت دھوپ میں یا سردیوں کی سخت ٹھنڈی راتوں میں یونہی کھلےآسمان کےنیچے باندھ دیا جاتا ہے ،کبھی ان پر طاقت سےزیادہ سامان لاد کر لمبے فاصلے تک زبردستی لے جایا جاتاہے ، منڈی سے لانے کیلئے گاڑی پر چڑھانے اور اُتارنےکا مناسب انتظام نہیں کیا جاتا اور گاڑی میں ریت یا بُھوسہ وغیرہ نہیں ڈالا جاتا ، جس سے کئی جانور زخمی ہوجاتےہیں ایسا کرنا حرام و ناجائز اور اللہ پاک کی ناراضگی کا سبب ہے۔

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں جانوروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین