صحابہ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
1 year ago

صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان بہت بلند وبالا ہے کوئی بھی نماز و رزہ و دیگر نیک اعمال کے ذریعے ان کے مقام و مرتبہ کو ہر گز نہیں پاسکتا۔

حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:(اے لوگو!) تم نماز ، روزہ اور اجتہاد میں صحابہ کرام علیہم الرضوان سے بڑھنا چاہتے ہو۔(یاد رکھو ! ایسا نہیں ہوسکتا ) وہ تم سے بہتر ہیں۔

لوگوں نے عرض کی، اے ابو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اس کی کیا وجہ ہے؟ ارشاد فرمایا: وہ دنیا میں سب سے زیادہ زہد اختیار کرتے اورآخرت میں سب سےبڑھ کر رغبت رکھتے (اس لیے تمہارے اعمال اگر ان سے زیاد ہو بھی جائیں تب بھی اخروی ثواب میں کمی ہی رہے گی۔(بحوالہ مصنف ابن ابی شیبیہ، کتاب الزہد کلام ابن مسعود ج ۸،ص۱۴۲، الحدیث ۳۵)

قرآن پاک اور شان صحابہ :

صحابہ کرام کی فضیلت و مدح میں قرآن پاک میں جا بجا آیاتِ مبارکہ وارد ہوئی ہے، جن میں ان کے حسن و عمل ، حسن اخلاق اور حسن ایمان کا تذکرہ ہے اور انہیں دنیا ہی میں مغفرت اور انعامات اخروی کا مژدہ سنایا گیا ہے جن مقدس مہینوں کے اوصاف حمیدہ اللہ عزوجل خود بیان فرماتا ہے ان کی عظمت ورفعت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے چنانچہ فرمان خدائے ذوالجلال ہے:

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ(۷۴) تَرجَمۂ کنز الایمان:اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی ۔(الانفال : 74)

ایک اور مقام پر فرمایا: رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ، تَرجَمۂ کنزا لایمان:اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔(التوبہ : 100)

احادیث مبارکہ اور فضائل صحابہ :

اللہ عزوجل کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مختلف مواقع پر اپنے پیارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و شان بیان فرمائی، چنانچہ

۱۔ ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے معاملے میرا لحاظ کرنا کیونکہ وہ میری امت کے بہترین لوگ ہیں۔(حلیة الاولیا ۳۱۱/۱)

۲۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سےپوچھا، کون لوگ بہتر ہیں؟

ارشاد فرمایا، بہتر لوگ اس زمانے کے ہیں جس میں ، میں ہوں اس کے بعد دوسرے زمانے کے اور اس کے بعد تیسرے زمانے کے۔(مسلم کتاب فضائل الصحابہ ص ۱۳۷۱ حدیث ۲۵۳۳)

۳۔ ارشاد فرمایا ، اس مسلمان کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی جس نے میرے صحابی کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہو۔(ترمذی باب ماجا فی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ ۴۲۱، ۵)، حدیث ۳۸۸۴

سب صحابہ سے ہمیں تو پیار ہے

ان شآ اللہ دو جہاں میں اپنا بیڑا پار ہے

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں