اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اُسے عقل و شعور سے نوازا، اسلام دینِ فطرت ہے، جو نہ صرف انسانوں کے، بلکہ جانوروں کے بھی حقوق واضح کرتا ہے۔ قرآن و حدیث میں ہمیں بار بار جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین ملتی ہے، بلکہ بعض مواقع پر تو جانوروں پر ظلم کرنے والے کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ جانور ہمارے فائدے کے لیے ہیں، چنانچہ ارشاد باری ہوتا ہے :

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَاۚ-لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪(۵) ترجمہ کنزالایمان: اور چوپائے پیدا کیے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں اور ان میں سے کھاتے ہو ۔ (سورۃ النحل، آیت: 5)

آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اونٹ، گائے اور بکریاں وغیرہ جانور پیدا کئے ، ان کی کھالوں اور اُون سے تمہارے لیے گرم لباس تیار ہوتے ہیں اوراس کے علاوہ بھی ان جانوروں میں بہت سے فائدے ہیں جیسے تم ان کی نسل سے دولت بڑھاتے ہو، اُن کے دودھ پیتے ہو، اُن پر سواری کرتے ہو اور تم ان کا گوشت بھی کھاتے ہو۔ (خازن، النحل، تحت الآیۃ: 5، 3 / 113)

اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جانور انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، لیکن ان کے فائدے اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان پر ظلم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ اللہ کی نعمت ہیں تو ان کے ساتھ برتاؤ بھی اللہ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ جانوروں کے حقوق کے متعلق چند احادیث پڑھیے:

(1) جانوروں کو بھوکا یا پیاسا رکھنا سخت گناہ ہے: اگر کسی نے جانور کو بھوکا پیاسا رکھا یا ایسی جگہ باندھ دیا کہ وہاں سے وہ کھا پی نہ سکے اور وہ مر گیا تو سخت گناہگار ہے، اور اس پر وعید آئی ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 886) جیسے کہ ایک حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے :ایک عورت کو اس لیے جہنم میں ڈالا گیا کہ اُس نے ایک بلی کو قید کر کے بھوکا مار دیا۔ (بخاری ، کتاب المساقاۃ ، باب فضل سقی الماء ، صفحہ : 610 ، حدیث : 2364مفہوماً)

(2)جانوروں پر حد سے زیادہ بوجھ ڈالنا ظلم ہے:جانور پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادنا یا اُسے بغیر ضرورت کے دیر تک کھڑا رکھنا ظلم ہے اور ایسی حرکتوں پر سخت عذاب کی وعید ہے۔(بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 887)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ سے ڈرو ان بے زبان جانوروں کے بارے میں۔ (ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب ما یؤمر بہ من القیام علی الدواب والبہائم، 3 / 32، الحدیث: 2548)

(3) ذبح کرتے وقت نرمی اور جلدی کرنا لازم ہے: ذبح سے پہلے چھری کو اچھی طرح تیز کر لینا چاہیے، اور جانور کے سامنے دوسری چھری نہ تیز کریں، نہ اسے خوف میں مبتلا کریں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، چھری تیز کرو اور جانور کو آرام دو۔ (مسلم،ص 832،حدیث: 5055)

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں تمام جانداروں خصوصاً بے زبان جانوروں کے ساتھ شفقت، رحم دلی اور عدل و انصاف کا برتاؤ کرنا چاہیئے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے حقوق پہچاننے اور ادا کرنے والا بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔