صحابہ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
1 year ago

دنیا میں بہت سارے افراد گزرے ہیں جو صاحب کمال افراد کی صحبت ومعیت میں  رہے۔ ان میں سے بعض کے نام ونشان باقی رہے جبکہ دیگر کے نام و نشاں دنیا سے بالکل ہی ختم ہوگئے لیکن قربان جائیے سیدالمرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صحبتِ بابرکت پانے والوں کے،یہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے نام ونشان اور فضائل وکمالات رہتی دنیا تک قرآن وحدیث میں ان کی عظمت پر شاہد ہیں۔

قرآن کی رُو سے ہر صحابی جنتی ہے:

پارہ27سورۃ الحدید کی آیت نمبر10 میں فرمایا گیا:لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰)تَرجَمۂ کنز الایمان: تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبہ میں اُن سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

مفسر قرآن مفتی احمد یار خان علیہ الرَّحمہ نورالعرفان میں لکھتے ہیں:ان(صحابہ کرام علیھم الرضوان) کے درجے اگرچہ مختلف ہیں مگر ان سب کاجنتی ہونا بالکل یقینی ہے کیونکہ رب وعدہ فرماچکا ہے۔تمام صحابہ عادل ومتقی ہیں کیونکہ سب سے رب کریم نے جنت کا وعدہ فرمالیا،جنت کا وعدہ فاسق سے نہیں ہوتا۔(نورالعرفان)

فضائل صحابہ بزبان محبوبِ خدا:

صحابہ کرام کی عظمت وشان کے بارے میں چند فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ کیجیے:

(1)میرے اصحاب کو برا بھلا نہ کہو، اس لیے کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردے تو وہ ان کے ایک مد(ایک پیمانہ) کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس مد کے آدھے کو۔(بخاری،ج2؛حدیث3673)

(2)جب اللہ پاک کسی کی بھلائی چاہتا ہے تو اس کے دل میں میرے تمام صحابہ کی محبت پیدا فرمادیتا ہے۔(تاریخ اصبھان،ج1؛ص467،رقم 929)

(3)جو میرے صحابہ کر برا کہے اس پر اللہ کی لعنت اور جوان کی عزت کی حفاظت کرے، میں قیامت کے دن اس کی حفاظت کروں گا۔(ابن عساکر،ج44،ص22)یعنی اسے جہنم سے محفوظ رکھوں گا۔(السراج المنیر شرح جامع الصغیر،ج3،86)

(4)میرے تمام صحابہ میں خیر(یعنی بھلائی)ہے۔(ابن عساکر،ج29،184)

(5)میرے صحابہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میرے بعد ان کو طعن وتشنیع کا نشانہ نہ بنالینا۔ پس جس شخص نے ان سے محبت کی تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے بغض کے سبب ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ایذا پہنچائی تو اس نے ضرور مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی تو ضرور اس نے اللہ پاک کو ایذا پہنچائی تو جس نے اللہ پاک کو ایذا پہنچائی تو قریب ہے کہ اللہ پاک اس کی پکڑ فرمائے گا۔(ترمذی،ج5؛ص463،حدیث3888)

(6) جب تم لوگوں کو دیکھو کہ میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں تو کہو:اللہ پاک کی لعنت ہو تمہارے شر پر۔(ترمذی:حدیث3892) مفتی احمدیار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کے تحت فرماتے ہیں:یعنی صحابہ کرام تو خیر ہی خیر ہیں تم ان کو برا کہتے ہو تو وہ برائی خود تمہاری طرف ہی لوٹتی ہے اور اس کا وبال تم پر ہی پڑتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح؛ج8؛ص344)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں