20 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

جنت کیسی ہے؟

Tue, 2 Jun , 2020
69 days ago

اہل ایمان کے ثواب اور انعامات کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک مکان بنایا ہے جس میں تمام قسم کی جسمانی و روحانی لذتوں کے وہ سامان مہیا فرمائے ہیں جو شاہانِ ہفت اقلیم، ساری کائنات کے فرمانرواؤں اورحکمرانوں کے خیال میں نہیں آسکتے، اسی کا نام جنت و بہشت ہے۔

٭جنت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایماندار بندوں کے لئے انواع و اقسام کی ایسی نعمتیں جمع فرمائی ہیں جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا ، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا تو ان کا وصف پوری طرح بیان میں نہیں آسکتا۔ اللہ تعالیٰ عطا فرمائے تو وہیں ان کی قدر معلوم ہوگی۔ جو کوئی مثال اس کی تعریف میں دی جائے سمجھانے کے لیے ہے ورنہ دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ شے کو جنت کی کسی چیز کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں۔

٭جنت میں سو درجے ہیں اور ہر درجے کی وسعت اتنی ہے کہ اگر تمام عالم ایک درجہ میں جمع ہو تو سب کے لیے وسیع ہو، اور جگہ باقی رہے۔

٭جنت میں قسم قسم کے جواہر کے محل ہیں، ایسے صاف و شفاف کہ اندر کا حصہ باہر سے دکھائی دے، جنت کی دیواریں سونے چاندی کی اینٹوں اور مشک کے گارے سے بنی ہوئی ہیں، زمین زعفران کی اور کنکریوں کی جگہ موتی اور یاقوت ہیں۔

٭جنت میں چار دریاہیں: ایک پانی کا، دوسرا دودھ کا، تیسرا شہد کا اور چوتھا پاکیزہ شراب کا، پھران میں سے نہریں نکل کر ہر ایک جنتی کے مکان میں جاری ہیں۔

٭جنت میں جنتیوں کو ہر قسم کے لذیذ سے لذیذ کھانے ملیں گے اور جو چاہیں گے فوراً ان کے سامنے ہوجائے گا۔

٭جنت میں نجاست، گندگی، پاخانہ، پیشاب، تھوک وغیرہ حتّٰی کہ کان کا میل، بدن کا میل اصلاً نہ ہوں گے۔ ایک خوشبودار فرحت بخش پسینہ نکلے گا اور ایک خوشبو دار فرحت بخش ڈکار آئے گی اور سب کھانا ہضم ہوجائے گا۔ ہر وقت زبان سے تسبیح و تکبیر بالقصد اور بلا قصد مثل سانس کے جاری ہوگی۔ باہم ملنا چاہیں گے تو ایک کا تخت دوسرے کے پاس چلا جائے گا۔

٭جنت میں کم ازکم ہر شخص کے سرہانے میں دس ہزار خادم کھڑے ہوں گے، جنتیوں کے نہ لباس پرانے پڑیں گے اور نہ ان کی جوانی فنا ہوگی اور اگر مسلمان اولاد کی خواہش کرے گا تو اس کا حمل اور وضع اور پوری عمر یعنی تیس سال کی خواہش کرتے ہی ایک ساعت میں ہوجائے گی۔ جنت میں نیند نہیں کہ نیند ایک قسم کی موت ہے اور جنت میں موت نہیں۔

٭جنتی جب جنت میں جائیں گے ہر ایک اپنے اعمال کی مقدار سے مرتبہ پائے گا اور اس کے فضل کی حد نہیں، پھر انہیں دنیا کے ایک ہفتہ کی مقدار کے بعد اجازت دی جائے گی کہ اپنے پروردگار عزوجل کی زیارت کریں۔ عرشِ الٰہی ظاہر ہوگااور رب عزوجل جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں تجلی فرمائے گا اور خدا تعالیٰ کا دیدار ایسا صاف ہوگا جیسے آفتاب اور چودھویں رات کے چاند کو ہر ایک اپنی اپنی جگہ سے دیکھتا ہے کہ ایک کا دیکھنا دوسرے کے لیے مانع نہیں۔ ان میں اللہ عزوجل کے نزدیک سب میں معزز وہ ہے جو اللہ عالیٰ کے وجہِ کریم کے دیدار سے ہر صبح و شام مشرف ہوگا۔

٭اللہ عزوجل کلام بھی کرتا ہے مگر اس کاکلام آواز سے پاک ہے، جس طرح اس کا کلام کرنا زبان سے نہیں، یوں ہی اس کا دیکھنا، سننا، آنکھ اور کان سے نہیں، مثل دیگرصفات کے کلام بھی قدیم ہے تمام آسمانی کتابیں صحیفے اور قران کریم سب اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔