کلیم اللہ چشتی عطاری ( دورہ حدیث
مرکزی جامعہ المدینہ فیضان مدینہ جوہرٹاؤن لاہور ،پاکستان)
اسلام ایک
جامع مذہب ہے جو زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہےکیونکہ یہ تاقیامت رہنے والا ہمہ گیر
و بے نظیر مذہب ہے ، جس نے پیامِ انسانیت کا درس صرف انسان ہی تک محدود نہیں رکھا
بلکہ تمام مخلوقات کے حق میں پیش کیا ہےیہاں تک کہ بے زبان جانوروں کے حقوق کو بھی
تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہےکیونکہ جانور بھی اس کائنات کا ایک اہم جز ہیں ان کی حق
تلفی کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ انسانیت کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف
ہے۔شریعت مطہرہ نے ان پر احسان اور ان کے ساتھ نرمی اور شفقت ورحمت کواجروثواب کے
اعلٰی درجات اورمغفرت کے اسباب میں شمار کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ برا
سلوک، بلاوجہ ان کو تکلیف وعذاب دینے اور پریشان کرنے کو گناہ اور معصیت گردانا ہے۔
آئیے جانوروں کے چندحقوق کا مطالعہ کرتے ہیں
تاکہ ہم دین و دنیا کی بھلائیاں سمیٹ سکیں۔
(1)رحم
کرنا: جانوروں کو مارنے پیٹنے سے
بچنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ہماری طرح جاندار ہیں ان پر ہمیشہ رحم کرنا چاہیے اس کا
بہت زیادہ اجر ہے یہاں تک کہ ایک حدیث مبارکہ کے مطابق ایک آدمی نے کتے کو پانی
پلایا جس کے سبب اس کی مغفرت ہو گئی۔ (صحيح البخاری ،كِتَاب الشُّرْبِ
والْمُسَاقَاةِ،بَابُ فَضْلِ سَقْيی الْمَاءِ، جلد1، حدیث:2363، ص416)
(2)سامان
لادنے میں احتیاط: امام احمدبن
حجرمکی شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں: انسان نے ناحق کسی چوپائے
کو مارا یا اسے بُھوکا پیاسا رکھا یا اس سے طاقت سے زیادہ کام لیا تو قِیامت کے دن
اس سے اسی کی مِثْل بدلہ لیا جائے گاجو اس نےجانور پرظلم کیایااسےبھوکارکھاہوگا۔(الزواجر
عن اقتراف الکبائر ، 2/ 174)
( 3)
ظلم نہ کرنا: رَحمت ِ عالَم ،نورِ
مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےجہنَّم میں ایک عورت
کو اس حال میں دیکھاکہ وہ لٹکی ہوئی ہے اورایک بلّی اُس کے چہرےاورسِینےکونوچ رہی
ہےاوراسےویسےہی عذاب دےرہی ہے جیسےاس (عورت)نےدنیا میں قید کر کےاور بھُوکارکھ
کراسے تکلیف دی تھی۔ (صحیح البخاری،کتاب المساقاۃ،باب فضل سقی الماء،جلد1،حدیث2364
ص416مفہوماً )
ڈنک مچھر کا سَہا جاتا نہیں،کیسے میں پھر
قبر میں بچھّو کے ڈنک آہ سہوں گا یاربّ!
(4)جانوروں
کو آپس میں لڑانے کی ممانعت: رسول
اللہ ﷺ نے جانوروں اور چوپایوں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایا۔ (ابوداؤد،كِتَاب
الْجِهَادِ، باب فِی التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ،جلد1حدیث:2562 ص370 )
(5)جانوروں
کو ذبح کرنے میں بھی احتیاط: اللہ
تعالی نے بعض جانوروں کو ذبح کرکے اس کے گوشت سے انتفاع جائز قرار دیا ہے، ایسے
جانوروں کو ذبح کرنا شریعت کے منشا کے عین مطابق ہے لیکن اس میں بے راہ روی اور
ظلم وزیادتی ناروا سلوک کرنا غیردرست ہے جس طرح کہ آپ ﷺ نے ذبح کے تین آداب بیان
فرمائے ہیں :(1) اچھی طرح ذبح کرے(2) ذبح سے پہلے چھری تیز کرلے(3)اسے اذیت سے
بچانا (مثلا ذبح کے جانور کو ٹھنڈا ہونے دے، اس کے بعد کھال اتارے)(صحیح
مسلم،كِتَاب الصَّيْدِ ...الخ،باب الأَمْرِ بِإحسان...الخ،جلد2،حدیث5053ص232 )
پیارے اسلامی
بھائیو! ہمیں جانوروں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ حتی المقدور ان
کو مدنظر رکھناچاہئے کیونکہ جانور بھی احساس رکھتے ہیں، تکلیف محسوس کرتے ہیں، اور
فطری طور پر امن اور محبت کے خواہاں ہوتے ہیں ان کے حقوق کا تحقظ ایک مہذب معاشرے
کا طریق ہے اور اس سے ہمیں مغفرت و جنت کی لازوال نعمتوں کی توفیق مل سکتی ہے ۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ وہ ہمیں ان حقوق کی نگہبانی و پاسبانی کی توفیق بخشے۔ آمین
Dawateislami