اللہ پاک نے انسانوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے انہی نعمتوں میں سے چوپائے یعنی جانوربھی ہیں بنی نوع انسان اپنی ضروریات زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں تو جس طرح ان سے نفع حاصل کرتے ہیں اسی طرح انسانوں پر یہ لازم ہے کہ ان بے زبان جانداروں پر ظلم نہ کریں جو ان کے حقوق بنتے ہیں وہ ادا کرے تو اس مضمون میں میں نے ان احادیث کو ذکر کیا ہے جس میں نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں پر رحم کرنے اور ان پر ظلم نہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے :

جانوروں پر نرمی کرنا: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم سرسبز زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو زمین سے ان کا حصہ دو اور جب بنجر زمین میں سفر کرو تو انہیں تیز چلاؤ اور ان کے تھکنے سے پہلے وہاں سے گزر جاؤ اور جب تم رات میں قیام کرو تو راستے میں اترنے سے بچو کیونکہ وہ جانوروں کا راستہ ہے اور وہ جگہ رات کے وقت کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانہ ہے۔ (شرح مسلم للنووی ،کتاب الامارہ ،باب مراعاۃ مصلحۃالدوب فی السیر الخ،جلد 7،حدیث 69،الجزء ثالث عشر ملخصاً )

جانوروں کا خیال رکھنا :حضرت سیدنا سہل بن عمرو اور ایک قول کے مطابق سہل بن ربیع بن عمرو انصاری جو کہ ابن حنظلہ کے نام سے مشہور ہیں اور اہل بیت رضوان میں سے ہیں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر پیٹ سے ملی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان بے زبان چوپایوں کے معاملے میں اللہ عزوجل سے ڈرو، ان پر اس وقت سوار ہو جب یہ صحیح حالت میں ہوں اور انہیں اس وقت کھاؤ جب یہ ٹھیک ہوں۔ (ابوداؤد،کتاب الجہاد ،باب مایؤمربه من القیام علی الدواب والبهائم،32/3،حدیث 2548)

ناحق قتل نہ کرنا:احمدونسائی و درامی عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنھا سے راوی کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل کیا اس سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سوال کرے گا، عرض کیا گیا : یا رسول الله صلی علیہ وسلم اس کا حق کیا ہےفرمایا اس کا حق یہ ہے کہ ذبح کرے اور کھائے یہ نہیں کہ سرکاٹے اور پھینک دے ۔(المسند للام احمد بن حنبل، مسند عبد الله بن عمرو، الحدیث: 6562،ج 6، ص 567)

جانوروں کے دانے پانی کا خیال رکھنا: حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک عورت جہنم میں گئی ایک بلی کے سبب کہ اسے باندھے رکھا تھا، نہ خود کھانا دیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یاجوجانور اس کو ملتا کھاتی۔(جامع الاحاديث، كتاب الحيوانات،ج4،ص199،حدیث2380)

جانوروں کو نہ لڑوانا:حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول صلی الله علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا۔(السنن لابی داؤد، باب فى التحريش بين البهائم ، 346/1)

اللہ پاک ہمیں جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین