کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
159 days ago

تمام حمد و ثناء  اس ربّ کائنات کے لئے ہے، جو معبود برحق ہے اور تمام درود و صلوۃ وسلام کے تحفے اس ذاتِ جمال و رحمت عالم کے لئے ہیں کہ جو محبوبِ ربِّ کائنات ہیں۔

فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:"مجھ پر درود پاک کی کثرت کرو، بیشک تمہارا مجھ پر درود پڑھنا تمہارے لئے پاکیزگی کا باعث ہے۔"(ابوداؤد)

فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:"کہ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخل کر دیتی ہے۔"( الجامع الصغیر، ص557، الحدیث 9229)

میں نیت کرتی ہوں کہ رضائے الہی اور خوشنودی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول، نیز امر باالمعروف پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کچھ قلمبند کرنے کی سعی کرتی ہوں۔(سنن ابن ماجہ، ج4، ص189، حدیث3671 پر حدیثِ مبارکہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرو اور انہیں آدابِ زندگی سکھاؤ۔"

سکھانے والا معلم ہوتا ہے اور سیکھنے کے لئے مواد کئیں طرح سے حاصل ہوتا ہے، مشاہدے سے، تجربے سے، کتابوں سے، انسانی رویّوں سے، سب سے بہترین ماخذ" کتاب" ہے، کتاب کے لغوی معنی" لکھنا" ہیں، اصطلاح میں کسی بھی شعبے سے متعلق اس فن کے ماہر حضرات کا مشاہدے و تجربات اور رویّوں کے نچوڑ سے مسائل و ان کے حل کو ترتیب وار قلمبند کرنا، لیکن سب سے اہم اور مفید و جامع کتاب ہے، جو اپنے اندر تمام شعبہ زندگی کے مسائل اور ان کے حل اور تمام علومِ دنیا اور دین کے ماخذ و نچوڑ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، وہ ہے"قرآن کریم"۔

فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:"اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھاؤ، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت اور قراءتِ قرآن۔"

کسی بھی علم کو سیکھنے، سمجھنے اور اُسے خود پر لاگو کرنے کے لئے سب سے بڑا عنصر محبت ہوتی ہے، جو جسم سے ہوتی ہوئی دل پر اثر کرتی اور کو سیراب کرتی ہوئی ادب کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے، ادب سے مراد اخلاقی ملکہ، جو ناشائستہ باتوں سے روکتا ہو یعنی فخوش طبعی۔"

ایک مشہور معقولہ ہے کہ" اگر کسی قوم کو کمزور کرنا ہو تو اس کا نظامِ تعلیم کمزور کرو، قوم خود بخود کمزور ہو جائے گی۔" سو ہم جہاں کتب سے اتنا کچھ سیکھتے ہیں اور ہم نے یہ بھی سیکھا کہ تعلّم کا سلسلہ تب ہی مفید ہوتا ہے، جب اس میں ادب کے خوبصورت موتی ہوں، کتابوں کا ادب ہم کیسے کر سکتے ہیں، آئیے جائزہ لیتے ہیں:

1۔دینی کتب کو حتی الامکان باوضو، قبلہ رو ہو کر مطالعہ کیا جائے، کیونکہ قرآن کریم اور احادیث و فق کی کتب آتی ہیں، جو کہ قرآن پاک کی تشریح و تفسیر ہیں۔

2۔کسی بھی دینی کتب کا مطالعہ کرنے سے قبل جہاں باوضو ہوا جائے، وہیں حمدوثناء کے بعد تعوذ و تسمیہ سے آغاز کیا جائے۔

3۔کتب چاہے دینی ہوں یا دنیاوی، اسے لا پرواہی سے استعمال نہ کیا جائے، بلکہ حفاظت سے رکھا جائے تاکہ ہمارے بعد آنے والی نسل جہاں تک ممکن ہو اس سے فائدہ حاصل کرے۔

4۔ کتب کے لئے مخصوص جگہ بنائیے اور حفاظت سے رکھئے، اگر کسی سے مستعار کتاب لی ہو تو اسے بھی سنبھال کر رکھیں۔

5۔ کتاب کا کوئی بھی صفحہ اگر شہید ہو جائے تو اسے ضائع نہ کریں، بلکہ ہو سکے تو بائیڈنگ کروائیں تاکہ محفوظ ہو سکے ورنہ ٹھنڈا بکس میں ڈال دیجئے۔

6۔جان بوجھ کر نا سمجھ بچوں کے اگے درسی کتب/مطالعہ کتب نہ رکھئے۔

7۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ دنیاوی کتب ردّی میں فروخت کر دی جاتی ہیں، ایسا کرنے کی بجائے کسی مستحق بچے کو دے دی جائیں تو بہتر ہوگا۔

بہرحال حتی الامکان کوشش کی جائے کہ کتابوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے، کیونکہ یہ ایک قوم کا اثاثہ ہوتی ہیں۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کا فرمانِ عالیشان ہے:"جو دل اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، اس دل کے اوپر والے حصّے کو ایسے خالی یعنی نیچے کر دیا جائے گا، جیسے تھیلے کو اُلٹا کیا جاتا ہے اور تھیلے کے اندر کی چیزیں بکھر جاتی ہیں۔( مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 8، صفحہ 667، رقم 124 تا125)

یہ تمام اچھی باتیں سیکھنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے ماحول سے وابستہ ہوجائیے، ان شاءاللہ عزوجل محبت و ادب کی صفات پیدا ہوں گی۔

اللہ تعالی ہمیں ان صفات سے آراستہ فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم