صحابہ کرام  کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
1 year ago

جن خوش نصیبوں نے ایمان کے ساتھ سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت پائی چاہے یہ صحبت ایک لمحے کے لیے ہی ہو اور پھر ایمان پرخاتمہ ہوا انہیں صحابی کہا جاتا ہے۔

یوں تو تمام ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان عادل متقی ، پرہیزگار اپنے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جان نچھاور کرنے والے اور رضائے الہی کی خوش خبری پانے کے ساتھ ساتھ بے شمار فضائل و کمالات رکھتے ہیں، لیکن ان مقدس حضرات کی طویل فہرست میں ایک تعداد ان صحابہ رضی اللہ عنہم کی ہے جو ایسے فضائل و کمالات رکھتے ہیں جن میں کوئی دوسرا شریک نہیں، اور ان میں سر فہرست وہ عظیم ہستی ہیں کہ جب حضرت سیدنا محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد ماجد حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد ( اس امت کے) لوگوں میں سب سے بہترین شخص کون ہیں؟تو حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمایا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (بخاری ، حدیث 3671، ج 2، ص 522)

یوں تو تمام ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان ہی ہدایت کے درخشندہ ستارے ہیں لیکن خلفائے راشدین اس معاملے میں تمام سے ممتاز و یگانہ ہیں ۔

چنانچہ حدیث پاک میں بھی انہیں خلفائے راشدین فرمایا گیا یعنی ہدایت یافتہ خلفا نیز ہمیں ان کی اتباع کی خصوصی تاکید کی گئی ، چنانچہ

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: علیکم بسنتی و سنۃالخلفا الرشدین ، یعنی میری اور خلفائے راشدین کی سنت کو اختیار کرو(مؤطا امام مالک ، تحت الحدیث۔ 709۔ 3/108)

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان عظمت نشان ہے: لا تسبواصحابی فلوان احد کم انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم ولا نصفیہ ۔ یعنی میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ سوناخیرات کرے تو میرے صحابہ میں سے کسی ایک کے نہ مد کو پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی مُد کے آدھے کو ۔(بخاری ، حدیث 3673۔ ج 2، ص 522)

شارح حدیث حضرت علامہ مظہر الدین حسین زیدانی قدس سرہ النورانی اسی حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں۔ صحابہ کی فضیلت محض رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت اور وحی کا زمانہ پانے کی وجہ سے تھی ، اگر ہم میں سے کوئی ہزار سال عمر پائے اور تمام عمر اللہ پاک کے عطا کردہ احکام کی بجا آوری کرے اور منع کردہ چیزوں سے بچے بلکہ اپنے وقت کا سب سے بڑا عابد بن جائے تب بھی اس کی عبادت رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کے ایک لمحے کے برابر بھی نہیں ہوسکتی۔

(المفاتح فی شرح المصبابیح ، تحت الحدیث،4699۔6/288)

شرف صحابیت کا لحاظ لازم ہے:

صحابیت کا عظیم اعزاز کسی بھی عباد ت و ریاضت سے حاصل نہیں ہوسکتا لہذا اگر ہمیں کسی مخصوص صحابی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں کوئی روایت نہ بھی ملے تب بھی بلا شک و شبہ وہ صحابی محترم و مکرم اور عظمت و فضیلت کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں کیونکہ کائنات میں مرتبہ نبوت کے بعد سب سے افضل و اعلیٰ مقام و مرتبہ صحابی ہونا ہے اور صحابہ کرام کی فضیلت کے لئے یہ ایک ہی آیت کافی ہے۔ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ- رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ، تَرجَمۂ کنز الایمان: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو(پیروی کرنے والے) ہوئے

اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔(التوبہ : 100)۔(پ ۱۱، التوبہ ۱۰۰)

علامہ ابو حیان محمد بن حیان اندلسی علیہ الرحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ- باحسان سے مراد تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان ہیں۔(تفسیر البحر المحیط ۹۶/۵ ، تمت الاول )

صحابی کا تذکرہ بھلائی سے کرو:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو نہایت احتیاط سے بولو۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو فقہا صحابہ میں ایک ممتاز مقام ر کھتے ہیں، آپ ایک موقع پر صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عظمت وفضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرماتے۔ جو شخص راہِ راست پر چلنا چاہے تو اسے چاہیے کہ ان لوگوں کے راستے پر چلے اور ان کی اقتدا اور پیروی کرے جو اس جہاں سے گزر گئے کہ زندوں کے بارے میں یہ اندیشہ موجود ہے کہ وہ دین میں کسی فتنہ اور ابتلا میں مبتلا ہوجائیں اور یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صحابہ کر ام ہیں یہ حضرات امت میں سب سے زیادہ افضل ہیں ساری امت سب سے زیادہ ان کے دل نیکو کار، ان کا علم سب سے زیادہ گہرا، ان کے اعمال تکلف سے خالی ، یہ وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی رفاقت و صحبت اور اقامت و خدمت کے لیے چناتو ان کا فضل و کمال پہنچانو، اور ان کے آثار و طریقوں کی پیر وی کرو اور حتی الوسع ان کے اخلاق اور ان کی سیرت و رَوِش اختیار کرو کہ بے شک یہ لوگ ہدایت مستقیم پر قائم تھے۔

(مشکاة المصابیح ، کتاب الاعتصام ، الحدیث ۱۹۳۱۔۱/۵۷)

ان سب روایات پر نظر رکھتے ہوئے یہ جزم و یقین حاصل ہوتا ہے کہ ان حضرات کی شان بہت اعلٰی و ارفع ہے۔ ان مقدس ہستوں پر اللہ عزوجل کا بے حد فضل و کرم ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ان پاکیزہ نفوس کی محبت دل میں بسائے ہوئے ان کے حالات و واقعات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں اور دونوں جہاں میں کامیابی کے لیے ان کے نقش و قدم پر چلتے ہوئے زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نقش وقدم پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

صحابہ ہیں تاج رسالت کے لشکر

رسو ل خدا تاجدار صحابہ

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں