کسی عام مسلمان کے لیے مطالعہ عقائد اتنا ہی اہم ہے جتنا زندہ رہنے کے لیے سانس لینا ۔کیونکہ عقائد ہی

اسلام کی بنیاد ہیں بلکہ کلمہ طیبہ ہی عقیدے سے شروع ہوتا ہے کہ (لا الہ الااللہ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔جب تک کوئی یہ عقیدہ نہیں رکھتا تو وہ کافر ہے ۔اور اسکو بنیادی معلومات نہیں تو وہ اسکے ایمان کے کمزور ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔عقیدہ ہی وہ شے ہے جسکے کامل ہونے کے بعد اعمال صالحہ کا حکم نافذ ہوتا ہے اور روحانی ترقی حاصل ہوتی ہے ۔سب سے پہلے مسلمان کو عقیدہ توحید کے متعلق بنیادی معلومات اہم ہے کہ وہ شرک کی ہوا سے محفوظ ہو اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ:

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ یعنی جب آپ نے جان لیا کہ قیامت قائم ہوتے وقت نصیحت حاصل کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا تو آپ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں جو علم اور یقین رکھتے ہیں اس پر قائم رہیں کیونکہ یہ قیامت کے دن ضرور نفع دے گا۔(صاوی، محمد، تحت الآیۃ: ۱۹، ۵ / ۱۹۵۷)اور عقائد ہی سے حق و باطل کے مابین واضح فرق ظاہر ہوتا ہے ۔

عقائد کا مطالعہ کس حد تک ضروری ہے آئیے اسکو قرآن پاک کے آیت کے شان نزول سے سمجھتے ہیں،

اللہ پاک کا یہ فرمان: مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤترجمہ کنز الایمان: جو ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو۔ (النحل:106)

شانِ نزول :یہ آیت حضرت عمار بن یاسررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت عمار، ان کے والد حضرت یاسر ، ان کی والدہ حضرت سمیہ، حضرت صہیب، حضرت بلال، حضرت خباب اور حضرت سالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو پکڑ کر کفار نے سخت سخت ایذائیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پھر جائیں (لیکن یہ حضرات اسلام سے نہ پھرے تو) کفار نے حضرت عمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے والدین کو بڑی بے رحمی سے شہیدکر دیا۔ حضرت عمار رَضِیَ اللّہ تَعَالٰی عَنْہُ (ضعیف تھے جس کی وجہ سے بھاگ نہیں سکتے تھے، انہوں ) نے مجبور ہو کر جب دیکھا کہ جان پر بن گئی تو بادلِ نخواستہ کلمۂ کفر کا تَلَفُّظ کردیا ۔ رسولِ کریم ﷺ کو خبر دی گئی کہ حضرت عمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کافر ہوگئے توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ہرگز نہیں ، حضرت عمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سر سے پاؤں تک ایمان سے پُر ہیں اور اس کے گوشت اور خون میں ذوقِ ایمانی سرایت کرگیا ہے۔ پھر حضرت عماررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ روتے ہوئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کیا ہوا؟ حضرت عمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: اے خدا کے رسول! بہت ہی برا ہوا اور بہت ہی برے کلمے میری زبان پر جاری ہوئے۔ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اس وقت تیرے دل کا کیا حال تھا؟ حضرت عمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی ’’دل ایمان پر خوب جما ہوا تھا۔ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شفقت و رحمت فرمائی اور فرمایا کہ اگر پھر ایسا اتفاق ہو تو یہی کرنا چاہیے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۳ / ۱۴۴ملخصاً)اور عقائد ہی سے اللہ تعالیٰ کی توحید ذات و صفات رسالت فرشتے آسمانی کتب اور آخرت کے متعلق معلومات حاصل ہوتی ہے ۔

عقائد اہلسنت کی معلومات سے ہی باطل فتنوں ،فرقوں سے بچنا ممکن ہے ہر سنی کو عقیدہ توحید عقیدہ ختم نبوت عقیدہ آخرت عقیدہ علم غیب پر معلومات بے حد ضروری ہے چاہے اسکا تعلق دنیا کے کسی بھی شعبے سے ہو ان عقائد کا مخالف فرقہ پرست ہے کیونکہ اہلسنت ہی وہ جماعت ہے جو نبی آخر الزماں علیہ تحیۃ و ثنا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریقے پر ہے۔ اور یہ ہی اہل حق اور اہل جنت ہیں ۔