انسان اشرف المخلوقات ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت، عبادت اور اطاعت کے لیے پیدا فرمایا اور دنیا کی تمام نعمتیں، مخلوقات اور وسائل انسان کی خدمت کے لیے مسخر کیے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ ترجمہ کنزالایمان: وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔(پ1،البقرہ: 29)

انسان کو عطا کردہ انہی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت جانور بھی ہیں، جو انسان کی ضروریات، سہولت اور معیشت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جانوروں کے ذریعے انسان خوراک، لباس، سواری، باربرداری، اور حتیٰ کہ تحفظ تک کے فوائد حاصل کرتا ہے۔ الله پاک نے اس نعمت کا ذکر قرآن پاک میں ایک مقام پر یوں فرمایا: وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَاۚ-لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪(۵) ترجمہ کنزالایمان: اور چوپائے پیدا کیے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں اور ان میں سے کھاتے ہو ۔(پ14،النحل: 5)

اسلام نے جہاں انسان کو ان جانوروں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی وہیں اسے اس بات کا پابند بھی بنایا ہے کہ وہ ان جانوروں سے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی نفع حاصل کرے۔ شریعت مطہرہ نے جانداروں، بالخصوص جانوروں کے حقوق کی ادائیگی کی جابجا مقامات پر تاکید فرمائی ہے۔آئیے! ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جانوروں کے چند اہم حقوق کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ ان باتوں پر عمل کرکے ہمارا رویہ ان کے ساتھ ایسا ہوجائے جیسا شریعت ہم سے چاہتی ہے اور ہم الله و رسول عزوجلّ وصلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کی رضا کے مستحق بن جائیں۔

(1) جانوروں کا حقِ خوراک: جانوروں کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ ان کی خوراک ، چارے، دانے، غذا اور پانی کا خیال رکھیں۔ ہر جانور کو اس کی فطرت اور ضرورت کے مطابق چارہ یا دانہ دیا جائے، جیسا وہ عام طور پر کھاتا ہے۔ ان کو بھوکا رکھ کر ان پر ظلم نہ کیا جائے۔ ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ ایک عورت کو عذاب ایک بلی کی وجہ سے ہوا جسے اس نے اتنی دیر تک باندھے رکھا کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی اور وہ عورت اسی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوئی۔ (بخاری،کتاب المساقاۃ، باب فضل سقي الماء۔ص660،حدیث:2365)

(2) جانوروں پر رحم اور ان سے اچھا سلوک کرنا : جانوروں کا ایک حق یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور ان پر رحم کیا جائے۔ ایک حدیث مبارکہ میں جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے کے لیے جنت کی بشارت بھی موجود ہے چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس فاحشہ عورت کی مغفرت ہو گئی جو ایک کتے پر گزری جو ایک کنوئیں کے کنارے ہانپ رہا تھا قریب تھا کہ پیاس کی شدت اسے ہلاک کردیتی اس عورت نے اپنا موزہ اتارا اسے اپنے دوپٹے سے باندھا اور اس طرح پانی نکالا اسی وجہ سے وہ بخش دی گئی ، نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا گیا کہ کیا حیوانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے بھی ہمارے لیے اجر ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر جان دار چیز کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں اجر ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الزکوۃ، صدقہ کی فضیلت، جلد:3 ، حدیث نمبر:1902 )

(3) ذبح کرتے وقت احتیاطی تدابیر: نبی کریم ﷺ نے جانوروں کے ذبح کے وقت بھی جانوروں کے ساتھ نرمی اور ان کو تکلیف سے بچانے کی سخت تاکید فرمائی ہے چنانچہ حضرت ابنِ عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بکری کو لٹاکر اس کے سامنے چھری تیز کرنے لگا، تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اسے دو موت مارنا چاہتے ہو۔ تم نے اپنی چھری اسے لِٹانے سے قبل تیز کیوں نہیں کرلی؟ ایک مقام پر ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان کو لازم قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے۔(سنن نسائي، كتاب الضحايا،باب الأمر بإحداد الشفرة، حدیث نمبر: 4410)۔

الله پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ان حقوق پر عمل کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِین