دین اسلام ایسا
مذہب ہے جسکی تعلیم میں انسانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کا بھی بہت
خیال رکھا گیا ہے جس طرح کسی انسان پر ظلم و زیادتی حرام ہے اسی طرح جانوروں پر بھی
ظلم و زیادتی حرام ہے بلکہ جانوروں پر ظلم کرنا انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ بڑا
گناہ ہے ، انسان تو اپنا دکھ درد کسی سے کہہ سکتا ہے مگربے زبان جانور کس سے فریاد
کرے ؟ جانور بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کو انسان کے کاموں میں مددگار بنایا
، الله عزوجل قرآن پاک میں سورۂ النحل کی آیت نمبر 8 میں ارشاد فرماتا : وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا
وَ زِیْنَةًؕ-وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۸) ترجمۂ کنزالعرفان: اور (اس نے)
گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے) تا کہ تم ان پر سوار ہو اور یہ تمہارے لئے زینت
ہے ۔ (پ14، النحل: 08)
یعنی اللہ
تعالیٰ نے گھوڑے،خچر اور گدھے بھی تمہارے نفع کے لئے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ی
کرو اور ان میں تمہارے لئے سواری اور دیگر جو فوائد ہیں ان کے ساتھ ساتھ یہ تمہارے
لئے زینت ہیں۔( تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۸، ۷ / ۵۶۲)
یہ آیت ہمیں یہ
بھی سکھاتی ہے کہ چونکہ جانور ہمارے لیے اللہ کی نعمت ہیں اور ہمارے لیے محنت کرتے
ہیں، اس لیے ان پر ظلم نہیں کرنا چاہیے، نہ ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالنا چاہیے۔
حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کی اس دنیا میں تشریف آوری کے بعد حضور ﷺ نے ہمیں جانوروں کے حقوق بتائے
جن سے جانوروں کے حقوق اور انکی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ۔
(1)
جانوروں کو تکلیف نہ پہنچانا : اسی
طرح جانوروں کو ظلم سے بچانا اسلام کا ایک واضح اور اہم حکم ہے، اور نبی کریم ﷺ نے
اس بارے میں نہایت مؤثر اور عبرت آموز احادیث ارشاد فرمائیں ہیں۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضى الله
عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي
هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خِشَاشِ
الأَرْضِ (صحیح البخاری/کتاب بدء
الخلق/باب خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ/ج3 ،ص501،
حدیث:3318 دارالسلام)
ترجمہ : نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ، ایک عورت ایک بلی کے سبب سے دوزخ میں گئی ،
اس نے بلی کو باندھ کر رکھا ، نہ تو اسے کھانا دیا اور نہ ہی چھوڑا کہ وہ کیڑے
مکوڑے کھا کر اپنی جان بچا لیتی ۔
تو اس حدیث سے
واضح ہوتا ہے کہ جانوروں پر ظلم صرف دنیاوی جرم نہیں بلکہ آخرت میں اسکی سزا ملے گی
جیسا کہ اس عورت کو بلی پر ظلم کرنے کی وجہ سے ملی ، نبی کریم ﷺ نے جانوروں کے
ساتھ ظلم پر جہنم کی وعید دی ہے، نیز نبی پاک کے اس فرمان سے یہ بھی واضح ہو رہا
ہے کہ جانوروں کو بغیر مقصد قید کرنا بھی جانوروں پر ظلم کرنا ہے ۔
(2)
کام میں اعتدال کا حق: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ
ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ، فَقَالَ : اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ
الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ فَارْكَبُوهَا وَكُلُوهَا صَالِحَةً (سنن ابی داؤد/کتاب الجہاد/باب ما یؤمر به من لقیام علی
الدواب والبهائم/ج3 ،ص91،حدیث:
2548 دارالسلام ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس
کا پیٹ اس کی پشت سے مل گیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان بے
زبان چوپایوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو ، ان پر سواری بھلے طریقے سے کرو اور ان کو
بھلے طریقے سے کھاؤ ۔
(3)
ذبیحہ پر رحم کرنا اور حسن سلوک کرنا: فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم: إِنَّ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ
عَلَى كُلِّ شَيْءٍ،فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ،وَإِذَا
ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَ،وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ،وَلْيُرِحْ
ذَبِيحَتَهُ بیشک اللہ عزوجل نے ہر
چیز میں احسان (رحم اور انصاف) کو فرض قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح
قتل کرو (تاکہ مخلوق کو تکلیف نہ ہو) اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور چاہیئے
کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے، اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔ (سنن
ابن ماجہ ، كتاب الذبائح، باب اذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، ج4، ص429،حدیث: 3170دار السلام)
ہم نے جانا کہ
اسلام صرف انسانوں کے لئے نہیں بلکہ جانوروں پر بھی عدل و رحم کا حکم دیتا ہے ہمیں
چاہیے کہ جانورں کے ساتھ عدل و رحم کریں جیسا کہ قرآن پاک اور احادیث نبوی سے واضح
ہوا۔ اللہ عزوجل ہمیں جانوروں پر رحم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ان کی حق تلفی
سے بچائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
Dawateislami