اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے بلکہ جانوروں جیسے بے زبان مخلوقات کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔ قرآن مجید ، احادیثِ مبارکہ اور اقوالِ بزرگانِ دین اس بات پر گواہ ہیں کہ جانوروں کے ساتھ شفقت اور عدل اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ- ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ راہیں تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں گی ۔ (پ8، الانعام: 153)

اس آیت کی تفسیر کے مطابق صراطِ مستقیم میں مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف شامل ہے، اور اس میں جانور بھی داخل ہیں۔(صراط الجنان، جلد 3، صفحہ 434)

(1) نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص کسی جانور پر رحم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرماتا ہے۔ (بخاری، ج3، ص429، حدیث 6003)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ مخلوقِ خدا پر رحم کرنا، اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

(2) جانوروں پر ظلم کی ممانعت:اسلام میں جانور کو بلا وجہ تکلیف دینا حرام ہے۔ ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ہے:ایک عورت جہنم میں داخل کی گئی اس وجہ سے کہ اس نے ایک بلی کو باندھ کر رکھا، نہ اسے کھانے کو دیا نہ آزاد کیا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔(بخاری، ج1، ص245، حدیث 205)

یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جانور پر چھوٹا سا ظلم بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔

اسلام کے مطابق جانور بے زبان ضرور ہیں، مگر ان کے احساسات ہوتے ہیں۔ ان پر رحم، شفقت اور عدل واجب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی بھوک، پیاس، آرام، اور علاج کا خیال رکھیں۔ یہی طرزِ عمل ایک سچے مسلمان کی نشانی ہے اور یہی ہمارے دین کا پیغام ہے۔