محمد صدام حسین عطاری (تخصص فی
الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
ایک شکاری ہرنی
کا شکار کر کے لے جا رہا تھا کہ اس کا گزر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے
ہوا ۔ جس رب العالمین نے ہر چیز کو بولنے کی صلاحیت بخشی ہے ہر نی کو بھی بولنے کی
طاقت عطا فر ما دی ۔اس نے کہا: یا رسول میرے بچے ہیں میں ان کو دودھ پلاتی ہوں ابھی
بھوکے ہیں اس کو حکم ارشاد فرما ئیے مجھے چھوڑ دے تاکہ میں جا کر بچوں کو دودھ پلا
سکوں اور میں واپس آ جاؤں گی ۔نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔تو اگر لوٹ
کر نہ آئی تو ۔۔عرض کی: اگر لوٹ کر نہ آؤ ں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی ایسے لعنت ہو
جیسے اس پر ہو تی ہے جس کے سامنے آ پ کا ذکر ہو اور وہ درود نہ پڑھے یا میں اس شخص
کی طرح ہو جاؤں جو نماز پڑھے لیکن دعا نہ مانگے ۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے شکاری سے فرمایا: اس کو چھوڑ دے میں اس کا ضامن ہوں۔پھر ہرنی چلی گئی(دودھ پلا
کے) پھر واپس آ گئی۔ (القول البدیع ، الباب الثالث فی التحذیر من ترک الصلاۃ علیہ
عند ما یذکر صلی اللہ علیہ وسلم ۔ص 313 ،محمد بن عبد الرحمن سخاوی ۔دارالکتب)
اس واقعے سے
ہمیں جانوروں کے ساتھ ہمدردی ، بھلائی اور ان کے تحفظ حقوق کا بہترین سبق ملتا ہے
۔ اسلام کی کئی خوبیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کے حقوق واضح کیے ۔
اور ان کو پورا کرنے پر اجر عظیم کی بشارتیں سنائیں ۔
(1) جانور بھی
مخلوق خدا ہیں ان کے حقوق سے آ گاہ کرنے کے ساتھ ساتھ پورا کرنے کا حکم بھی دیا
۔اور پورا کرنے والے کے لیے اجر بھی بیان فرمایا ۔جانورں کے کئی طرح کے حقوق ہیں
مثلاً :ان کی بھوک پیاس کا خیال رکھا جائے ۔احادیث میں اس کی ترغیب موجود ہے، حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ایک آ دمی نے پیاسے کتے کو اپنے موزے سے پانی پلایا ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی بخشش
کردی۔صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کی ۔کیا ہمیں چوپایوں پر بھی اجر ملے گا؟
فرمایا: ہر جاندار میں ثواب ہے ۔ (بخاری، جلد 3 ،صفحہ ،230۔حدیث نمبر 2374)
(2) ان کے لئے
گرمیوں میں چھاؤں کا اور سردیوں میں دھوپ کا بہترین انتظام کیا جائے ۔ اور جانوروں
کا خیال نہ رکھنے اور ان کو بھوکا پیاسا رکھنے والوں کےلئے وعید سنائی ۔جیسے
عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت
کو عذاب بلی کی وجہ سے ہوا جس کو اس نے کافی دیر باندھے رکھا اور اس کو کھا نا نہ
دیا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ زمین سے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔(بخاری ۔جلد 3،ص
237، حدیث نمبر : 3715 )
(3)
جانوروں پر زیادہ بوجھ نہ لاداجائے : بلا
وجہ تنگ نہ کیا جائے اور نہ بلا وجہ مارا جائے ۔خاص طور کتے کو کیونکہ حدیث پاک میں
اس کو بلا وجہ مارنے سےخصوصاً منع کیا گیا ۔حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ نہ ہوتا کہ کتے بھی مخلوق میں سے
مخلوق ہیں تو میں ان سب کے قتل کا حکم دیتا ۔(مرآ ۃ المناجیح ،جلد ،5، ص642، حدیث :3923)
اس کے تحت مفتی
احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں : بلا ضرر (نقصان نہ دینے کی صورت میں)اس کا مارنا
ممنوع ۔ (مرآ ۃ المناجیح ،جلد ،5، ص642، حدیث :3923)
جانوروں کے
ساتھ ایسی کوئی حرکت نہ کی جائے جس سے وہ ڈر جائیں مثلاً ان کے پاس شور نہ کیا
جائے ۔ گاڑی یا بائیک ان کے پاس لا کر ایک دم ہارن نہ بجا یا جائے ۔ تماشہ دیکھنے
کےلئے جانوروں کو آ پس میں نہ لڑایا جا ئے ۔ کیونکہ اس سےجا نور شدید زخمی ہو جا
تےہیں بلکہ بعض دفعہ مر بھی جاتے ہیں۔
حضرت ابن عباس
رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور لڑوانے سے منع
فرمایا ۔ ( مرآ ۃ المناجیح جلد 5 ۔مفتی احمد یا خان نعیمی۔حدیث نمبر ،3924 ۔صفحہ
،643 )
مفتی احمد یار
خان نعیمی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : اللہ رحم فرمائے ۔آج مسلمانوں میں مرغ
لڑانا ،کتے لڑانا اور اونٹ بیل لڑانے کا بہت شوق ہے ۔یہ حرام سخت حرام ہے اس میں
بلا وجہ جانور کو ایذا رسانی ہے ۔اپنا وقت ضائع کرنا ہے ۔ بعض جگہ ما ل کی شرط پر
جا نور لڑائے جاتے ہیں یہ جوا بھی ہے ۔حرام در حرام ہے۔ ( مرآ ۃ المناجیح جلد 5
۔مفتی احمد یا خان نعیمی۔حدیث نمبر ،3924 ۔صفحہ ،643 )
فریشمینٹ
کے لیے جانوروں کا شکار نہ کیا جائے : نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس پر لعنت کی جس نے ذی روح کو
نشانہ بنایا۔ ( صحیح مسلم ،جلد2،دارالطباعۃ، العامرہ،باب النھی عن صبرالبھائم
،الحدیث: 1957، ص 73 )
رسول اﷲ
صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:’’جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل کیا
اس سے اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن سوال کرے گا، عرض کیا گیا : یارسول اﷲ ! ( صلَّی
اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) اس کا حق کیا ہے فرمایا کہ’’ اس کا حق یہ ہے کہ
ذبح کرے اور کھائے یہ نہیں کہ سر کاٹے اور پھینک دے۔(مسند احمد، جلد 11، ص 448۔ حدیث
6862 )
Dawateislami