صحابۂ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
1 year ago

اللہ تعالی نے تمام انبیا علیہم السلام کی قربت و محبت کے لیے امت کے بہترین افراد کا انتخاب کیا، تاکہ وہ افراد انبیائے کرام کی تعلیمات کے بعد میں آنے والے لوگوں تک پہنچائیں اور دین اسلام نے ہمیشہ رہنا ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایسے اصحاب کو پسند فرمایا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اس طریقے ے آگے پہنچائیں کہ وہ تعلیمات ہمیشہ باقی رہیں۔

صحابی کی تعریف:

صحابی وہ خوش نصیب مؤمن ہیں جنہوں نے ایمان اور ہوش کی حالت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا انہیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی پھر ان کا خاتمہ ایمان پر ہوا۔(امیر معاویہ ص ۱۹، مصنف مفتی احمد یار خان )

صحابہ کے فضائل :

قرآن و حدیث میں صحابہ کرام کے لیے بے شمار فضائل ہیں۔

۱۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ- تَرجَمۂ کنز الایمان: اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی ۔( پ ۳۰، سورہ البینہ آیت۸)

یعنی اللہ تعالی اصحاب رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے راضی ہے اور صحابہ کرام بھی اللہ سے راضی ہیں۔

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا، میرا کوئی بھی صحابی جہاں بھی فوت ہوگا تو قیامت کے دن لوگوں کے لیے وہ (صحابہ) قائد اور نور بن کر اٹھے گا۔(جامع ترمذی، جلد ۶، ص ۱۸۰)

۳۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور علیہ الصلوة والسلام نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تو جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤ گے(مشکوة ۶۰۱۷/۲)

میٹھے اسلامی بھائیو تمام صحابہ کر ام اہل خیر و صلاح ہیں اور عادل ہیں، ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر کے ساتھ ان کا ذکر کرنا ) فرض ہے۔(بہار شریعت ص ۲۵۲)

اور کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ کا ہو، کسی صحابی کے رتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔(بہار شریعت جلد۲۵۳)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: تابعین سے لے کر تا قیامت امت کا کوئی ولی کیسے ہی عظیم پایہ ( مرتبہ) کو پہنچے ہر گز ہرگز ان (یعنی صحابہ) میں سے ادنی سے ادنی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، اور ان میں کوئی ادنی نہیں۔(فتاویٰ رضویہ، ج ۲۹،ص ۳۵۷)

اللہ ہمیں صحابہ و اہلبیت کا وفادار رکھے اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں