شاہ زیب عطاری (درجہ سادسہ جامعہ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
دین اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں نہ صرف انسانوں کے بلکہ جانوروں کے حقوق کو بھی ملحوظ
خاطر رکھا گیا ہے جانوروں کے حقوق کے حوالے سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
کے فرامین اور صحابہ کرام اور تابعین کی اقوال و افعال بھی ہیں جن میں ان کے حقوق
کی تعلیم دی گئی ہے آئیے ہم بھی چند حقوق پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:
(1)
زیادہ بوجھ نہ ڈالنا: سہل بن حنظلیہ
سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : نبی ﷺ نے ایک جانور کو دیکھا جس کی پیٹھ پر بہت زیادہ
بوجھ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: جانوروں پر اس قدر بوجھ نہ ڈالو جو وہ اٹھا نہ سکیں اور
ان کو کھانے پینے سے محروم نہ رکھو۔( سنن ابی داود،باب في الرّحمة بالبهائم،صفحہ نمبر: 368،حدیث نمبر: 2548)
(2)
کھانے پینے سے محروم نہ کرنا : حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عورت
جہنم میں داخل ہوئی، اس وجہ سے کہ اُس نے ایک بلی کو باندھ کر رکھا، نہ اسے کھانے
کو دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ (صحیح بخاری،باب فضل
الإحسان إلى البہائم،صفحہ نمبر: 416،حدیث نمبر: 2365)
(3)
پیاسے کو پانی پلانا: حضرت ابو ہریرہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص چلتے ہوئے پیاسا ہوا، اس نے کنویں
سے پانی نکال کر پیا، وہاں ایک پیاسا کتا دیکھا، اُس نے کہا: یہ بھی میری طرح پیاسا
ہے۔ اُس نے اپنا موزہ اتار کر پانی بھرا اور کتے کو پلایا، اللہ نے اس کے عمل کو
پسند فرمایا اور اسے بخش دیا ۔( صحیح بخاری،باب فضل سقی الماء،جلد 1،صفحہ 416،حدیث
نمبر 2363)
جانوروں کے
حقوق کے متعلق چند مزید مفید معلومات و احکام:
۱۔جانوروں پر
ظلم زیادتی یا کھیل تماشے کے طور پر تکلیف دینا حرام ہے۔
۲۔ پالتو
جانوروں کی ذمہ داری لینا ان کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ مشروط ہے۔
۳۔ جانوروں کو
کھانا پانی اور سایہ فراہم کرنا اجر عظیم کا باعث ہے ۔
۴۔ جانور ذبح
کرتے وقت نرمی اور رحم سے پیش آنا چاہیے۔
اللہ عزوجل ہمیں
ان تمام احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے
کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ
النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
Dawateislami