محمد سراج الدین عطّاری(درجہ
خامسہ جامعۃ المدینہ کنزالایمان مصطفیٰ آباد رائیونڈ لاہور ،پاکستان)
اسلام کا یہ
حسن ہے کہ اس نے ہمیں ایک دوسرے کی حقوق سے آگاہ کیا ہے اور ہر معاملہ کے اندر
معلومات فراہم کی ہیں، اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے یعنی زندگی گزارنے کے اصول قاعدے
اور قوانین کا مجموعہ ہے ،شریعت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں ہمیں انسانوں کے
آپس کے حقوق بتائے اور ہمیں جانوروں کی حقوق بھی بتائے اور اس پر ہمیں ثواب اور
بخشش کی بشارت دی ہے ۔ اب ہم یہاں کچھ جانوروں کے حقوق درج کرتے ہیں :
(1)
کام زیادہ نہ لینا اور چارہ کم نا ڈالنا : ہمیں جانوروں کی طاقت سے زیادہ کام نہیں لینا چاہیے اور چارہ بھی اس کی
خوراک کے مطابق ڈالنا چاہیے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک اونٹ
کے پاس سے ہوا اونٹ نے جب آپ کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اپنی گردن آپ کے
سامنے جھکا دی آپ اس کے پاس کھڑے ہو گے اور فرمایا اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ مالک
حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا : یہ اونٹ بیچتے ہو اس نے عرض کی نہیں بلکہ یہ آپ کے لیے
تحفہ ہے ،مزید عرض کی کہ یہ ایسا گھرانے کا ہے کہ جن کی پاس اس کے علاوہ اور کچھ
بھی نہیں ، آپ نے فرمایا : اس اونٹ نے شکایت کی ہے کہ تم اس سے زیادہ کام لیتے ہو
اور چارہ کم ڈالتے ہو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ ( مسند احمد ، 29 /106)
(2)
شفقت کرنا : ہمیں جانوروں کے ساتھ
شفقت والا معاملہ کرنا چاہیے کیونکہ اس پر اجر ملتا ہے جیساکہ صحابہ کرام نے سوال
کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں پر شفقت کرنے سے بھی ہمیں ثواب ملاتا
ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہر ذی روح پر شفقت کا اجر ملتا ہے ۔( بخاری، کتاب المظالم و
الغصب ، باب الابار علی الطرق ۔۔ 2 /133 حدیث: 2466 )
(3)
بلا ضرورت نہ مارنا : ہمیں جانوروں
پر ظلم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ظلم آخرت کا اندھیرا ہے کیونکہ اسلام ہمیں بلا
ضرورت مارنے کی اجازت نہیں دیتا جیسا کہ امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے
ہیں : چونٹی کو بلا ضرورت نا ماریں بلکہ اسے اپنے قبیلے سے بھی نہ نکالیں کیونکہ یہ
قبیلہ کے ساتھ رہتی ہے اور فرماتے ہیں بلا اجازت شرعی مکھی کو بھی تکلیف دینے کی
اجازت نہیں ۔( 786 نصیحتیں ، ص 73)
(4)
تکلیف کو دور کرنا : اگر ہم جانور
کو تکلیف میں دیکھیں تو ضرور ہمیں اس کی مدد کرنا چاہیے تاکہ اس کی بدولت ہمارے
گناہ معاف ہو جائیں جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ایک شخص سفر میں
جا رہا تھا کہ اسے راستے میں سخت پیاس لگی اسے قریب ہی ایک کنواں نظر آیا جب کنویں
سے پانی پی کر چلا تو دیکھا ایک کتا پیاس کی مارے زبان باہر نکالے پڑا ہے اسے خیال
آیا کہ اسے بھی میری طرح پیاس لگی ہو گی وہ واپس ہو گیا منہ میں پانی بھر کر کتے
کے پاس آیا اور اسے پلا دیا اللہ نے پاک محض اسی رحم کی بدولت اس کے گناہوں کو
معاف کر دیا ۔( بخاری ، کتاب المظالم و الغصب ، باب الابار علی الطرق ۔ 2 / 133 حدیث
2466)
اللہ پاک ہمیں
جانوروں کہ حقوق پڑھ کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
Dawateislami