عقیدہ ہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر تمام مذہبی اعمال اور روحانی احوال کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے اور جس عمارت کی اساس باطل ، فاسد اور کمزور ہو تو اس پر تعمیر ہونے والی عمارت کا کیا اعتبار ہوگا ۔ تمام مذہبی اعمال اور روحانی احوال کے لیے عقیدے کا درست ہونا نہایت ضروری ہے ۔ عقیدہ مذہب کے لیے بمزلہ روح اور جان کے ہے اور باقی تمام افعال و اعمال انسانی جسم او ر اعضاءکی مانند ہیں عقیدہ جڑ اور تنے کی مانند ہے اور اعمال و افعال شاخوں کی مانند تو جس درخت کی جڑ ہی خشک ہو اسی کی شاخیں کیسے سر سبز رہ سکتی ہیں ۔ اور اس پر پھل کیسے لگ سکتا ہے ۔ بظاہر انسان جتنا نمازی ، حاجی ، سخی یا پر بیزگار ہو جب تک اس کا عقیدہ درست نہ ہوگا مذکوره اعمال اس کو کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ جب جڑ خشک ہے تو شاخیں کیسے ہری بھری ہو سکتی ہیں ۔

عقیدہ کی تعریف: وہ قلبی تصدیق جو کسی تصور میں یقین کی کیفیت پیدا کردے۔عجیب دور ہے کہ نماز ، روزہ اور دیگر اعمال صالح کی تبلیغ تو بہت کی جاتی ہے لیکن عقیدے کی بات کرنے والے کو فرقہ پرست کہا جاتا ہے ۔ حالانکہ قرآن مجید میں 81 مرتبہ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ الخ (سورۃ مریم :96)فرما کر عقیدہ کو پہلے اعمال كو بعد میں ذکر کیا گیا ہے ۔ پنجگانہ نماز بمعہ تہجد ، اشراق ، چاشت اور اوابین پڑھیں اور سو سال تک پڑھتے رہیں ۔ لیکن اس وقت تک عذاب الہی سے بچ نہیں سکتے جب تک کہ ایمان و عقیده درست نہیں کرلیں گے ۔ کیا اس طرح کے اعمال منافقین کے پاس کم تھے ؟ مگر اس کے باوجود قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ منافقین جہنم کی نچلی تہہ میں ہوں گے ۔ مکان اگر انتہائی خوبصورت سنگ مرمر اور دیگر لوازمات سے مزین ہو لیکن اس کی بنیاد بھی مضبوط نہ ہوتو کسی وقت بھی زمین پر آگرے گا ۔ بنیاد اگر چہ نظر نہیں آتی لیکن مکان کی مضبوطی کا مدار اس بنیاد پر ہوتا ہے ۔ اسی طرح اگرچہ عقیدہ نظر نہیں آتا مگر اعمال صالحہ کے محل کا انحصار عقیدے پر ہی ہے ۔

مندرجہ بالا بحث سے واضح ہوتا ہے کہ عقیدہ دینِ اسلام کی بنیادی اساس اور اصل روح ہے، جس کے بغیر تمام اعمالِ صالحہ بے معنی اور بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔ جس طرح کسی عمارت کی مضبوطی اس کی بنیاد پر منحصر ہوتی ہے اور درخت کی سرسبزی اس کی جڑ پر، اسی طرح انسان کے اعمال کی قبولیت کا دارومدار درست عقیدہ پر ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ سب سے پہلے اپنے عقیدے کو درست اور مضبوط بنائے، کیونکہ صحیح عقیدہ ہی دنیا و آخرت میں کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔