اسلام وہ واحد اور منفرد مذہب ہے جس میں انسانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کو بھی بیان کیا گیا ہے اسلامی تعلیمات کے مطابق جانوروں کو نہ صرف فقط انسانی خدمات کے لیے پیدا کیا گیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق ان کے ساتھ اچھا سلوک اور نرمی کرنے کا بھی حکم دیا گیا ، قرآن پاک میں کئی مقامات پر جانوروں کا ذکر کیا گیا تاکہ لوگ ان کہ حقوق فوائد اور ان کے مقاصد کو پہچانیں ، چنانچہ اللہ تعالی جانوروں کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَاۚ-لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪(۵) ترجمہ کنزالایمان: اور چوپائے پیدا کیے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں اور ان میں سے کھاتے ہو ۔(پ14،النحل: 5)

تفسیر صراط الجنان : وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا :اور اس نے جانور پیدا کئے۔ اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا اور اس کے بعد انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا جبکہ اس آیت اور اس کے بعد والی چند آیات میں ان چیزوں کا ذکر فرمایا جن سے انسان اپنی تمام ضروریات میں نفع اٹھاتے ہیں اور چونکہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت کھانا اور لباس ہے کیونکہ ان سے بدنِ انسانی تَقوِیَت اور حفاظت حاصل کرتا ہے اس لئے سب سے پہلے ان جانوروں کا ذکر کیا گیا جن سے یہ فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔

آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اونٹ، گائے اور بکریاں وغیرہ جانور پیدا کئے ، ان کی کھالوں اور اُون سے تمہارے لیے گرم لباس تیار ہوتے ہیں اوراس کے علاوہ بھی ان جانوروں میں بہت سے فائدے ہیں جیسے تم ان کی نسل سے دولت بڑھاتے ہو، اُن کے دودھ پیتے ہو، اُن پر سواری کرتے ہو اور تم ان کا گوشت بھی کھاتے ہو۔ (خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۵، ۳ / ۱۱۳)

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةًؕ- ترجمۂ کنزالعرفان: اور (اس نے) گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے) تا کہ تم ان پر سوار ہو اور یہ تمہارے لئے زینت ہے ۔ (پ14، النحل: 08)

لہٰذا ہمیں ان بےزبان جانوروں کو انہی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہیے جن کیلئے انہیں پیدا کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے چارے پانی وغیرہ کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ انسان اگر بھوکا پیاسا ہوتو اپنی زبان سے کھانا پانی مانگ سکتا ہے مگر یہ بے زبان(Speechless) اپنی بھوک پیاس کی شکایت کسی سے نہیں کرسکتے اس لئے کبھی بھی ان کے چارہ پانی کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔

اسی طرح حضرتِ سَیِّدُناعَبْدُاللہ بن عمر رضی اللہ عنہمَاقریش کےبچوں کےپاس سےگزرے،وہ لوگ ایک پرندےکوباندھ کراس پرپتھروں سےنشانہ بازی کررہےتھے۔جب انہوں نےآپ کوآتےدیکھاتوبھاگ گئے۔آپ نےدریافت فرمایا:یہ کس نےکیا ہے؟رسولِ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نےاس طرح(جانوروں کومُثلہ کرنےوالے)پرلعنت فرمائی ہے۔(بخاری،کتاب الذبائح والصید،باب ما یکرہ من المثلۃ... الخ ،۳ / ۵۶۳،حدیث : ۵۵۱۵ )

جانوروں کے ساتھ احسان اور شفقت کریں : منقول ہے کہ راستہ چلتے ہوئے ایک شخص پر پیاس کا غلبہ ہوا تو اس کوایک کنواں ملا ،اُس نے کنویں میں اُتر کر پانی پی لیا پھر جب وہ کنویں میں سے نکلا تو اچانک یہ دیکھا کہ ایک کتّا(Dog) زبان نکالے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے تو اس آدمی نے دل میں یہ سوچا کہ جیسی پیاس مجھ کو لگی تھی ایسی ہی پیاس اس کتّےکو بھی لگی ہے تو وہ کنویں میں اُتر کر اپنے موزے میں پانی بھرکر لایا پھر کتےّ کو پلایاتو اس کا یہ عمل ربِ کریم کو پسندآگیا اور اس کی بخش و مغفرت فرما کر جنت میں داخل فرما دیا۔یہ سُن کرصحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یا رَسُوْلَ اللہ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کیاہمارےلئے چوپایوں کےساتھ احسان کرنےمیں ثواب ہے؟ارشاد فرمایا:ہاں!ہرجاندارکےساتھ احسان(بھلائی) کرنےمیں ثواب ہے۔ (بخاری،کتاب المظالم،باب الآبار علی الطرق …الخ،۲/۱۳۳،حدیث:۲۴۶۶)

اللہ تعالی ہمارے دلوں کو نرم فرمائے اور ہمیں جانوروں کے حقوق اور ان کے ساتھ شفقت نرمی اور رحم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین

ہمیشہ ہاتھ بھلائی کے واسطے اٹھیں

بچانا ظلم و ستم سے مجھے سدا یارب

(وسائل بخشش)