ہمارا پیارا دین اسلام ہر مسلمان کی جان و مال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں جانوروں کے ساتھ بھی اچھے انداز میں پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے اور وہیں ہمارا اسلام جانوروں کے ساتھ ظلم نہ کرنے اور ان کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے اور جو ظلم کرتا ہے اس کا انجام بھیانک ہوتا ہے، چنانچہ حضرت سیدنا شیخ محمد اسماعیل بخاری علیہ رحمۃ الله الباری صحیح بخاری میں نقل کرتے ہیں: حضرت سیدنا ابو موسی اشعری رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار مدینہ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک الله ظالم کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھر اس کو نہیں چھوڑتا یہ فرما کر سرکار نامدار صلی الله علیہ وسلم نے پارہ 21 سورہ ہود آیت نمبر 102 تلاوت فرمائی : (ترجمہ کنز الایمان :اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بےشک اس کی پکڑ دردناک کرّی(سخت) ہے )۔ (صحیح البخاری ج3 ص247 حدیث 4686)

جس طرح ہم پر انسانوں کی حقوق ہوتے ہیں اسی طرح جانوروں کے بھی ہم پر حقوق ہیں لہذا جانوروں کو بلا وجہ شرعی تکلیف پہنچانا جائز نہیں، حضرت احمد بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ہم وفد کی صورت میں ایک بار بارگاہ فاروقی میں عظیم فتح کی خوشخبری لے کر حاضر ہوئے، آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے استفسار فرمایا: تم لوگ کہاں ٹھہرے ہو? میں نے جگہ کے بارے میں بتایا تو آپ رضی الله تعالی عنہ ہمارے ساتھ اس جگہ تک آئے اور ہر سواری کو غور سے دیکھتے رہے پھر فرمایا تم لوگ ان سواریوں کے معاملے میں الله عزوجل سے نہیں ڈرتے؟ تم نہیں جانتے کہ ان جانوروں کا بھی تم پر حق ہے۔(تاریخ دمشق، 33/ 291 ملتقطاً)

سرکارابدقرار شفیع روز شمار صلی الله علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: ان جانوروں پر اچھی طرح سواری کرو اور (جب ضرورت نہ ہو تو) ان سے اتر جاؤ راستوں اور بازاروں میں گفتگو کرنے کے لیے انہیں کرسی نہ بنا لو کیونکہ کئی سواریوں کے جانور اپنے سوار سے بہتر اور اس سے زیادہ الله عزوجل کا ذکر کرنے والے ہوتے ہیں۔ (جامع الاحادیث۔1/404.حدیث 2865)

حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ ہم سرکار مدینہ قرار قلب و سینہ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے دو بچے تھے ہم نے انہیں پکڑ لیا چڑیا ائی اور پھڑ پھڑانے لگی سرکاری نامدار مدینے کے تاجدار صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو دریافت فرمایا کس نے اس کے بچوں کے معاملے میں تکلیف پہنچائی ہے؟ اس کے بچے اسے لوٹا دو۔ (ابوداؤد 3/85 حدیث: 2685)

سرکار مدینہ قرار قلب و سینہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی چڑیا کو بلا ضرورت قتل کریگا وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ عزوجل کے بارگاہ میں فریاد کرتے ہوئے عرض کرے گی : اے میرے رب مجھے بلا ضرورت قتل کیا تھا کسی نفع کے لیے قتل نہیں کیا۔ (نسائی،3/83 حدیث:4535)

الله پاک کی بلند بارگاہ میں دعا الله ہمیں جانوروں پر رحم کرنے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین