اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
259 days ago

دینِ اسلام کی بے شمار خصوصیات ہیں ان میں سے   ایک خصوصیت "میانہ روی" (اعتدال )بھی ہے،خرچ (کمائی)میں میانہ روی کرنے کو "کفایت شعاری" (frugality)کہا جاتا ہے، دینِ اسلام ہمیں ہر چیز میں میانہ روی اختیار کرنے کا درس دیتا ہے، چاہےاس کا تعلق کمانے سے ہو یا کھانے سے، یا لباس پہننے سے حتی کہ نوافل عبادات میں بھی دینِ اسلام ہمیں میانہ روی کا درس دیتا ہے ۔

فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم :خرچ میں میانہ روی آدھی زندگی ہے ۔

(مشکوۃ المصابیح، ج2، ص227، حدیث: 5067)

یعنی خوشحال وہی شخص رہتا ہے، جسے کمانے کے ساتھ خرچ کرنے کا بھی طریقہ آتا ہو، کیونکہ کما نا تو سب کو آتا ہے لیکن خر چ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔(مراۃ المناجیح ملخصاً، 634/6)

اخراجات:

ہمیں اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے، نہ تو فضول چیزوں میں ہمیں اپنی آمدنی خرچ کرنی چاہیے اور نہ ہمیں جس جگہ پر خرچ کرنے کا حق ہے وہاں خرچ نہ کر کے کنجوسی کرنی چاہیے، بلکہ ہمیں میانہ روی کو اپنانا چاہیے اورسادگی اور صبر سے کام لینا چاہیے۔

اللہ پاک سورت بنی اسرائیل کی آیت نمبر29 میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹)ترجَمۂ کنزُالایمان:اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا ۔(بنی اسرائیل ،29 )

اس آیت کے تحت مفتی قاسم صاحب اپنی تفسیر صراط الجنان میں لکھتے ہیں:" کہ خرچ میں ا عتدال کو ملحوظ رکھنے کا کہا گیا ہے ، اور اسے ایک مثال سے سمجھایا گیا کہ نہ تو اس طرح ہاتھ روکو کہ بالکل خرچ ہی نہ کرو اور یہ معلوم ہو گویا ہاتھ گلے سے باندھ دیا گیا ہے اور دینے کے لئے ہل ہی نہیں سکتا ، ایسا کرنا تو سببِ ملامت ہوتا ہے، کہ بخیل کنجوس کو سب لوگ برا کہتے ہیں اور نہ ہی ایسا ہاتھ کھولو کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے کہ اس صورت میں آدمی کو پریشان ہو کر بیٹھنا پڑتا ہے ۔(تفسیر صراط الجنان، ج5، ص153)

فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم :"جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے مال دار بنا دیتا ہے اور جو فضول خرچی کرتا ہے اللہ پاک اسے محتاج کردیتا ہے۔

(مسند البزار، 161/3، حدیث946)

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ ہم اپنےاخراجات کا جائزہ لیں تو جو فضول یا زائد چیز نظر آئے تو اسے اپنے اخراجات سے نکال دیں اور جو صحیح معلوم ہو اسے باقی رکھیں، پھر ہمیں اپنے سے اوپر والوں کو نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس کے پاس تو گاڑی ہے اور میرے پاس موٹر سائیکل بھی نہیں، اس کے پاس تو بنگلہ ہے اور میرے پاس تو اپنا ذاتی گھر بھی نہیں، بلکہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، کہ کتنے لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس کھانے کو رزق نہیں ہے اور نہ ہی پہننے کو کپڑے ہیں۔

ان شاءاللہ ایسا کرنے سے میانہ روی کرنے، جو ہے اسی پر قناعت و صبر کرنے کا جذبہ ملے گا اور ہمیں چاہیے کہ ہم جس حال میں بھی ہیں، ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔

حدیث پاک میں ہے:" قیامت کے دن ہر فقیر اور مالدار اس کی تمنا کرے گا کہ( کاش) دنیا میں اسے صرف ضرورت کے مطابق رزق دیا جاتا۔

( سنن ابن ماجہ کتاب الزھد، باب القناعۃ، 4/442 ،حدیث: 235)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خرچ میں میانہ روی، جو ہے اس پر صبرو شکر کرنے، فضول خرچی اور کنجوسی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم