محمد جنید جاوید ( درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
الحمدللہ
عزوجل ہم مسلمان ہیں اور ہمارے اسلام نے ہر معاملے میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے
اور ہمارے پیارے اسلام نے حقوق اللہ کے بارے میں بھی بتایا ہے اور حقوق العباد کے
بارے میں بھی ہماری رہنمائی فرمائی ہے اور اس کے علاوہ ہر چیز کےکچھ نا کچھ حقوق
ہوتے ہیں اور آ ج ہم ان شاء عزوجل جانوروں کے حقوق میں سے کچھ حقوق کا مطالعہ کرتے
ہیں:
(1)
جانوروں کے دانہ پانی کا خیال رکھو: حدیث
پاک میں ہے :حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک عورت جہنم میں گئی ایک بلی کے سبب کہ اسے
باندھے رکھا تھا نہ خود کھانا دیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑایا جو جانور اس کو
ملتا کھاتی۔ ( جامع الاحادیث ،جلد چہارم ،صفحہ،نمبر199)
(2)جانور
کو مثلہ نہ کرو: حدیث پاک میں ہے :
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: اس پر اللہ کی لعنت ہے جوکسی جاندار کو مثلہ کرے۔ (حاشیہ مسند امام
احمد ،صفحہ نمبر3)
(3)
جانور بازی نا جائز ہے: حدیث پاک میں
ہے : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے سے منع فرمایا ۔ (فتاوی رضویہ، حصہ اول، 9/ 195)
(4)جانور
کی سواری اس وقت کرنا جب وہ سواری کے لائق ہو: روایت ہے حضرت سہیل ابن حنظلہ سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی
اللہ علیہ و سلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے،جس کی پیٹھ پیٹ سے مل گئی تھی تو فرمایا:
ان بے زبان جانوروں کےبارے میں اﷲ سے ڈرو ، ان پر سوار ہو جب وہ لائق سواری ہوں
اور انہیں چھوڑ دو لائق سواری کی حالت میں ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد5 حدیث نمبر3370 )
(5)جانور
کو ناحق قتل کرنا کیسا: حضرت عبداللہ
بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم
نے فرمایا: جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل کیا اس سے اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن
سوال کرے گا ، عرض کیا گیا یارسول ﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کا حق
کیا ہے فرمایا کہ اس کا حق یہ ہے کہ ذبح کرے اور کھائے یہ نہیں کہ سر کاٹے اور پھینک
دے۔ (بہار شریعت حصہ 15 صفحہ نمبر323)
نوٹ: اللہ پاک
سے دعا ہے کہ ہمیں ان حقوق پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے
اور جنہیں ان حقائق کا علم نہیں ہے انہیں سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین بجاہ
النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وبارک وسلم
محمد مبشر عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ،پاکستان)
یاد رہے کہ
جانور زمین پر اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت ہیں اور اس نعمت کا اندازہ کچھ یوں لگا
سکتے ہیں۔ کہ اگر یہ نہ ہوں تو انسان رزق کے وافر حصے سے محروم ہو جائے گا اور
جانوروں کا گوشت کھانے اور دودھ پینے کو ترس جائے گا لہذا ہمیں چاہیے کہ ہمیں
جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے ان کے حقوق ادا کرنے چاہیے۔ آئیے جانوروں کے
حقوق کے متعلق کچھ آپ بھی پڑھیئے:
(1)
ظلم کرنا:جانور پر ظلم کرنا ذمی
کافر پر( اب دنیا میں سب کافر حربی ہیں) ظلم کرنے سے زیادہ برا ہے اور ذمی پر ظلم
کرنا مسلم پر ظلم کرنے سے بھی بُرا ہے کیوں کہ جانور کا کوئی معین و مدد گار اللہ
عزوجل کے سوا نہیں اس غریب کو اس ظلم سے کون بچائے! (در مختار و رَدُّ المُحتار، ج
9، ص 772 )
(2)
ذبیحہ کو تکلیف پہنچانا: صحیح مسلم
میں شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی رسول الله صلى الله تعالى علیہ وسلّم
نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالی نے ہر چیز میں خوبی کرنا لکھ دیا ہے لہذا قتل کرو
تو اس میں بھی خوبی کا لحاظ رکھو (یعنی بے سبب اس کو ایذا مت پہنچاؤ )اور ذبح کرو
تو ذبح میں خوبی کرو اور اپنی چھری کو تیز کر لے اور ذبیحہ کو تکلیف نہ پہنچائے۔ (صحيح
مسلم، كتاب الصيد.... إلخ، باب الأمر بإحسان الذبح والقتل ... إلخ، الحديث: 57 - (1955)
، ص 1080)
3)
بطور تفریح نشانہ بنانا : صحیحین میں
انھیں سے مروی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس پر لعنت کی جس نے ذی روح
کو نشانہ بنایا ۔ (صحيح مسلم، كتاب الصيد... إلخ ، باب النهى عن صبر البهائم، الحدیث:
59- (1958) ، ص 1081)
(4)
بلا وجہ تکلیف پہنچانا: ہر وہ فعل
جس سے جانور کو بلا فائدہ تکلیف پہنچے مکروہ ہے مثلاً جانور میں ابھی حیات باقی ہو
ٹھنڈا ہونےسے پہلے اس کی کھال اوتارنا اس کے اعضاء کاٹنا یا ذبح سے پہلے اس کے
سرکو کھینچنا کہ رگیں ظاہر ہو جائیں یا گردن کو توڑنا یو ہیں جانور کو گردن کی طرف
سے ذبح کرنا مکروہ ہے بلکہ اس کے بعض صورتوں میں جانور حرام ہو جائے گا۔ ( المرجع
السابق)
(5) رسول الله
صلى الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل کیا اس
سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سوال کرے گا ، عرض کیا گیا یا : رسول الله صلی الله
تعالیٰ علیہ والہ وسلم) اس کاحق کیا ہے فرمایا کہ اس کا حق یہ ہے کہ ذبح کرے اور
کھائے یہ نہیں کہ سر کاٹے اور پھینک دے۔ (المسنداللامام حمد بن حنبل، مسند عبد
الله بن عمرو، الحديث: 7572، ج 2 ، ص 577)
اللہ تعالٰی
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں جانوروں پر رحم اور ان کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے
۔آمین یا رب العالمین
محمد احمد عطاری (درجہ اولی جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
دین اسلام میں
جس طرح عبادات واخلاقیات کادرس ملتا ہے اسی طرح دین اسلام نے ہماری توجہ اس طرف بھی
مبذول کروائی کہ ہم جانوروں کا بھی خیال رکھیں ان کے حقوق اداکریں ۔ آئیے ہم بھی
جانور کے چند حقوق پڑھتے ہیں اور علم میں اضافہ کرتے ہیں ۔
(1)
جانوروں پر رحم کرنا: حضرت سہل بن
حنظلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ایک ایسے
اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی پیٹھ پیٹ سے مل گئی تھی، ارشاد فرمایا : ان بے زبان
جانوروں کے بارے میں اللہ عزوجل سے ڈرو اور ان پر اچھی طرح سوار ہوا کرو اور انہیں
اچھی طرح کھلایا کرو۔ ( صراط الجنان فی تفسیر القران ، جلد:5، صفحہ نمبر:283۔ 284۔
مکتبہ اسلامیہ)
(2)
بلا وجہ جانوروں کو برا بھلا کہنا:
حضرت خالد بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا ۔ ( مرآہ المناجیح شرح مشکوت المصابیح ، باب: کس
جانور کا کھانا حلال اور کس کا حرام، جلد:5 صفحہ نمبر :700 حدیث نمبر:3955۔ مکتبہ
اسلامیہ)
(3)
ناحق قتل نہ کرنا: روایت ہے حضرت
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
: جو کوئی چڑیا یا اس سے اوپر کے کسی جانور کو ناحق مار ڈالے تو اس کے قتل کے
متعلق اللہ اس سے پوچھے گا ، عرض کیا گیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
اس کا حق کیا ہے ؟ فرمایا کہ اسے ذبح کرکے کھائے یا نہ کرے کہ اس کا سر کاٹے پھر
اسے پھینک دے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ مصابیح، باب شکار اور ذبحوں کا بیان ، جلد:5
صفحہ نمبر:679 حدیث نمبر :3915 ۔ مکتبہ اسلامیہ)
(4)
جانوروں کو وقت پر کھانا دینا: روایت
ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک عورت جہنم میں گئی ایک بلی کے سبب کے
اسے باندھے رکھا تھا، نہ خود کھانا دیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑایا جو جانور اس
کو ملتا کھاتی ۔ (جامع الحدیث:باب: جلد:4صفحہ نمبر:199حدیث نمبر:2381۔ مکتبہ اکبر
بک سیلرز لاہور)
(5)
ذی روح کو نشانہ نہ بناؤ: آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر لعنت کی جس نے ذی روح کو نشانہ بنایا ۔ ( صحیح مسلم،
کتاب الصید۔۔۔ الخ ، باب النہی عن صبر البھائم 59 ص1081)
محمد سراج الدین عطّاری(درجہ
خامسہ جامعۃ المدینہ کنزالایمان مصطفیٰ آباد رائیونڈ لاہور ،پاکستان)
اسلام کا یہ
حسن ہے کہ اس نے ہمیں ایک دوسرے کی حقوق سے آگاہ کیا ہے اور ہر معاملہ کے اندر
معلومات فراہم کی ہیں، اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے یعنی زندگی گزارنے کے اصول قاعدے
اور قوانین کا مجموعہ ہے ،شریعت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں ہمیں انسانوں کے
آپس کے حقوق بتائے اور ہمیں جانوروں کی حقوق بھی بتائے اور اس پر ہمیں ثواب اور
بخشش کی بشارت دی ہے ۔ اب ہم یہاں کچھ جانوروں کے حقوق درج کرتے ہیں :
(1)
کام زیادہ نہ لینا اور چارہ کم نا ڈالنا : ہمیں جانوروں کی طاقت سے زیادہ کام نہیں لینا چاہیے اور چارہ بھی اس کی
خوراک کے مطابق ڈالنا چاہیے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک اونٹ
کے پاس سے ہوا اونٹ نے جب آپ کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اپنی گردن آپ کے
سامنے جھکا دی آپ اس کے پاس کھڑے ہو گے اور فرمایا اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ مالک
حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا : یہ اونٹ بیچتے ہو اس نے عرض کی نہیں بلکہ یہ آپ کے لیے
تحفہ ہے ،مزید عرض کی کہ یہ ایسا گھرانے کا ہے کہ جن کی پاس اس کے علاوہ اور کچھ
بھی نہیں ، آپ نے فرمایا : اس اونٹ نے شکایت کی ہے کہ تم اس سے زیادہ کام لیتے ہو
اور چارہ کم ڈالتے ہو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ ( مسند احمد ، 29 /106)
(2)
شفقت کرنا : ہمیں جانوروں کے ساتھ
شفقت والا معاملہ کرنا چاہیے کیونکہ اس پر اجر ملتا ہے جیساکہ صحابہ کرام نے سوال
کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں پر شفقت کرنے سے بھی ہمیں ثواب ملاتا
ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہر ذی روح پر شفقت کا اجر ملتا ہے ۔( بخاری، کتاب المظالم و
الغصب ، باب الابار علی الطرق ۔۔ 2 /133 حدیث: 2466 )
(3)
بلا ضرورت نہ مارنا : ہمیں جانوروں
پر ظلم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ظلم آخرت کا اندھیرا ہے کیونکہ اسلام ہمیں بلا
ضرورت مارنے کی اجازت نہیں دیتا جیسا کہ امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے
ہیں : چونٹی کو بلا ضرورت نا ماریں بلکہ اسے اپنے قبیلے سے بھی نہ نکالیں کیونکہ یہ
قبیلہ کے ساتھ رہتی ہے اور فرماتے ہیں بلا اجازت شرعی مکھی کو بھی تکلیف دینے کی
اجازت نہیں ۔( 786 نصیحتیں ، ص 73)
(4)
تکلیف کو دور کرنا : اگر ہم جانور
کو تکلیف میں دیکھیں تو ضرور ہمیں اس کی مدد کرنا چاہیے تاکہ اس کی بدولت ہمارے
گناہ معاف ہو جائیں جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ایک شخص سفر میں
جا رہا تھا کہ اسے راستے میں سخت پیاس لگی اسے قریب ہی ایک کنواں نظر آیا جب کنویں
سے پانی پی کر چلا تو دیکھا ایک کتا پیاس کی مارے زبان باہر نکالے پڑا ہے اسے خیال
آیا کہ اسے بھی میری طرح پیاس لگی ہو گی وہ واپس ہو گیا منہ میں پانی بھر کر کتے
کے پاس آیا اور اسے پلا دیا اللہ نے پاک محض اسی رحم کی بدولت اس کے گناہوں کو
معاف کر دیا ۔( بخاری ، کتاب المظالم و الغصب ، باب الابار علی الطرق ۔ 2 / 133 حدیث
2466)
اللہ پاک ہمیں
جانوروں کہ حقوق پڑھ کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
حافظ طلحہ (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
اسلام وہ واحد اور منفرد مذہب ہے
جس میں انسانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کو بھی بیان کیا گیا ہے
اسلامی تعلیمات کے مطابق جانوروں کو نہ صرف فقط انسانی خدمات کے لیے پیدا کیا گیا
بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق ان کے ساتھ اچھا سلوک اور نرمی کرنے کا بھی حکم دیا
گیا ، قرآن پاک میں کئی مقامات پر جانوروں کا ذکر کیا گیا تاکہ لوگ ان کہ حقوق
فوائد اور ان کے مقاصد کو پہچانیں ، چنانچہ اللہ تعالی جانوروں کے مقاصد کو بیان
کرتے ہوئے قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَاۚ-لَكُمْ
فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪(۵) ترجمہ کنزالایمان: اور چوپائے پیدا کیے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور
منفعتیں ہیں اور ان میں سے کھاتے ہو ۔(پ14،النحل:
5)
تفسیر صراط الجنان : وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا :اور اس نے جانور پیدا کئے۔ اس سے پہلی آیتوں
میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا اور اس کے بعد انسان کی پیدائش
کا ذکر فرمایا جبکہ اس آیت اور اس کے بعد والی چند آیات میں ان چیزوں کا ذکر
فرمایا جن سے انسان اپنی تمام ضروریات میں نفع اٹھاتے ہیں اور چونکہ انسان کی سب
سے بڑی ضرورت کھانا اور لباس ہے کیونکہ ان سے بدنِ انسانی تَقوِیَت اور حفاظت حاصل
کرتا ہے اس لئے سب سے پہلے ان جانوروں کا ذکر کیا گیا جن سے یہ فوائد حاصل ہوتے ہیں
۔
آیت کا خلاصہ
یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اونٹ، گائے اور بکریاں وغیرہ جانور پیدا کئے ، ان کی
کھالوں اور اُون سے تمہارے لیے گرم لباس تیار ہوتے ہیں اوراس کے علاوہ بھی ان
جانوروں میں بہت سے فائدے ہیں جیسے تم ان کی نسل سے دولت بڑھاتے ہو، اُن کے دودھ پیتے
ہو، اُن پر سواری کرتے ہو اور تم ان کا گوشت بھی کھاتے ہو۔ (خازن، النحل، تحت الآیۃ:
۵، ۳ / ۱۱۳)
وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ
الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةًؕ- ترجمۂ کنزالعرفان: اور (اس نے)
گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے) تا کہ تم ان پر سوار ہو اور یہ تمہارے لئے زینت
ہے ۔ (پ14، النحل: 08)
لہٰذا ہمیں ان
بےزبان جانوروں کو انہی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہیے جن کیلئے انہیں پیدا کیا گیا
ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے چارے پانی وغیرہ کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ
انسان اگر بھوکا پیاسا ہوتو اپنی زبان سے کھانا پانی مانگ سکتا ہے مگر یہ بے زبان(Speechless) اپنی بھوک پیاس کی شکایت کسی سے نہیں کرسکتے اس لئے کبھی بھی ان
کے چارہ پانی کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔
اسی طرح حضرتِ
سَیِّدُناعَبْدُاللہ بن عمر رضی اللہ عنہمَاقریش کےبچوں کےپاس سےگزرے،وہ لوگ ایک
پرندےکوباندھ کراس پرپتھروں سےنشانہ بازی کررہےتھے۔جب انہوں نےآپ کوآتےدیکھاتوبھاگ
گئے۔آپ نےدریافت فرمایا:یہ کس نےکیا ہے؟رسولِ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
واٰلہٖ وَسَلَّمَ نےاس طرح(جانوروں کومُثلہ کرنےوالے)پرلعنت فرمائی ہے۔(بخاری،کتاب
الذبائح والصید،باب ما یکرہ من المثلۃ... الخ ،۳ / ۵۶۳،حدیث : ۵۵۱۵ )
جانوروں
کے ساتھ احسان اور شفقت کریں : منقول
ہے کہ راستہ چلتے ہوئے ایک شخص پر پیاس کا غلبہ ہوا تو اس کوایک کنواں ملا ،اُس نے
کنویں میں اُتر کر پانی پی لیا پھر جب وہ کنویں میں سے نکلا تو اچانک یہ دیکھا کہ
ایک کتّا(Dog) زبان نکالے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے تو اس آدمی نے دل میں یہ
سوچا کہ جیسی پیاس مجھ کو لگی تھی ایسی ہی پیاس اس کتّےکو بھی لگی ہے تو وہ کنویں
میں اُتر کر اپنے موزے میں پانی بھرکر لایا پھر کتےّ کو پلایاتو اس کا یہ عمل ربِ
کریم کو پسندآگیا اور اس کی بخش و مغفرت فرما کر جنت میں داخل فرما دیا۔یہ سُن
کرصحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یا رَسُوْلَ اللہ!صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کیاہمارےلئے چوپایوں کےساتھ احسان کرنےمیں
ثواب ہے؟ارشاد فرمایا:ہاں!ہرجاندارکےساتھ احسان(بھلائی) کرنےمیں ثواب ہے۔ (بخاری،کتاب
المظالم،باب الآبار علی الطرق …الخ،۲/۱۳۳،حدیث:۲۴۶۶)
اللہ تعالی
ہمارے دلوں کو نرم فرمائے اور ہمیں جانوروں کے حقوق اور ان کے ساتھ شفقت نرمی اور
رحم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین
ہمیشہ
ہاتھ بھلائی کے واسطے اٹھیں
بچانا ظلم و ستم سے مجھے سدا یارب
(وسائل بخشش)
علی بن غلام عباس ( درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
اللہ تعالی نے
انسان کی تخلیق فرمائی اور اس کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کے حقوق فرائض کو بیان
کیا اسی طرح جانور کے حقوق ادا کرنے کا بھی حکم دیا ۔ آئیے ہم بھی جانوروں کے چند
حقوق پڑھتے ہیں :
(
1)جانوروں پر رحم کرنا : حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،سیّد المرسَلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم
سرسبزی کے زمانے میں سفر کرو تو زمین سے اونٹوں کو ان کا حصہ دو اور جب تم خشکی کے
سال میں سفر کرو تو زمین سے جلدی گزرو (تاکہ اونٹ کمزور نہ ہو جائیں ) اور جب تم
رات کے وقت آرام کے لئے اترو تو راستے سے الگ اترو کیونکہ وہ جانوروں کے راستے اور
رات میں کیڑے مکوڑوں کے ٹھکانے ہیں۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب مراعاۃ مصلحۃ الدواب
فی السیر۔۔۔ الخ، ص1063، حدیث: 178)
(2)سواری
کے جانور کا خیال: روایت میں ہے کہ
رسول اللہ تعالی علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر پیٹ سے ملی ہوئی تھی
تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ان بے زبان چو پایوں کے معاملے میں
اللہ پاک سے ڈرو ان پر اس وقت سوار ہوں جب یہ صحیح حالت میں ہوں اور انہیں اسی وقت
کوڑا مارو جب یہ ٹھیک ہوں ۔ ( ابو داؤد ، کتاب الجہاد ، باب ما یؤمربہ من القیام
علی الدواب و البھائم، جلد 4، صفحہ نمبر 32 حدیث نمبر 2548)
(3)قتل
نا کرنا: روایت ہے حضرت عبداللہ
ابن عمر ابن عاص سے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی چڑیا یا اس سے اوپر
کے کسی جانور کو نہ حق مار ڈالے تو اس کے قتل کے متعلق اللہ اس سے پوچھے گا ، عرض
کیا گیا : یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کا حق کیا ہے ؟ فرمایا
کہ اسے ذبح کر کے کھائے یہ نہ کریں کہ اس کا سر کاٹے پھر پھینک دے ۔ (مراۃالمناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح ، باب شکار اور ذبیحوں کا بیان ، جلد 5 صفحہ 679 ، حدیث نمبر
3915 مکتبہ اسلامیہ )
(4)جانوروں
کے دانہ پانی کا خیال رکھو: حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ
والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک عورت جہنم میں گئی ایک بلی کے سبب کہ اسے باندھے
رکھا تھا نہ خود کھانا دیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یا جو جانور اس کو ملتا ہے
کھاتی ۔ (جامع الاحادیث ، جلد 4 ، صفحہ نمبر 199 ، حدیث نمبر 2380 ، مکتبہ اکبر بک
سیلرز )
مبین فاروق عطاری (درجہ سادسہ
مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اُسے عقل و شعور سے نوازا، اسلام دینِ فطرت
ہے، جو نہ صرف انسانوں کے، بلکہ جانوروں کے بھی حقوق واضح کرتا ہے۔ قرآن و حدیث میں
ہمیں بار بار جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین ملتی ہے، بلکہ بعض مواقع پر تو
جانوروں پر ظلم کرنے والے کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ جانور ہمارے فائدے کے لیے
ہیں، چنانچہ ارشاد باری ہوتا ہے :
وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَاۚ-لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا
تَاْكُلُوْنَ۪(۵) ترجمہ کنزالایمان: اور چوپائے پیدا کیے ان میں
تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں اور ان میں سے کھاتے ہو ۔ (سورۃ النحل، آیت: 5)
آیت کا خلاصہ
یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اونٹ، گائے اور بکریاں وغیرہ جانور پیدا کئے ، ان کی
کھالوں اور اُون سے تمہارے لیے گرم لباس تیار ہوتے ہیں اوراس کے علاوہ بھی ان
جانوروں میں بہت سے فائدے ہیں جیسے تم ان کی نسل سے دولت بڑھاتے ہو، اُن کے دودھ پیتے
ہو، اُن پر سواری کرتے ہو اور تم ان کا گوشت بھی کھاتے ہو۔ (خازن، النحل، تحت الآیۃ:
5، 3 / 113)
اس آیت سے
ظاہر ہوتا ہے کہ جانور انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، لیکن ان کے فائدے اٹھانے
کے ساتھ ساتھ ان پر ظلم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ اللہ کی نعمت ہیں تو ان کے ساتھ
برتاؤ بھی اللہ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ جانوروں کے حقوق کے متعلق چند احادیث
پڑھیے:
(1)
جانوروں کو بھوکا یا پیاسا رکھنا سخت گناہ ہے: اگر کسی نے جانور کو بھوکا پیاسا رکھا یا ایسی جگہ باندھ
دیا کہ وہاں سے وہ کھا پی نہ سکے اور وہ مر گیا تو سخت گناہگار ہے، اور اس پر وعید
آئی ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 886) جیسے کہ ایک حدیثِ مبارکہ کا
مفہوم ہے :ایک عورت کو اس لیے جہنم میں ڈالا گیا کہ اُس نے ایک بلی کو قید کر کے
بھوکا مار دیا۔ (بخاری ، کتاب المساقاۃ ، باب فضل سقی الماء ، صفحہ : 610 ، حدیث :
2364مفہوماً)
(2)جانوروں
پر حد سے زیادہ بوجھ ڈالنا ظلم ہے:جانور
پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادنا یا اُسے بغیر ضرورت کے دیر تک کھڑا رکھنا ظلم
ہے اور ایسی حرکتوں پر سخت عذاب کی وعید ہے۔(بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ
887)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ سے ڈرو ان بے زبان جانوروں کے بارے میں۔ (ابوداؤد،
کتاب الجہاد، باب ما یؤمر بہ من القیام علی الدواب والبہائم، 3 / 32، الحدیث:
2548)
(3)
ذبح کرتے وقت نرمی اور جلدی کرنا لازم ہے: ذبح سے پہلے چھری کو اچھی طرح تیز کر لینا چاہیے، اور جانور کے سامنے دوسری
چھری نہ تیز کریں، نہ اسے خوف میں مبتلا کریں۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، چھری تیز کرو اور جانور کو آرام دو۔ (مسلم،ص
832،حدیث: 5055)
پیارے اسلامی
بھائیو! ہمیں تمام جانداروں خصوصاً بے زبان جانوروں کے ساتھ شفقت، رحم دلی اور عدل
و انصاف کا برتاؤ کرنا چاہیئے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے حقوق پہچاننے اور ادا کرنے
والا بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
کلیم اللہ چشتی عطاری ( دورہ حدیث
مرکزی جامعہ المدینہ فیضان مدینہ جوہرٹاؤن لاہور ،پاکستان)
اسلام ایک
جامع مذہب ہے جو زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہےکیونکہ یہ تاقیامت رہنے والا ہمہ گیر
و بے نظیر مذہب ہے ، جس نے پیامِ انسانیت کا درس صرف انسان ہی تک محدود نہیں رکھا
بلکہ تمام مخلوقات کے حق میں پیش کیا ہےیہاں تک کہ بے زبان جانوروں کے حقوق کو بھی
تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہےکیونکہ جانور بھی اس کائنات کا ایک اہم جز ہیں ان کی حق
تلفی کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ انسانیت کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف
ہے۔شریعت مطہرہ نے ان پر احسان اور ان کے ساتھ نرمی اور شفقت ورحمت کواجروثواب کے
اعلٰی درجات اورمغفرت کے اسباب میں شمار کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ برا
سلوک، بلاوجہ ان کو تکلیف وعذاب دینے اور پریشان کرنے کو گناہ اور معصیت گردانا ہے۔
آئیے جانوروں کے چندحقوق کا مطالعہ کرتے ہیں
تاکہ ہم دین و دنیا کی بھلائیاں سمیٹ سکیں۔
(1)رحم
کرنا: جانوروں کو مارنے پیٹنے سے
بچنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ہماری طرح جاندار ہیں ان پر ہمیشہ رحم کرنا چاہیے اس کا
بہت زیادہ اجر ہے یہاں تک کہ ایک حدیث مبارکہ کے مطابق ایک آدمی نے کتے کو پانی
پلایا جس کے سبب اس کی مغفرت ہو گئی۔ (صحيح البخاری ،كِتَاب الشُّرْبِ
والْمُسَاقَاةِ،بَابُ فَضْلِ سَقْيی الْمَاءِ، جلد1، حدیث:2363، ص416)
(2)سامان
لادنے میں احتیاط: امام احمدبن
حجرمکی شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں: انسان نے ناحق کسی چوپائے
کو مارا یا اسے بُھوکا پیاسا رکھا یا اس سے طاقت سے زیادہ کام لیا تو قِیامت کے دن
اس سے اسی کی مِثْل بدلہ لیا جائے گاجو اس نےجانور پرظلم کیایااسےبھوکارکھاہوگا۔(الزواجر
عن اقتراف الکبائر ، 2/ 174)
( 3)
ظلم نہ کرنا: رَحمت ِ عالَم ،نورِ
مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےجہنَّم میں ایک عورت
کو اس حال میں دیکھاکہ وہ لٹکی ہوئی ہے اورایک بلّی اُس کے چہرےاورسِینےکونوچ رہی
ہےاوراسےویسےہی عذاب دےرہی ہے جیسےاس (عورت)نےدنیا میں قید کر کےاور بھُوکارکھ
کراسے تکلیف دی تھی۔ (صحیح البخاری،کتاب المساقاۃ،باب فضل سقی الماء،جلد1،حدیث2364
ص416مفہوماً )
ڈنک مچھر کا سَہا جاتا نہیں،کیسے میں پھر
قبر میں بچھّو کے ڈنک آہ سہوں گا یاربّ!
(4)جانوروں
کو آپس میں لڑانے کی ممانعت: رسول
اللہ ﷺ نے جانوروں اور چوپایوں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایا۔ (ابوداؤد،كِتَاب
الْجِهَادِ، باب فِی التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ،جلد1حدیث:2562 ص370 )
(5)جانوروں
کو ذبح کرنے میں بھی احتیاط: اللہ
تعالی نے بعض جانوروں کو ذبح کرکے اس کے گوشت سے انتفاع جائز قرار دیا ہے، ایسے
جانوروں کو ذبح کرنا شریعت کے منشا کے عین مطابق ہے لیکن اس میں بے راہ روی اور
ظلم وزیادتی ناروا سلوک کرنا غیردرست ہے جس طرح کہ آپ ﷺ نے ذبح کے تین آداب بیان
فرمائے ہیں :(1) اچھی طرح ذبح کرے(2) ذبح سے پہلے چھری تیز کرلے(3)اسے اذیت سے
بچانا (مثلا ذبح کے جانور کو ٹھنڈا ہونے دے، اس کے بعد کھال اتارے)(صحیح
مسلم،كِتَاب الصَّيْدِ ...الخ،باب الأَمْرِ بِإحسان...الخ،جلد2،حدیث5053ص232 )
پیارے اسلامی
بھائیو! ہمیں جانوروں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ حتی المقدور ان
کو مدنظر رکھناچاہئے کیونکہ جانور بھی احساس رکھتے ہیں، تکلیف محسوس کرتے ہیں، اور
فطری طور پر امن اور محبت کے خواہاں ہوتے ہیں ان کے حقوق کا تحقظ ایک مہذب معاشرے
کا طریق ہے اور اس سے ہمیں مغفرت و جنت کی لازوال نعمتوں کی توفیق مل سکتی ہے ۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ وہ ہمیں ان حقوق کی نگہبانی و پاسبانی کی توفیق بخشے۔ آمین
احمد صدیقی (درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ،پاکستان)
دین اسلام جس
طرح ہمیں انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اسی طرح جانوروں کے ساتھ
اچھا سلوک کرنے اور ان کے حق ادا کرنے کا بھی حکم دیتا ہے ، آیئے جانوروں کے چند
حقوق پڑھیئے :
(1)
جانوروں کو مثلہ نہ کرو : حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا : اس پر اللہ کی لعنت جو کسی جاندار کو مثلہ کرے یعنی جو جانوروں کے
اعضا کو کاٹے ۔ (جامع الاحادیث، جلد 4،حدیث نمبر 2384،صفحہ 201)
(2)جانوروں
کے دانہ پانی کا خیال رکھو : حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا : ایک عورت جہنم میں گئی بلی کے سبب کے اسے باندھے رکھا تھا نہ خود
کھانا دیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یا جو جانور اس کو ملتا کھاتی ۔ (جامع
الاحادیث ، باب جلد 4 صفحہ نمبر 199 حدیث نمبر : 2380 اکبر بک پبلشر لاہور )
(3)
سواری کے جانور کا خیال کرو: روایت
میں ہے کہ رسول اللہ تعالی علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر پیٹ سے ملی
ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ان بے زبان چو پایوں کے
معاملے میں اللہ پاک سے ڈرو ان پر اس وقت سوار ہوں جب یہ صحیح حالت میں ہوں اور
انہیں اسی وقت کوڑا مارو جب یہ ٹھیک ہوں ۔ ( ابو داؤد ، کتاب الجہاد ، باب ما یؤمربہ
من القیام علی الدواب و البھائم، جلد 4، صفحہ نمبر 32 حدیث نمبر 2548)
(4) جانوروں کو برا نہ کہنا :حضرت خالد بن زید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ یہ نماز کی اطلاع
دیتا ہے ۔(مراۃ المناجیح،شرح مشکواۃ المصابیح،باب کس جانور کو کھانا حرام اور کس
کوحلال)
(5)
جانوروں کے کھلانے پر اجر: حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
ہر گرم جگر والے کو کھلانا ثواب ہے ۔ (جامع الاحادیث، جلد چہارم ، ، صفحہ نمبر 199)
موجودہ دور میں
جانوروں کے ساتھ کئی طرح سے ظلم کیے جاتے ہیں اور ان کی حق تلفی کی جاتی ہے ، ہمیں
چاہیے کہ جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔
محمد قاسم عطاری (درجہ اولی
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
اسلام ایک پیارا
دین ہے ،اسلام انسان کو زندگی گزارنے کے اچھے طریقے بتاتا ہے اسی طرح جانوروں کے
بھی حقوق ہیں جس طرح انسان دوسرے انسان کا خیال رکھتا ہے اسی طرح انسانوں کو
جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے آئیے جانوروں کے بارے میں آپ بھی پڑے :
(1)جانوروں کو تکلیف نہ دینا : مستحب یہ ہے کہ ذبح سے پہلے چھری تیز کر لیں کند
چھری یا ایسی چیزوں سے ذبح کرنے سے بچے جس سے جانور کو ایذا ہو ۔ (بہار شریعت جلد
3 حصہ 15 باب ذبح کا بیان، صفحہ نمبر ، 3 ،مکتبۃالمدینہ )
(2)ناحق
قتل نہ کرنا : حضرت عبداللہ بن عمر
رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک
عورت جہنم میں گئی ایک بلی کے سبب کہ اسے باندھے رکھا تھا نہ خود کھانا دیا نہ
چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یا جو جانور اس کو ملتا کھاتی ۔ (الجامع الصحیح البخاری
،باب خمس من الدواب فواسق، صفحہ،467)
(3)جانور
نہ لڑوانا: حضرت عبداللہ بن عباس
رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم
لڑانے سے منع کیا ۔ (جامع الاحادیث ، ، جلد 4، صفات200، حدیث نمبر 2382)
(4)جانوروں
کو مثلہ نہ کرنا : حضرت عبداللہ بن
عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
اس پر اللہ کی لعنت جو کسی جاندار کو مثلہ کرے یعنی جو جانوروں کے اعضا کو کاٹے ۔ (جامع
الاحادیث، ،جلد 4،حدیث نمبر 2384،صفحہ 201)
(5)جانوروں
کو برا نہ کہنا :حضرت خالد بن زید
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا اور
فرمایا کہ یہ نماز کی اطلاع دیتا ہے ۔(مراۃ المناجیح،شرح مشکواۃ المصابیح،باب کس
جانور کو کھانا حرام اور کس کوحلال)
ہمیں چاہیے کہ
ہم جانوروں کے حق ادا کرتے رہیں ان کو کھانا پانی دیتے رہے اور ان کا خوب خیال رکھیں
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
محمد ہاشم عطاری (درجہ اولی جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ،پاکستان)
اللہ پاک سے
انسانوں کے نفع کے لیے ایک عظیم نعمت چوپائے عطا فرمائی جن سے انسان اپنی ضروریات
زندگی پوری کرتا ہے اور اللہ پاک نے ان جانوروں کو انسانوں کے تابع کیا ہے لیکن
مخلوق ہونے کی بنا پر ان کے بھی کچھ حقوق ہیں جن کے مدنظر رکھتے ہوئے انسانوں کو
ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے اسی لیے میں نے اس موضوع کو قلم بند کرنے کی کوشش
کی ہے تاکہ لوگ اس بے زبان مخلوق کے بھی حقوق کے متعلق معلومات حاصل کریں اور عمل
کریں۔
(1)
بلا وجہ جانور کو برا نہ کہنا :
روایت ہے حضرت خالد بن زید سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغ
کو برا کہنے سے منع کیا ، اور فرمایا کہ یہ نماز کی اطلاع دیتا ہے ۔ (کتاب مشکاۃ
المصابیح ، باب کس جانور کا کھانا حلال اور کس جانور کا حرام ہے، جلد 5 صفحہ نمبر
700 حدیث نمبر 3955 مکتبہ اسلامیہ )
(2)
جانوروں کا خیال رکھنا : روایت میں
ہے کہ رسول اللہ تعالی علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر پیٹ سے ملی
ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ان بے زبان چو پایوں کے
معاملے میں اللہ پاک سے ڈرو ان پر اس وقت سوار ہوں جب یہ صحیح حالت میں ہوں اور
انہیں اسی وقت کوڑا مارو جب یہ ٹھیک ہوں ۔ ( ابو داؤد ، کتاب الجہاد ، باب ما یؤمربہ
من القیام علی الدواب و البھائم، جلد 4، صفحہ نمبر 32 حدیث نمبر 2548)
(3)
روح کو نشانہ نہ بناؤ : صحیح مسلم
میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کے رسول اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
جس میں روح ہو اس کو نشانہ نہ بناؤ ۔ ( صحیح مسلم ، کتاب الصید ، باب النھی عن
صبرالبھائم حدیث نمبر 1958صفحہ نمبر 1080)
(4)
جانوروں کے دانہ پانی کا خیال رکھنا : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک عورت جہنم میں گئی ایک بلی کے سبب اسے باندھے رکھا تھا
نہ خود کھانا دیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یا جو جانور اس کو ملتا کھاتی۔ (بہار
شریعت جلد 3 حصہ نمبر15، ذبح کا بیان صفحہ نمبر ،311 حدیث نمبر ،12)
(5)
ناحق قتل کرنا : رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: جس
نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل کیا اور اس سے اللہ قیامت کے دن سوال کرے گا، عرض
کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا: اس کا
حق یہ ہے کہ ذبح کرے اور کھائے یہ نہیں کہ سرکاٹے اور پھینک دے ۔ (المسند الامام
احمد بن حنبل،مسلم عبداللہ بن عمر، الحدیث: 6562 ، جلد نمبر2، صفحہ نمبر 567)
اسامہ مشتاق ( درجہ ثانیہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
اللہ پاک نے
انسانوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے انہی نعمتوں میں سے چوپائے یعنی جانوربھی ہیں
بنی نوع انسان اپنی ضروریات زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں
تو جس طرح ان سے نفع حاصل کرتے ہیں اسی طرح انسانوں پر یہ لازم ہے کہ ان بے زبان
جانداروں پر ظلم نہ کریں جو ان کے حقوق بنتے ہیں وہ ادا کرے تو اس مضمون میں میں
نے ان احادیث کو ذکر کیا ہے جس میں نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں پر رحم
کرنے اور ان پر ظلم نہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے :
جانوروں پر نرمی کرنا: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم سرسبز زمین میں سفر کرو تو اونٹوں
کو زمین سے ان کا حصہ دو اور جب بنجر زمین میں سفر کرو تو انہیں تیز چلاؤ اور ان
کے تھکنے سے پہلے وہاں سے گزر جاؤ اور جب تم رات میں قیام کرو تو راستے میں اترنے
سے بچو کیونکہ وہ جانوروں کا راستہ ہے اور وہ جگہ رات کے وقت کیڑے مکوڑوں کا
ٹھکانہ ہے۔ (شرح مسلم للنووی ،کتاب الامارہ ،باب مراعاۃ مصلحۃالدوب فی السیر
الخ،جلد 7،حدیث 69،الجزء ثالث عشر ملخصاً )
جانوروں کا خیال رکھنا :حضرت سیدنا سہل بن عمرو اور ایک قول کے مطابق سہل بن ربیع
بن عمرو انصاری جو کہ ابن حنظلہ کے نام سے مشہور ہیں اور اہل بیت رضوان میں سے ہیں
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ایک اونٹ کے پاس سے
گزرے جس کی کمر پیٹ سے ملی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان بے
زبان چوپایوں کے معاملے میں اللہ عزوجل سے ڈرو، ان پر اس وقت سوار ہو جب یہ صحیح
حالت میں ہوں اور انہیں اس وقت کھاؤ جب یہ ٹھیک ہوں۔ (ابوداؤد،کتاب الجہاد ،باب مایؤمربه من القیام علی
الدواب والبهائم،32/3،حدیث 2548)
ناحق قتل نہ کرنا:احمدونسائی و درامی عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنھا سے
راوی کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل
کیا اس سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سوال کرے گا، عرض کیا گیا : یا رسول الله صلی
علیہ وسلم اس کا حق کیا ہےفرمایا اس کا حق یہ ہے کہ ذبح کرے اور کھائے یہ نہیں کہ
سرکاٹے اور پھینک دے ۔(المسند للام احمد بن حنبل، مسند عبد الله بن عمرو، الحدیث:
6562،ج 6، ص 567)
جانوروں کے دانے پانی کا خیال رکھنا: حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک عورت جہنم میں گئی ایک
بلی کے سبب کہ اسے باندھے رکھا تھا، نہ خود کھانا دیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا
یاجوجانور اس کو ملتا کھاتی۔(جامع الاحاديث، كتاب الحيوانات،ج4،ص199،حدیث2380)
جانوروں
کو نہ لڑوانا:حضرت عبد الله بن
عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول صلی الله علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم
لڑانے سے منع فرمایا۔(السنن لابی داؤد، باب فى التحريش بين البهائم ، 346/1)
اللہ پاک ہمیں جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے
اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami