اللہ پاک سے انسانوں کے نفع کے لیے ایک عظیم نعمت چوپائے عطا فرمائی جن سے انسان اپنی ضروریات زندگی پوری کرتا ہے اور اللہ پاک نے ان جانوروں کو انسانوں کے تابع کیا ہے لیکن مخلوق ہونے کی بنا پر ان کے بھی کچھ حقوق ہیں جن کے مدنظر رکھتے ہوئے انسانوں کو ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے اسی لیے میں نے اس موضوع کو قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ لوگ اس بے زبان مخلوق کے بھی حقوق کے متعلق معلومات حاصل کریں اور عمل کریں۔

(1) بلا وجہ جانور کو برا نہ کہنا : روایت ہے حضرت خالد بن زید سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغ کو برا کہنے سے منع کیا ، اور فرمایا کہ یہ نماز کی اطلاع دیتا ہے ۔ (کتاب مشکاۃ المصابیح ، باب کس جانور کا کھانا حلال اور کس جانور کا حرام ہے، جلد 5 صفحہ نمبر 700 حدیث نمبر 3955 مکتبہ اسلامیہ )

(2) جانوروں کا خیال رکھنا : روایت میں ہے کہ رسول اللہ تعالی علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر پیٹ سے ملی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ان بے زبان چو پایوں کے معاملے میں اللہ پاک سے ڈرو ان پر اس وقت سوار ہوں جب یہ صحیح حالت میں ہوں اور انہیں اسی وقت کوڑا مارو جب یہ ٹھیک ہوں ۔ ( ابو داؤد ، کتاب الجہاد ، باب ما یؤمربہ من القیام علی الدواب و البھائم، جلد 4، صفحہ نمبر 32 حدیث نمبر 2548)

(3) روح کو نشانہ نہ بناؤ : صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کے رسول اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : جس میں روح ہو اس کو نشانہ نہ بناؤ ۔ ( صحیح مسلم ، کتاب الصید ، باب النھی عن صبرالبھائم حدیث نمبر 1958صفحہ نمبر 1080)

(4) جانوروں کے دانہ پانی کا خیال رکھنا : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک عورت جہنم میں گئی ایک بلی کے سبب اسے باندھے رکھا تھا نہ خود کھانا دیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یا جو جانور اس کو ملتا کھاتی۔ (بہار شریعت جلد 3 حصہ نمبر15، ذبح کا بیان صفحہ نمبر ،311 حدیث نمبر ،12)

(5) ناحق قتل کرنا : رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل کیا اور اس سے اللہ قیامت کے دن سوال کرے گا، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ ذبح کرے اور کھائے یہ نہیں کہ سرکاٹے اور پھینک دے ۔ (المسند الامام احمد بن حنبل،مسلم عبداللہ بن عمر، الحدیث: 6562 ، جلد نمبر2، صفحہ نمبر 567)