علی بن غلام عباس ( درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
اللہ تعالی نے
انسان کی تخلیق فرمائی اور اس کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کے حقوق فرائض کو بیان
کیا اسی طرح جانور کے حقوق ادا کرنے کا بھی حکم دیا ۔ آئیے ہم بھی جانوروں کے چند
حقوق پڑھتے ہیں :
(
1)جانوروں پر رحم کرنا : حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،سیّد المرسَلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم
سرسبزی کے زمانے میں سفر کرو تو زمین سے اونٹوں کو ان کا حصہ دو اور جب تم خشکی کے
سال میں سفر کرو تو زمین سے جلدی گزرو (تاکہ اونٹ کمزور نہ ہو جائیں ) اور جب تم
رات کے وقت آرام کے لئے اترو تو راستے سے الگ اترو کیونکہ وہ جانوروں کے راستے اور
رات میں کیڑے مکوڑوں کے ٹھکانے ہیں۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب مراعاۃ مصلحۃ الدواب
فی السیر۔۔۔ الخ، ص1063، حدیث: 178)
(2)سواری
کے جانور کا خیال: روایت میں ہے کہ
رسول اللہ تعالی علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر پیٹ سے ملی ہوئی تھی
تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ان بے زبان چو پایوں کے معاملے میں
اللہ پاک سے ڈرو ان پر اس وقت سوار ہوں جب یہ صحیح حالت میں ہوں اور انہیں اسی وقت
کوڑا مارو جب یہ ٹھیک ہوں ۔ ( ابو داؤد ، کتاب الجہاد ، باب ما یؤمربہ من القیام
علی الدواب و البھائم، جلد 4، صفحہ نمبر 32 حدیث نمبر 2548)
(3)قتل
نا کرنا: روایت ہے حضرت عبداللہ
ابن عمر ابن عاص سے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی چڑیا یا اس سے اوپر
کے کسی جانور کو نہ حق مار ڈالے تو اس کے قتل کے متعلق اللہ اس سے پوچھے گا ، عرض
کیا گیا : یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کا حق کیا ہے ؟ فرمایا
کہ اسے ذبح کر کے کھائے یہ نہ کریں کہ اس کا سر کاٹے پھر پھینک دے ۔ (مراۃالمناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح ، باب شکار اور ذبیحوں کا بیان ، جلد 5 صفحہ 679 ، حدیث نمبر
3915 مکتبہ اسلامیہ )
(4)جانوروں
کے دانہ پانی کا خیال رکھو: حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ
والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک عورت جہنم میں گئی ایک بلی کے سبب کہ اسے باندھے
رکھا تھا نہ خود کھانا دیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یا جو جانور اس کو ملتا ہے
کھاتی ۔ (جامع الاحادیث ، جلد 4 ، صفحہ نمبر 199 ، حدیث نمبر 2380 ، مکتبہ اکبر بک
سیلرز )
Dawateislami